Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • نومنتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا، سنی اتحاد کونسل کا احتجاج

    نومنتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا، سنی اتحاد کونسل کا احتجاج

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا جس کے بعد اجلاس کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا، حلف برداری کے بعد سنی اتحاد کونسل کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی۔

    ایجنڈے کے مطابق افتتاحی اجلاس کے آغاز پر تلاوت کلام پاک، حمد وثنا اور قومی ترانہ پڑھا گیا، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا۔

    وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی ہفتے کو دن 2 بجے تک جمع ہوں گے اور کاغذات کی اسکروٹنی تین بجے ہوگی۔

    قومی اسمبلی کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں 282ممبران قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور رول آف ممبر پر دستخط کیے جس میں نامزد اسپیکر سردار ایاز صادق، ڈپٹی اسپیکر، آصف زرداری، بلاول بھٹو، نواز شریف، نامزد وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور لیگی رہنما مریم اورنگزیب بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھیں۔

    آزاد اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے ماسک پہن کر ایوان میں احتجاج کیا، آزاد امیدوار پی ٹی آئی کے جھنڈے بھی ایوان میں لے آئے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین نے اسپیکر نشست پر کھڑے ہوکر بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی۔

    اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے کاغذات نامزدگی

    اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے۔

    قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے سردار ایاز صادق اور ملک محمد عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی سیکریٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔

    قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے لیے سید غلام مصطفی شاہ اور جنید اکبر کے کاغذات نامزدگی سیکریٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس سیکیورٹی

    پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کی گئی۔ ریڈ زون میں داخلے کے لیے سرینا چوک، نادرا چوک اور ڈی چوک والے راستے بند ہیں جبکہ ریڈزون میں داخلے کے لیے مارگلہ روڈ کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

    ریڈزون جانے والے راستوں پر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات ہے، گاڑیوں کی مکمل چیکنگ کے بعد ریڈزون میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

  • پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات؛ اسپیکراور وزیراعظم کیلیے ووٹ مانگ لیے

    پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات؛ اسپیکراور وزیراعظم کیلیے ووٹ مانگ لیے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان سے قومی اسمبلی میں اپنے نامزد کردہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے لیے ووٹ مانگ لیے۔

    عمرایوب، اسد قیصر اور جنید اکبر پر مشتمل پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمرایوب نے واضح کیا کہ ووٹ مانگنے آیا ہوں اور یہ ہمارا حق ہے۔

  • آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی کے مترادف ہے، نواز شریف

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی کے مترادف ہے، نواز شریف

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

    قائد ن لیگ نواز شریف قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے لیے پارلیمنٹ پہنچ گئے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے متعلق سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایسا خط وہ لکھ سکتے ہیں یہ ان کا وطیرہ ہے۔

    نواز شریف نے مزید کہا کہ کوئی سیاسی جماعت ایسے خط نہیں لکھ سکتی۔ کیا یہ ملک دشمنی نہیں۔ آپ خود ہی نتیجہ اخذ کرلیں۔قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں آج نومنتخب ارکان پارلیمنٹ حلف لیں گے۔
    دوسری جانب شہباز شریف نے بھی تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائفر کے بعد آئی ایم ایف خط سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چاہتے ہیں خدانخواستہ پاکستان برباد ہو جائے، آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لیے تحریک انصاف نے خط لکھا۔

  • نئے وزیراعظم کا انتخاب اتوار کو ہوگا

    نئے وزیراعظم کا انتخاب اتوار کو ہوگا

    اسلام آباد: نئے وزیراعظم کا انتخاب تین مارچ بروز اتوار کو ہوگا۔

    اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق وزیراعظم کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی دو مارچ بروز ہفتہ کو دن دو بجے تک جمع ہوں گے۔کاغذات کی اسکروٹنی اسی روز تین بجے ہوگی جس کے بعد لسٹ جاری کردی جائے گی اور نئے قاید ایوان کا انتخاب تین مارچ بروز اتوار کو ہوگا۔

  • یہ اسمبلی نہیں کوئی اور ہی چیز ہے، فضل الرحمٰن کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

    یہ اسمبلی نہیں کوئی اور ہی چیز ہے، فضل الرحمٰن کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

    اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام ( جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ صدر، وزیراعظم کے لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی تو نہیں کوئی اور چیز ہے، مجھے تو اسمبلی 5 سال پورے کرتی نظر نہیں آرہی۔

    صحافی کے اس سوال پر کہ کوئی آزادی مارچ کریں گے اور کیا پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دیکھیں اور انتظار کریں۔ آپ کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس: مظاہر نقوی کو 10 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کا ریکارڈ پیش

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس: مظاہر نقوی کو 10 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کا ریکارڈ پیش

    اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں نجی بینک کے مینجر نے جسٹس (ر) مظاہر نقوی کو پانچ پانچ کروڑ روپے کی ادائیگی کے بینک ڈرافٹ کا ریکارڈ پیش کردیا۔

    چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے زیر صدارت جوڈیشل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نجی بینک کے منیجر نے پانچ پانچ کروڑ روپے مالیت کے بینک ڈرافٹ کا ریکارڈ کونسل میں پیش کردیا۔

    کونسل کی کارروائی میں گواہ چوہدری شہباز کو بھی پیش کیا گیا۔ کونسل کے اراکین نے گواہ سے سوال کیا کہ آپ کی مرحوم اہلیہ بسمہ وارثی کا کوئی کیس مظاہر نقوی کی عدالت میں کبھی زیر سماعت رہا؟ اس پر چوہدری شہباز نے کہا کہ بطور جج لاہور ہائی کورٹ مظاہر نقوی کی عدالت میں میری اہلیہ کا چیک ڈس آنر کا کیس چلتا رہا۔

    کیپیٹل اسمارٹ سٹی اور لاہور اسمارٹ سٹی کے مالک زاہد رفیق نے حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور کہا کہ میری آٹھ کمپنیاں ہیں، گزشتہ چار دہائیوں سے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہوں، لینڈ پروائیڈر راجہ صفدر کے ذریعے مظاہر نقوی سے ملاقات ہوئی۔ کونسل نے ادائیگی سے متعلق سوال کیا تو زاہد توفیق نے بتایا کہ ہم نے ادائیگی راجہ صفدر کو کی۔

    مظاہر نقوی سے ملاقاتوں کے سوال پر زاہد توفیق نے کہا کہ دو بار مظاہر نقوی کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی، مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو جانتا ہوں، ہماری کمپنی نے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے مظاہر نقوی کے بیٹوں کی لاء فرم کو ادا کیے، مظاہر نقوی کی صاحب زادی کو ایمرجنسی میں لندن میں پیسوں کی ضرورت تھی جس پر راجہ صفدر نے مجھے ادائیگی کرنے کا کہا، میں نے دبئی میں اپنے ایک دوست کے ذریعے مظاہر نقوی کی بیٹی کو پانچ ہزار پاؤنڈز لندن بجھوائے لندن بھیجی گئی پانچ ہزار پاؤنڈز کی رقم ہمیں واپس نہیں کی گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا راجہ صفدر نے کبھی کسی اور جج سے آپ کی ملاقات کرائی؟ جس پر زاہد توفیق نے انکار کیا اور کہا کہ 16 اپریل 2019ء کو پانچ سو مربع گز کے دو پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو دیے، فی پلاٹ کی مالیت 54 لاکھ روپے تھی، صرف دس فیصد رقم ادا ہوئی، دونوں پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو ٹرانسفر ہو چکے ہیں۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدقہ تو اپنی جیب سے دیا جاتا ہے راجہ صفدر دوسروں کی جیب سے پیسے نکال کر صدقہ کیوں بانٹتا تھا؟

    اس پر زاہد توفیق نے بتایا کہ ہم دوستوں کو فائدہ دیتے رہتے ہیں، اسمارٹ سٹی لاہور میں سو مربع گز کے دو کمرشل پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو دیے، فی پلاٹ کی مالیت 80لاکھ روپے تھی، مظاہر نقوی کے بیٹوں نے دونوں کمرشل پلاٹس بیچ دیے اور کتنے میں بیچے؟ علم نہیں، مظاہر نقوی کے ایک بیٹے کی شادی میں شرکت کی تھی۔

    پراسیکیوٹر عامر رحمان نے کہا کہ الائیڈ پلازا کے بارے میں مظاہر نقوی کے خلاف ریکارڈ سے کچھ ثابت نہیں ہوا۔

    چیئرمین جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مظاہر نقوی صاحب چاہیں تو اپنے وکیل کے ذریعے گواہان پر جرح کر سکتے ہیں یہ بات آج دوبارہ کہہ رہے ہیں،اگر کوئی پیش نہ ہوا تو یہ سمجھا جائے گا، دفاع کیلئے کچھ ہے ہی نہیں۔

    کونسل نے اجلاس کی کارروائی کل تک ملتوی کردی اور زاہد توفیق کو ہدایت دی کہ وہ کل متعلقہ دستاویزات پیش کریں۔

  • بلوچستان اسمبلی : اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بلامقابلہ منتخب

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے امیدوار عبدالخالق اچکزئی اسپیکر اور پیپلز پارٹی کی امیدوار اسپیکر غزالہ بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔

    بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے رائے شماری ہونی ہے تاہم ن لیگ کی جانب سے اسپیکر اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی نشستوں پر امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد کسی اور کی جانب سے کاغذات جمع نہیں کرائے گئے جس پر یہ دونوں امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔

    یاد رہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے لیے کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے پیپلزپارٹی سے غزالہ گولہ نے کاغذات نامزدگی فارم جمع کرائے تھے۔
    مقررہ وقت تک دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی فارم جمع نہیں کروایا جس کے بعد دونوں رہنما بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

  • پختونخوا اسمبلی؛ سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم اسپیکر، ثریا بی بی ڈپٹی اسپیکر منتخب

    پختونخوا اسمبلی؛ سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم اسپیکر، ثریا بی بی ڈپٹی اسپیکر منتخب

    پشاور: پختونخوا اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل مکمل ہوگیا، جس میں خفیہ رائے شماری کے بعد سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم اسپیکر اور ثریا بی بی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئے۔

    سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم سواتی نے 89 ووٹ لیے جب کہ ان کے مقابل اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار احسان اللہ میاں خیل نے 17 ووٹ لیے۔نو منتخب اسپیکر خیبرپختونخوا بابر سلیم سواتی نے اسپیکر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ مشتاق غنی نے ان سے حلف لیا۔

    بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کے لیے رائے شماری ہوئی اور ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد سنی اتحاد کونسل کی امیدوار ثریا بی بی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئیں۔ انہوں نے 87 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مقابل پی ٹی آئی پی کے امیدوار ارباب وسیم خان نے 19 ووٹ حاصل کیے۔ ڈپٹی اسپیکر کے لیے مجموعی طور پر 106 ووٹ ڈالے گئے، جو کہ تمام درست پائے گئے۔

    خیبرپختونخوا کے نئے اسپیکربابرسلیم سواتی نے صوبائی اسمبلی کی نومنتخب 22 ویں ڈپٹی اسپیکر سے حلف لیا۔

    قبل ازیں صوبائی اسمبلی کا اجلاس مشتاق غنی کی زیر صدارت ہوا، جس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے رائے شماری ہونی تھی، تاہم جے یو آئی کی جانب سے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ دوران ووٹنگ پی ٹی آئی کارکنوں نے کچھ دیگر ارکان کو ووٹ ڈالتے دیکھ کر نعرے بازی کی۔

    اسپیکر کے لیے سنی اتحاد کونسل کے بابر سلیم سواتی کا مقابلہ اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار پی پی پی کے احسان اللہ میاں خیل سے جب کہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے سنی اتحاد کونسل کی ثریا بی بی کا مقابلہ اپوزیشن پی ٹی آئی پی کے امیدوار ارباب وسیم سے تھا۔

    پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے مسلم لیگ ن کی جانب سے ڈاکٹر عباد اللہ کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ کے منصب کے لیے انتخاب کل ہوگا، اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ علی ا مین گنڈاپور آزاد حیثیت سے وزیراعلیٰ کا انتخاب لڑیں گے۔

    صوبائی اسمبلی میں اراکین کی تعداد 118 ہو گئی ہے، جس میں سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی تعداد 87 جب کہ 6 ارکان آزاد حیثیت سے اسمبلی میں موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 25ہے۔

    بعد ازاں اسپیکر نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس کل تک کے لیے ملتوی کردیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب کل جمعہ کے روز صبح 10 بجے ہوگا۔ اس سلسلے میں کاغذات نامزدگی آج شام 5 بجے تک داخل اور رات 11 بجے تک واپس لیے جا سکتے ہیں۔

  • نومنتخب اراکین کی حلف برداری کیلیے قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب

    نومنتخب اراکین کی حلف برداری کیلیے قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب

    اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکٹریٹ نے نومنتخب اراکین کی حلف برداری کے حوالے سے اجلاس کل طلب کرلیا۔

    قومی اسمبلی کے سیکریٹری طاہر حسین کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد آئین کے آرٹیکل 91 کی شق دو کے تحت اجلاس بلانے کی منظوری دی ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا 29 فروری کی صبح 10 بجے پارلیمںٹ ہاؤس میں ہوگا۔
    واضح رہے کہ نگراں وزیراعظم نے صدر مملکت کو دو بار قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری ارسال کی تھی جسے عارف علوی نے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا تھا۔

  • سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستیں لینے سے انکار کیا ہے، چیف الیکشن کمشنر

    سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستیں لینے سے انکار کیا ہے، چیف الیکشن کمشنر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں جاری مخصوص نشستوں کے کیس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مخصوص نشستیں لینے سے انکار کردیا۔

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے۔

    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے اعتراض کیا کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز فیصلہ کیا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کیا جائے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ ہم نے تمام جماعتوں کو نہیں بلایا صرف انہیں بلایا جو مخصوص نشستوں کی حق دار ہیں۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ تمام جماعتیں اس کیس میں پارٹی نہیں ہیں، سنی اتحاد کونسل کی چار درخواستیں کمیشن کے سامنے ہیں، الیکشن کمیشن نے ہماری درخواستوں کو التوا میں رکھا تاکہ باقی جماعتوں کی درخواستیں بھی آ جائیں، اس کے بعد ہماری درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لیا گیا، سپریم کورٹ میں ہم نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، لیکن وہاں الیکشن کمیشن حکام نے کہا تھا کہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گے، سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انتخابی نشان لینے سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ متاثر نہیں ہو گی، لیکن اب ہمارے خدشات اور پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کے وکیل نے سپریم کورٹ میں مانا تھا کہ اگر ہم سے نشان لے لیا گیا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ، جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ، سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے۔

    ممبر اکرام اللہ نے استفسار کیا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا؟

    بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے۔

    ممبر خیبرپختونخوا نے اس پر کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے طریقہ کار پر عمل کرنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے جسے الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ اگر ایس آئی سی کو مخصوص نشستیں نہ بھی دی جائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی جائیں، اگر کوئی سیاسی جماعت اسمبلی میں 20 جنرل نشستیں حاصل کر پائی اسے 30 جنرل نشستوں کے حساب سے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، آئین میں درج ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد کیا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس آرٹیکل کی یہ تشریح بھی ہو سکتی ہے کہ مخصوص نشستیں صرف اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن کے ذریعے اسمبلیوں میں آئی، سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، قانون میں یہ تو نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔

    ممبر کمیشن بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں نہ مخصوص نشستیں تقسیم کریں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونا کوئی شرط نہیں، مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا۔

    اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دے کر کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا اور کہا ہم جنرل الیکشن نہیں لڑے اور نا ہی ہمیں مخصوص نشستیں چاہیئیں، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہیئیں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے سنی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو سنی اتحاد کونسل نے ایسے کسی خط کے حوالے سے نہیں بتایا۔

    کیس میں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔