Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 2 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • جنرل باجوہ اور جنرل فیض بیٹھ کر ہم سے قانون سازی کرواتے تھے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اُس دورمیں قانون سازی کیلیے آئی ایس آئی کے میس میں جاتے تھے اور جنرل باجوہ اور جنرل فیض بیٹھ کر ہم سے قانون سازی کرواتے تھے۔

    پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کیلیے صرف سیاستدان نہیں باقی پلئیرز بھی ہیں، سارے عناصر کو استحکام کیلیے اکٹھے ہو کر بیٹھنا چاہیے۔

    خواجہ آصف نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں قانون سازی کیلیے (ہم) آئی ایس آئی کے میس میں جاتے تھے اور جنرل باجوہ اور جنرل فیض بیٹھ کر ہم سے قانون سازی کرواتے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ مجلس عاملہ اور ایف اے ٹی سے متعلق بھی قانون سازی کرواتے تھے اور یہ دونوں قانون سازیاں فوج اور آئی ایس ایس کی مداخلت کے باعث ہوئی تھیں۔

    لیگی رہنما نے کہا کہ اس ماحول میں اور کیا ہو سکتا تھا جو بگاڑ پیدا ہوا، بھگت رہے ہیں۔

    اپنی گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ صدر مملکت نے دو بار آئین کی خلاف ورزی کی ہے، عارف علوی پر آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔

    لیگی رہنما نے نو مئی کے حوالے سے کہا کہ نو مئی کو ریاست کو چیلنج کیا گیا، اس میں ملوث لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

  • شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کی توثیق

    شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کی توثیق

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی نے شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کی توثیق کر دی۔

    پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شہباز شریف کے نام کی بطور وزیراعظم توثیق کی گئی، اجلاس کی صدارت پارٹی قائد نواز شریف نے کی۔ نومنتخب ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی۔

    ن لیگ اور دیگر اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی ہوگا۔ ن لیگ کے نامزد وزیراعظم شہباز شریف پنجاب ہاؤس میں نو منتخب ارکان کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔ اس موقع پر اتحادی جماعتیں شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب کرنے کے فیصلے کی تائید کریں گی۔
    اجلاس میں 29 فروری کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ نواز شریف ذاتی مصروفیات کے باعث عشائیہ میں شرکت نہیں کریں گے۔

  • خاتون جج دھمکی کیس : عمران خان کو اسلام آباد کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    خاتون جج دھمکی کیس : عمران خان کو اسلام آباد کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے خاتون جج دھمکی کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

    سول جج مرید عباس خان نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی عدالت طلبی کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے متعلق دائر درخواست منظور کرلی اور بانی پی ٹی آئی کو خاتون دھمکی کیس میں طلبی کے نوٹس جاری کردیا۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت نے کیس کی سماعت 3 اپریل تک کیلئے ملتوی کردی۔
    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر وکلا نے بانی پی ٹی آئی کی عدالت پروڈکشن کی درخواست دی تھی۔

  • خواہش ہے ہر وزیر اعظم، ہر اسمبلی ہر سینیٹ مدت پوری کرے، نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد

    خواہش ہے ہر وزیر اعظم، ہر اسمبلی ہر سینیٹ مدت پوری کرے، نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد

    اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں اسحاق ڈار اور شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔

    نواز شریف کے ساتھ حمزہ شہباز بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ اس موقع پر نواز شریف نے حکومت کے مدت پوری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام بڑا مسئلہ نہیں حکومت معاشی حالات کو بہتر کرے گی معاشی حالات سے سارے معاملات جڑے ہوئے ہیں معیشت ٹھیک ہوگی تو سب ٹھیک ہوگا۔

    نواز شریف نے مزید کہا کہ خواہش ہے ہر وزیر اعظم، ہر اسمبلی اور ہر سینیٹ اپنی مدت پوری کرے۔

  • نگراں وزیراعظم نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کیلیے صدر کو دوبارہ ایڈوائس بھیج دی

    نگراں وزیراعظم نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کیلیے صدر کو دوبارہ ایڈوائس بھیج دی

    اسلام آباد: 16 ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی سیشن بلانے میں صدر مملکت کے اعتراض پر نگراں وزیر اعظم نے صدر کو دوبارہ ایڈوائس ارسال کردی ساتھ ہی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو اجلاس طلب کرنے کا اختیار دے دیا۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بجھوائی گئی سفارشات میں آئین کے تحت اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ آئین کے تحت انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس طلب کرنا آئینی ڈیڈ لائن ہے، صدر مملکت آئین میں درج ڈیڈ لائن کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں۔

    دریں اثنا صدر مملکت کی جانب سے اجلاس نہ بلانے پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے متبادل انتظامات مکمل کرلیے گئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی نگراں وزیر اعظم کو سمری ارسال کی ہے جو کہ وزارت پارلیمانی امور کے دی گئی ہے تاہم یہ سمری واپس سیکرٹریٹ کو موصول ہوگئی۔

    نگراں وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو آئینی ڈیڈ لائن گزرنے پر اجلاس بلانے کا اختیار دے دیا ہے جس پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئینی ڈیڈ لائن پوری ہونے پر اجلاس بلانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کا نوٹی فکیشن بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جا ری کیے جانے کا امکان ہے۔

  • امیدواروں کے نوٹی فکیشن کے بعد ہاؤس مکمل ہوچکا، صدر باعزت طریقے سے اجلاس بلائیں، اسحاق ڈار

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ممبران کے نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد ہاؤس مکمل ہوچکا، صدر کے پاس قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اختیار اب نہیں رہا لہذا وہ عزت سے اجلاس بلا لیں اور آئین شکنی سے گریز کریں۔

    سینیٹر اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئین سے کھیل کھیلا جا رہاہے، صدر علوی قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلاکر ایک بار پھر آئین شکنی کررہے ہیں، آئین کا آرٹیکل بڑا واضح ہے کہ 21 روز میں اسمبلی اجلاس طلب کیا جائے لیکن صدر نے اعتراض لگا کر سمری واپس کردی کہ ابھی ہاؤس مکمل نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہاؤس مکمل تب ہوتا ہے جب ممبرز کا نوٹیفکیشن ہوچکا ہو، جب نوٹیفکیشن ہی نہیں ہوا تو ہاؤس کے نامکمل ہونے کا کیا جواز ہے، اسپیکر نے ممبرز سے حلف لینا ہے، صدر کو چاہیے تھا باعزت طریقہ سے اجلاس سمن کرتے، 21 دن بعد صدر کے پاس قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اختیار اب نہیں رہا، قومی اسمبلی کا اجلاس خودبخود 29 فروری کو ہوگا۔

    سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لئے پانچ روز کا وقت ہوتا ہے، ہوسکتا ہے صدر صاحب اجلاس بلائیں اس سے ان کا اچھا تاثر جائے گا۔ وفاقی حکومت نے صدر کو ان کے اعتراضات پر جواب بھجوا دیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے بتایا کہ آج ہماری میٹنگ ہوئی ہے، چند دن پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جو طے ہوا تھا یہ اسکا تسلسل ہے، ہم قومی اسمبلی اور بلوچستان کا ملکر فیصلہ کریں گے، ہم ملکر قومی اسمبلی میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کریں گے معاہدہ ہوچکا ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں بھی کل حلف برداری کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ملکر وزیر اعلی اور دیگر عہدیداروں کا فیصلہ کرے گی، ہم چاہتے ہیں جے یو آئی سمیت سب کو ساتھ لیکر چلیں ، مسائل اتنے گہرے ہیں کہ ہم سب ملکر کوشش کریں گے تو ان سے نکل سکیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کل مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہے جس میں اہم فیصلے ہوں گے، نواز شریف اس اجلاس کی شہباز شریف کے ساتھ صدارت کریں گے، اجلاس کے بعد نواز شریف کی کچھ اپنی مصروفیات ہیں ، وہاں چلے جائیں گے، شہباز شریف کل رات اتحادیوں کو عشائیہ دیں گے۔

  • ملک چلنے والا نہیں، نظام بیٹھ جائے گا، حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتے، فضل الرحمان

    ملک چلنے والا نہیں، نظام بیٹھ جائے گا، حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتے، فضل الرحمان

    پشاور: جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم کسی حکومت میں شامل نہیں ہوناچا ہتے، ہم نے نظام سے باہررہنے کا فیصلہ کیا ہے، ملک چلنے والا نہیں نظام بیٹھ جائے گا۔

    پشاور میں مفتی محمود مرکز میں صوبائی مجلس شوری، امرا، نظماء، اراکین اسمبلی، امیدواران، تحصیل ناظمین بشمول قبائلی اضلاع کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی نظام میں مداخلت امیدواروں تک پہنچ چکی ہے، ملک چلنے والانہیں نظام بیٹھ جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ جو نظام کے اندر ہیں وہ روئیں گے، ہم کسی حکومت میں شامل نہیں ہوناچا ہتے، ہم نے نظام سے باہررہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ 2018میں بھی ہم نے احتجاج بھی کیا اور اسمبلیوں میں بھی تھے، ہم اسی پالیسی پرکھڑے ہیں دیگر نے پالیسی بدل لی ہے، انہوں نے کہا کہ میں 1965ء سے الیکشن دیکھ رہاہوں اورمہم ہی میں نتائج دکھائی دے جاتے ہیں، ملک چلنے والا نہیں ہے نظام بیٹھے جائے گا۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری پارلیمانی سیاست کرنے یانہ کرنے کافیصلہ مرکزی جنرل کونسل کرے گی، پارلیمانی نظام سے لاتعلقی تک ہم نظام کاحصہ رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم صدارتی الیکشن میں حصہ نہیں بنیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف سے رابطوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی والے آئے توکیا انہیں واپس بھیج دیتے، پی ٹی آئی کے ساتھ آغاز اچھا ہوا ہے، ہم بندوق نہیں دلیل کی سیاست کررہے ہیں، دلیل سے مطمئن ہوتے اورکرتے ہیں، ہمارے اورپی ٹی آئی کے درمیان دیوارنہیں پہاڑ حائل ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی جیت سے 9 مئی کابیانیہ دفن ہوگیا ہے، اب باغی وزیر اعلی بنے گا۔ آئی ایم ایف کو خط لکھنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے جیسے اقدامات انھیں اپنے امورمیں ملوث نہیں کرنا چاہیئں۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کسی سیاستدان کے جیل میں رہنے کامخالف ہوں، عمران کی گرفتاری کے وقت ہی کہہ دیا تھاکہ مخالف جیل میں ہے یہ قانونی معاملہ ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے عام انتخابات میں دھاندلی پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے پہلے مجھے جمعیت کاحجم سکڑنے کی اطلاع مل چکی تھی، دھاندلی کے کیسے کیسے طریقے اپنائے گئے، ہرپولنگ اسٹیشن پردھاندلی کااپنا اپنا الگ طریقہ کارہے، الیکشن گزرگیا تو تھریٹس بھی ختم ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کسی پارلیمانی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے اور نہ ہی اپوزیشن لیڈرکاعہدہ لیں گے۔ مولانا نے کہا کہ گورنر کاعہدہ آئینی ہے اگر تبدیل کیاجانا ہوا تو ہوجائے گا اس پر سیاست نہیں کرناچاہتے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اسلام اور اسلامی قانون سازی کی ہماری بات سے کسے تکلیف ہوتی ہے کہ ہمیں باہرکیا گیا، 9/11کے بعد ہماری تحریک نے امریکا کے خلاف جذبات پیدا کیے، افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کی وجہ سے بھی ہمیں پارلیمانی طورپرنقصان پہنچایا گیا، اور فلسطینی قیادت ک ساتھ قطرمیں اظہاریکجہتی کی ہمیں سزادی گئی۔

  • ہماری پارٹی جیتی ہوئی ہے پھر بھی ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دی جارہیں، عمران خان

    ہماری پارٹی جیتی ہوئی ہے پھر بھی ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دی جارہیں، عمران خان

    راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلا کر بالکل ٹھیک کیا، پارٹی جیتی ہوئی ہے مگر پھر بھی ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دی جارہیں۔

    اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے بڑی کوئی چوری نہیں ہوسکتی اور ان لوگوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا ہے، آئی ایم ایف کو لکھا جانے والے خط کو ملک سے غداری قرار دیا جا رہا ہے حالاں کہ فیٹیف کی قانون سازی کی ان ہی لوگوں نے مخالفت کی تھی اور مطالبہ کیا جارہا تھا کہ ان کے کیسز ختم کیے جائیں۔

    خط سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا ہے کہ میں جیل سے کوئی بھی چیز لکھ کر باہر نہیں بھیج سکتا آئی ایم ایف کو لکھا جانے والا خط میں نے ڈکٹیٹ کروایا ہے، خط ڈکٹیٹ کروانے کے بعد سے اب تک پارٹی رہنماؤں سے ملاقات نہیں ہوئی آج پارٹی رہنماؤں سے ملاقات ہوگی پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد آج آئی ایم ایف کو خط بھیج دیا جائے گا۔

    عمران خان نے کہا کہ خط میں یہی لکھا جائے گا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا، تمام معیشت دان یہ کہتے ہیں کہ وسائل پیدا کیے بغیر قرض پر ملک نہیں چل سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ساری قوم کہہ رہی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے، 20 نشستوں والے کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے، سارا ملک انتخابات میں ان کے خلاف کھڑا ہوا ہے، چیف الیکشن کمشنر کا استعفی ضرور بنتا ہے چیف الیکشن کمشنر نے ہمیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں دی، نگران حکومتیں بھی ہمارے خلاف لگائی گئی ہیں، الیکشن کمیشن انتخابات کے بعد بھی دھاندلی میں مصروف ہے اس سے کوئی امید نہیں ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلا کر بالکل ٹھیک کیا، پارٹی جیتی ہوئی ہے مگر مخصوص نشستیں نہیں دی جارہیں، الیکشن میں پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی، پارٹی کو ختم کرنے کے لیے نو مئی کا استعمال کیا گیا، ظلم سے پارٹی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ سب سے مضبوط جماعت بن گئی۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ شریف خاندان کا جنازہ نکل گیا ہے ہفتے کے روز دوبارہ احتجاج کی کال دینے لگے ہیں۔

    صحافی نے سوال کیا کہ آپ فضل الرحمن کو ڈیزل اور اچکزئی کو غدار کہتے تھے آج اپنے فائدے کے لیے ان سے رابطے بڑھا رہے ہیں؟ اس پر عمران خان نے کہا کہ ہم نون لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف ہیں جنہیں دھاندلی کر کے جتوایا گیا، ہم دھاندلی کر کے ہرائی جانے والی جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ اگر محمود خان اچکزئی آپ کے ساتھ مل جائیں تو کیا پھر وہ غدار نہیں ہوں گے؟ تاہم عمران خان اس سوال کا جواب دیے بغیر چلے گئے۔

  • نئے صدر مملکت کا انتخاب: الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا

    نئے صدر مملکت کا انتخاب: الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا

    کراچی: الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کردیا۔

    الیکشن کمیشن یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا، آئین کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے گا، مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00 بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تمام خواہش مند امیدواران آج سے ہی کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنرز سے حاصل کر سکتے ہیں، صدارتی انتخاب کے لیے مطلوبہ الیکٹورل کالج 29 فروری کو مکمل ہوگا۔
    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 روز کے اندر کروانا لازم ہے۔

  • مریم نواز ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب، عہدے کا حلف اٹھالیا

    مریم نواز ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب، عہدے کا حلف اٹھالیا

    لاہور: ن لیگ اور اتحادیوں کی مشترکہ امیدوار مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ منتخب ہو گئیں اور انہوں نے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ مریم نواز ملک کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر نتائج کا اعلان کیا۔ مسلم ن لیگ اور اتحادیوں کی مشترکہ امیدوار مریم نواز220 ووٹ لے کر وزیراعلٰی پنجاب منتخب ہوئیں۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور واک آؤٹ کے باعث رانا آفتاب کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔اسپیکر کے اعلان کے بعد مریم نواز نے قائد ایوان کی نشست سنبھال لی۔

    اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا ۔ ن لیگ نے مریم نواز اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے رانا آفتاب احمد خان کو وزیراعلیٰ پنجاب کا امیدوار نامزد کیا تھا۔آج مزید دو ارکان پنجاب اسمبلی سردار خضر حسین مزاری اور طاہر قیصرانی نے حلف اٹھا لیا۔ طاہر قیصرانی نے آئی پی پی اور سردار خضر مزاری نے مسلم لیگ ن کو جوائن کیا۔

    رانا آفتاب نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنا چاہی مگر اسپیکر نے اجازت نہیں دی۔ ملک احمد نے کہا کہ آج کا اجلاس صرف وزیراعلیٰ کے چناؤ کے لیے ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے اراکین بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

    مریم نواز نے اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لانے کا کہا جس پر 6 لیگی رہنما اپوزیشن کو منانے پہنچ گئے۔ مریم نواز نے کہا کہ اسپیکر صاحب اپوزیشن کو بولنے کی اجازت دیدیں، آپ ہار ہیں یا جیت رہے ہیں مقابلہ کرنا جمہوریت کا حسن ہے۔

    پنجاب اسمبلی کا ایوان اس وقت 327ارکان پر مشتمل ہے۔ ن لیگ کو 224 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے پاس 103 ارکان ہیں۔ قائد ایوان کے لئے 186 ارکان کی اکثریت حاصل کرنا تھی۔