Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 3 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • صدر نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری واپس بھیج دی، اسپیکر نے اجلاس طلب کرلیا

    صدر نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری واپس بھیج دی، اسپیکر نے اجلاس طلب کرلیا

    اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے مخصوص نشستوں سے متعلق نگراں وزیراعظم انوار الحق کی ایڈوائس واپس بھیج دی جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعرات کو بلالیا ہے۔

    صدرمملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔ صدر مملکت نے سمری وزیراعظم ہاؤس اور وزارت پارلیمانی امور کو واپس بھجوا دی۔

    ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 91 کی کلاز ٹو کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلی افسران اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر علوی کی جانب سے سمری پر دستخط نہ کرنے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے فیصلہ کیا کہ صدر کے سمری مسترد کرنے کے باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو ہوگا۔ اسپیکر راجہ پرویزاشرف نے آئین کے ارٹیکل 91کی شق 2کے تحت 29فروری کی صبح 10 بجے اجلاس طلب کیا۔

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے 26فروری کو صبح دس بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری صدر مملک عارف علوی کو ارسال کی تھی۔

    آئین پابند کرتا ہے کہ انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس لازمی بلایا جائے اور آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو لازمی بلا نا پڑے گا۔

    اگر 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اسی دن حلف کے بعد نئے اسپیکر کا شیڈول جاری کیا جائے گا پھر یکم مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کروائے جائیں گے اور دو مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہوگا جس کے بعد اسی دن ڈپٹی اسپیکر کا بھی چناؤ کر لیا جائے گا۔

    اسی طرح، تین مارچ کو وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل ہوگا، 4 مارچ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا الیکشن کرایا جائے گا اور 9 مارچ کو صدر کا انتخاب الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی 29 فروری کو لازمی بلانا پڑے گا۔
    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29فروری کو اسپیکر آئینی طور پر خود اجلاس بلا سکتا ہے۔

  • نگراں وزیراعظم نے تمام سرکاری کام روک دیے، سمریاں منظوری کے بغیر واپس

    نگراں وزیراعظم نے تمام سرکاری کام روک دیے، سمریاں منظوری کے بغیر واپس

    اسلام آباد: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے تمام کاموں کو روکتے ہوئے منظوری کے لیے اپنی پاس آنے والی سمریاں واپس بھیج دیں۔

    تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے الیکشن کا مرحلہ مکمل ہونے اور حکومتی سازی کے مراحل تقریبا مکمل ہونے کے بعد اب تمام سرکاری امور روک دیے ہیں۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ تمام کام اور سمریوں پر فیصلے اب آنے والی حکومت کرے گی۔ انوار الحق کاکڑ نے منظوری کیلیے آئی ہوئی تمام سمریاں واپس بھی بھیج دیں اور کہا کہ ہم صرف نئی حکومت کی حلف برداری کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • نگراں وفاقی وزیرتعلیم مدد علی سندھی مستعفی

    نگراں وفاقی وزیرتعلیم مدد علی سندھی مستعفی

    اسلام آباد: نگران حکومت کےآخری دنوں میں وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی ہوگئے۔

    نگران وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مدد علی سندھی نے استعفیٰ دے دیا،صدر مملکت نےوزیراعظم کی ایڈوائس پروزیر تعلیم کا استعفی منظور کرلیا۔

    مدد علی سندھی کو بطور وفاقی وزیر تعلیم و تربیت ذمے داریوں سے فوری طور پر سبکدوش کردیا گیا ہے۔

    کابینہ ڈویژن کی جانب سے مدد علی سندھی کے استعفی کی منظوری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

  • مریم نواز کا خاتون لیگی رہنما کا ہاتھ جھڑکنے پر فیصل واوڈا کی کڑی تنقید

    مریم نواز کا خاتون لیگی رہنما کا ہاتھ جھڑکنے پر فیصل واوڈا کی کڑی تنقید

    کراچی: سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے خاتون لیگی رہنما عظمی کاردار سے حقارت آمیز رویہ اختیار کرنے پر انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    سماجی روابط کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر انہوں نے مریم نواز کو ’’بزار 2‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ ’’میاں صاحب کی اس عبرت ناک سیاسی حالت کے بعد، بجائے اللہ کا ڈر ہو بزدار 2 کی اکڑ اور حقارت تو ایسی ہے جیسے پاکستان میں ڈالر 200 روپے کا، پیٹرول 150روپے، روٹی 10 روپے کی بجائے 5 روپے کی ہے‘‘۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ بزدار 2 صرف 98 ووٹوں سے جیتی ہیں اور اگر اس کے بھی قانون اور آئین کے ٹھیکیداروں نے ڈبے کھول دیے تو پھر پنجاب اسمبلی میں نہیں رائے ونڈ کے محل میں ہی ایسی حرکت ہو سکتی ہے

    فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ’’یہ ہے عوام کو IF You Love Me I Love You Too کہنے والوں کا اصل چہرہ، اللہ تعالی اس ملک اور پنجاب کی عوام پر رحم کرے‘‘۔

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کے کیس کی سماعت کل ہوگی

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کے کیس کی سماعت کل ہوگی

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواست کو کل سماعت کیلیے مقرر کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کی درخواست پر اوپن سماعت کرنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کا پانچ رکنی بینچ کل سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

    الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کر دی۔ جس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کرے گا۔
    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو کل کیلیے نوٹس جاری کردیا۔

  • بلوچستان میں حکومت سازی کیلیے آپ نے بہت تاخیر کردی، ڈار کا غفور حیدری کو جواب

    بلوچستان میں حکومت سازی کیلیے آپ نے بہت تاخیر کردی، ڈار کا غفور حیدری کو جواب

    اسلام آباد: جے یو آئی نے بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے ن لیگ سے رجوع کیا تاہم ن لیگ نے تاخیر سے رجوع کرنے پر جے یو آئی سے معذرت کرلی۔

    اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں حکومت سازی پر مشاورت کی گئی۔ جے یو آئی کی جانب سے ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری موجود تھے جب کہ ن لیگ کی جانب سے اسحاق ڈار نے نمائندگی کی۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ جے یو آئی اور ن لیگ کم از کم بلوچستان میں تو مل کر حکومت بنا سکتے ہیں تاہم اس پر ن لیگی رہنما اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ مل کر چلا جائے لیکن مولانا آپ نے بہت دیر کر دی، چار دن سے آپ سے رابطہ کر رہے تھے لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ن لیگ نے اب پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا معاہدہ کر لیا ہے، ن لیگ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والی ہے۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ جے یو آئی کے ساتھ ہمارا پرانا ساتھ ہے، ہم گرم سرد موسم میں ساتھ چلے ہیں، جے یو آئی کی پیشکش کے حوالے سے اعلیٰ قیادت کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • ن لیگ کو 20، پی پی 13، ایم کیو ایم کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان

    ن لیگ کو 20، پی پی 13، ایم کیو ایم کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان

    اسلام آباد: تیرہ سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہوگئیں، ن لیگ کو 20، پی پی 13، ایم کیو ایم کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے جب کہ پی ٹی آئی کی 27 مخصوص نشستوں کا مستقبل الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے۔

    مخصوص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہوئی تیرہ جماعتوں میں جماعت اسلامی، جے یو آئی ف، تحریک لبیک، اے این پی، آئی پی پی، مسلم لیگ ضیاء پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس شامل ہیں، مسلم لیگ ق کو بھی مخصوص نشستوں کے حصول میں مشکلا ت درپیش ہیں۔

    اسی طرح پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے ارمان پر بھی پانی پھر گیا، مرکزی مسلم لیگ، نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکیں۔
    جن جماعتوں کو مخصوص نشستیں ملیں گی ان میں مسلم لیگ ن کو قومی اسمبلی میں 16 خواتین اور 4 اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے پیپلز پارٹی کو 11 خواتین اور 2 خواتین کی مخصوص نشستیں ملنے کا عمل متوقع ہے۔

    ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی میں خواتین کی 4 اور ایک اقلیتی نشست ملنے کاامکان ہے، پی ٹی آئی کی 27 مخصوص نشستوں کا مستقبل الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، الیکشن کمیشن کی صوابدید پر خواتین کی 23 اور 4 اقلیتی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملیں گی۔

  • دستور اور جمہوریت سے بےنیاز ہوکر نظمِ ریاست چلانے پر ملک بحرانوں کی لپیٹ میں آیا، بیرسٹر گوہر

    دستور اور جمہوریت سے بےنیاز ہوکر نظمِ ریاست چلانے پر ملک بحرانوں کی لپیٹ میں آیا، بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے اور عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا، پنجاب اور مرکز میں مضبوط حکومت سازی کا آئینی و جمہوری حق دینے کا مطالبہ کردیا۔

    ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق چیئرمین تحریک انصان بیرسٹر گوہر خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل دستور کی مکمل بالادستی اور جمہوری اقدار و روایات کے ازحد احترام سے جڑا ہے، دستورِمملکت اقتدار و اختیار کی ملکیّت عوام کو سونپتا ہے جو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے یہ اختیار بروئے کار لاتے ہیں، ریاست اور عوام کے مابین اس مقدس رشتے کو نیچا دکھا کر بطور ریاست ہمارے لیے کسی بھی خیر کی توقع عبث ہے۔

    تاریخ گواہ ہے جب بھی دستور اور جمہوریت سے بےنیاز ہوکر نظمِ ریاست چلانے کی کوشش کی گئی، ملک بحرانوں کی لپیٹ میں آیا اور حادثات نے ہماری دہلیز پر دستک دی، آج بطور ریاست ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہ ہم سے نہایت سنجیدگی اور ہوش مندی کا متقاضی ہے۔

    بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جھوٹے، من گھڑت اور جعلی مقدمات میں جیل میں ناحق قید کیا گیا،تحریک انصاف سے بلّے کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، تحریک انصاف کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی اور قدم قدم پر آئین و قانون کی دھجیاں اڑا کر انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ تمام ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک انصاف کو سونپے گئے واضح اور فیصلہ کن عوامی مینڈیٹ پر کھلی نقب زنی ہر لحاظ سے عوام کے ووٹوں کی بے حرمتی اور دستور و جمہوریت کی پامالی کے مترادف اور پاکستان کے مفاد سے متصادم ہے۔

    الیکشن کمیشن کی قابلِ مذمت سہولت کاری سے انتخابی نتائج میں مجرمانہ ردّ و بدل کے ذریعے عوام کی منتخب اکثریت کو جبراً اقلیّت میں بدلنے کا اقدام پر لحاظ سے تباہی کا نسخہ ہے۔

    بیرسٹر گوہرخان نے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عوام کے جائز مینڈیٹ کو غیر قانونی طور پر عوام کے مسترد شدہ سیاسی گروہوں میں بانٹ کر انہیں بطور حکمران ملک پر مسلّط کیے جانے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ عوامی مینڈیٹ کو بلڈوز کرنے کی روش ترک کرکے فی الفور فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کیے جائیں اور تحریک انصاف کی چھینی گئی نشستیں لوٹائی جائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار کیلیے غیرآئینی و غیر قانونی سیلیکشنز پر اصرار کی بجائے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا، پنجاب اور مرکز میں مضبوط حکومت سازی کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف بہرصورت عوام کے مینڈیٹ کی نگہبانی کا فریضہ سرانجام دے گی اور عوام کے ووٹ کی حرمت کے تحفظ کیلیے ہر سطح پر پوری قوت سے آواز بلند کرے گی۔

  • سپریم کورٹ: جوڈیشل کونسل کو مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی

    سپریم کورٹ: جوڈیشل کونسل کو مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی اور کہا ہے کہ جب کونسل کارروائی شروع کردے تو استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ پر کارروائی ختم نہیں ہوسکتی۔

    سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری رکھنے سے متعلق وفاقی حکومت کی اپیل پر سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی۔ کیس میں آج عدالتی معاونین اور اٹارنی جنرل نے دلائل دیے۔

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر کوئی جج سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی شروع ہونے کے بعد درمیان میں مستعفی ہو جائے تو کیا ہوگا؟

    عدالتی معاون اکرم شیخ نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا انحصار جج کے استعفے سے نہیں ہونا چاہیے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ بھارت میں کلکتہ ہائی کورٹ کی خاتون جج دوران انکوائری ریٹائر ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی جاری رہی تھی۔

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اگر ایک جج کے خلاف ریفرنس آئے اور سپریم جوڈیشل کونسل نے نوٹس نہ دیا ہو تو کیا وہ ختم ہو جائے گا؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سارہ مسئلہ چیف جسٹس کے بطور چیئرمین ریفرنس ٹیک اپ نہ کرنے سے بنا ہے، ججز کے خلاف شکایت نمٹانا صرف چیئرمین کا نہیں بلکہ کونسل کا کام ہے، پچھلے دنوں بھی چیف جسٹس نے کہا کہ 100 سے زیادہ شکایت زیر التواء پڑی ہیں۔

    اکرم شیخ نے کہا کہ جب کونسل اجلاس بلانا چیئرمین کا اختیار ہے تو ذمہ داری بھی چیئرمین پر ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے دو اہم نکات ہیں، ایک نکتہ یہ کہ ایک بار کونسل شکایت پر نوٹس کرچکی تو جج کے استعفے یا ریٹائرمنٹ سے ختم ہو جائے گی؟ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جج کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد نئے سرے سے ریفرنس ٹیک اپ ہوسکتا ہے؟

    اکرم شیخ نے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ جج ریٹائرڈ ہو جائے اور 10 سال بعد کوئی شکایت اٹھا کر اس کے خلاف کارروائی کردی جائے۔

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ عافیہ شہربانو کیس جج کے استعفے یا ریٹائرمنٹ کا جھگڑا نہیں ہے، عافیہ شہربانو کیس میں ایک جج کی ریٹائرمنٹ پر اس کے کیخلاف شکایت غیر مؤثر ہوجانے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے، اب مدعا یہ ہے کہ جب کونسل شکایت غیر مؤثر قرار دے چکی تو کیا کیا جائے؟

    عدالتی معاون اکرم شیخ نے کہا کہ کیس کے فریقین اور میرٹس پر بات نہیں کروں گا، بعدازاں عدالتی معاون اکرم شیخ کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    دوسرے عدالتی معاون خواجہ حارث نے کہاکہ جج کی ریٹائرمنٹ یا استعفے کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی بے معنی ہوجاتی ہے، ضروری نہیں کہ کوئی جج اسی وجہ سے استعفیٰ دے کہ اس پر لگے الزامات سچ ہیں، جج اپنی تضحیک برداشت نہ کرسکنے پر بھی استعفی دے سکتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا جج کو اپنے استعفے کی وجوہات بیان نہیں کرنی چاہئیں؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ اگر تو قانون جج کو استعفے پر وجوہات بتانے کا پابند بناتا ہے تو دینا لازم ہے، آرٹیکل 209 کا مقصد جج کو عہدے سے برطرف کرنا ہے، جب ایک جج عہدے پر ہے ہی نہیں تو کونسل کی کارروائی کیسے ہوسکتی ہے؟ اگر جج ریٹائرڈ یا مستعفی ہوچکا ہے تو کونسل صدر کو سفارش کیا کرے گی؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک دفعہ شروع کی گئی کارروائی کیا ایک دم سے ختم کردیں؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ مثال کے طور پر 11 تاریخ کو جج استعفی دے جائے اور 12 تاریخ کو کونسل کارروائی کرے تو جج تو موجود ہی نہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 209 شق 5 میں درج ہے کہ جج عہدے پر ہو یا نہیں کونسل کارروائی کرسکتی ہے، جج کے استعفے یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں صرف صدر کو سفارش والا حصہ ختم ہو جائے گا، جج کے خلاف شکایت پر انکوائری تو لازم ہوگی، نتیجہ کیا ہوگا یہ بعد میں دیکھا جائے گا، کیا جج نہیں چاہے گا کہ خود پر لگے الزامات سے بری ہوکر گھر جائے؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کے تحت سزا یافتہ شخص انتقال کر جائے تو اس کی سزا ختم ہوجاتی ہے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل فیصلہ کرکے کہ اس نے جج کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو اسے کون روک سکتا ہے؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ کونسل کو کاروائی سے روک سکتی ہے، سپریم کورٹ نے افتخار محمد چوہدری سوگ شوکت عزیز صدیقی کیس میں کونسل کو کارروائی سے روکا تھا، اگر کوئی جج جرم کرے تو عام قوانین کا نفاذ اس پر بھی ہوتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر کوئی ایس ایچ او جج کے خلاف مقدمہ درج کرے گا تو کیا وہ جج آزادانہ فیصلہ دے سکے گا؟

    اس دوران جسٹس مسرت ہلالی نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ عدالتی معاون ہیں یا وکیل صفائی؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ تمہت تو مجھ پر کوئی اور ہے مگر میں عدالتی معاون ہوں، ہمیشہ ایک ہی موقف رہا ہے کہ جو آئین و قانون میں درج ہے اس سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ بعدازاں عدالتی معاون خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے دلائل میں کہا کہ جج کے دوران سروس کیے گئے مس کنڈکٹ پر کارروائی کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کا ہی اختیار ہے عدلیہ،عوام اور حکومت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتی ہے عدلیہ بنیادی حقوق کی ضامن ہے اس لیے اسے آزاد ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کے لیے ججز کا احتساب لازم ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر احتساب سے اجتنات برتا جائے تو اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی، عدلیہ کی آزادی کے لیے متحرک ہونا چاہیے، آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف انکوائری کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے، ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کریں تو ضروری نہیں کہ ان کی برطرفی کی سفارش کی جائے، اگر کوئی جج ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تو اسکا علاج ممکن ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن بیماریوں کا علاج ممکن ہے ان کی بنیاد پر کونسل جج کو کچھ عرصے کی رخصت دے سکتی ہے ضروری نہیں برطرف کرے، وقت کی پابندی نہ کرنے پر جج کے خلاف شکایت ہو تو کونسل برطرفی کے بجائے تنبیہ کر سکتی ہے، کونسل کے سامنے شکایت آ جائے تو اس پر کوئی نہ کوئی رائے دینا لازم ہے، جج ریٹائرمنٹ کے بعد چیف الیکشن کمشنر ،شریعت کورٹ کے ججز یا ٹریبیونلز جیسے آئینی عہدوں پر مقرر ہوتے ہیں، ضروری ہے کہ جج کے اوپر لگے الزام پر کونسل اپنی رائے دے تاکہ آئینی عہدوں پر تعیناتی ہوسکے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے لیکن اس احتساب سے سپریم کورٹ کا وقار کم نہ ہو، ججز کے خلاف کارروائی کوئی اور ادارہ نہیں کرسکتا ، جج کے خلاف کارروائی اس کے حاضر سروس ہونے کے دورانیے سے متعلق شکایت پر ہو سکتی ہے، عوامی اعتماد کے لیے سپریم جوڈیشیل کونسل کو شفافیت سے کام کرنا چاہیے۔

    جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ مثال موجود ہے کہ ایک جج کے خلاف آرٹیکل 209 کی کارروائی شروع کی گئی اور ان کے استعفیٰ پر ختم کر دی گئی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ معاملہ 2019ء کا ہے تو اٹارنی جنرل آفس نے 5 سال تک کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی جج کے خلاف کارروائی دوبارہ کرنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ کونسل کا ہوگا۔

    بعدازاں اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہوگئے۔ عدالت نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا جو سنادیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جب سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ پر کارروائی ختم نہیں ہو سکتی۔

    یہ فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا گیا جس میں عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیل مشروط طور پر منظور کرلی، فیصلے میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے اختلاف کیا۔

    واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف آڈیو لیک اسکینڈل کی سنوائی پر استعفی دے دیا تھا جس پر حکومت نے ان کے خلاف جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری رکھے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

  • پنجاب میں ڈیجیٹائزیشن، ایئرایمبولینس، تعلیم، امن وامان کے منصوبے شروع کریں گے، مریم نواز

    پنجاب میں ڈیجیٹائزیشن، ایئرایمبولینس، تعلیم، امن وامان کے منصوبے شروع کریں گے، مریم نواز

    لاہور: پنجاب کی پہلی نامزد وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے تمام 297 حلقوں کو اضلاع کے طور پر لیں گے اور ڈیجیٹائزیشن کے تحت آئی ٹی سٹیز، صحت کا نظام، تعلیم، امن و امان، ایئرایمبولینس پروگرام سمیت دیگر بڑے منصوبے شروع کریں گے تاکہ 5 سال بعد پنجاب میں ترقی اور خوش حالی ہو۔

    جاتی امرا لاہور میں نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے پہلے اجلاس میں تمام اراکین کو خوش آمدید کہتی ہوں اور کامیابی حاصل کرکے اسمبلی میں پہنچنے پر مبارک باد دیتی ہوں، مسلم لیگ(ن) کو صوبائی اسمبلی میں بڑی اکثریت ملی ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد صوبائی اسمبلی میں منتخب ہوگئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم پنجاب کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک مشکل الیکشن تھا، 16 ماہ کی حکومت کے بعد جب مشکل فیصلے کرنے پڑے، جھوٹ اور پروپیگنڈے کا دور دورہ تھا لیکن اس کے باوجود واضح مینڈیٹ دیا، جس پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سب اراکین اسمبلی عہد کریں گے کہ آج سے پنجاب کے نئے عہد کا آغاز ہوگا، جس کی بنیاد نواز شریف نے 80 میں رکھی تھی اور شہباز شریف نے پنجاب میں عوام کی خدمت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور راستہ چھوڑا ہے اور سب کا تعاون ہوگا تو ہم بھی خدمت کے نئے ریکارڈز قائم کریں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ میں بہت عاجزی سے یہ بات کرتی ہوں کہ آج کل میڈیا پر بھی بات ہوتی ہے کہ پاکستان اور پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کا موقع دیا ہے، ابھی نامزد وزیراعلیٰ کا اعزاز ہے لیکن یہ بہت بڑا اعزاز ہے، میں اس کو پاکستان اور پنجاب کی ہر ماں، بیٹی، ہر بہن، ہر بچی، یہاں موجود تمام خواتین اراکین کے نام کرتی ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ پچھلے 5 سال میں 2018 سے 2022 تک کی حکومت میں پنجاب میں سوتیلے کا سلوک کیا گیا ہے اور نظر انداز کیا گیا ہے، سڑکوں بنی تھی وہ ٹوٹی ہوئی ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں کوڑے کے انبار نہیں لگے ہوں، ایک ایک فائل، ایک ایک تعیناتی اور تبدیلی پر کرپشن تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے مفت علاج اور ادویات کی سہولت عوام سے واپس لی گئی، 2015 یا 2016 میں نواز شریف نے پاکستان کا پہلا صحت کارڈ شروع کیا، جس کو احسن انداز میں چلایا اور اس میں کوئی کرپشن کی شکایت نہیں ملی، صحت پروگرام میری ذمہ داری تھی۔

    مریم نواز نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو مفت علاج فراہم کیا، مفت آپریشن کی سہولت دی، کارڈیک اور کینسر سے متعلق آپریشن کی سہولت فراہم کی، اسی صحت کارڈ میں پچھلے 5 سال میں وہاں پر کرپشن کی نئی داستانیں رقم ہوئی اور کئی جگہوں پر اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنایا گیا۔

    نامزد وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے لیے چیلنجز بہت زیادہ ہیں، 5 سال بہت کم ہیں لیکن ہمیں کام بہت زیادہ کرنا ہے، جس کے لیے جامع پروگرام بنایا ہے، جس کی تفصیلات سب کو دی جائیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت، بلدیاتی حکومتوں کا شعبہ ہو، ہر شعبے میں اتنی بدانتظامی ہے، جس کو ٹھیک کرنے کے لیے 5 سال کے 24 گھنٹے بھی کم ہے۔

    ستھرا پنجاب

    انہوں نے کہا کہ آج ہم ستھرا پنجاب پروگرام پر پریزنٹیشن لے رہے تھے، جس کے مطابق ہمارے دیہاتوں میں بہت مسائل ہیں، لوگوں کو سیوریج، پانی اور صفائی کا مسئلہ ہے، اس کے لیے ہم جامع پروگرام لے کر آ رہے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پنجاب کے 40 اضلاع لیکن 297 حلقوں کو اضلاع کے طور پر لینا ہے تاکہ 5 سال کے بعد پنجاب میں کوئی گلی ایسی نہ رہے جو ٹوٹی ہو، کوئی جگہ ایسی نہ ہو جہاں پانی کھڑا ہو، کوئی ایسا شہر یا گاؤں نہ ہو جہاں ہم صاف پانی مہیا نہ کر سکیں، کوئی ایسا گاؤں نہ ہو جہاں صفائی کا بہترین نظام نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بہت مشکل اور چیلنجنگ کام ہے اور ہمیں اس کو ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہے اور ان شااللہ ہم کریں گے، جس کے لیے جامع لائحہ عمل بنایا ہے۔

    محفوظ پنجاب

    مریم نواز نے کہا کہ محفوظ پنجاب بھی میرے لیے اہم منصوبہ ہے، سیفٹی سٹی پروجیکٹ پنجاب کے تمام شہروں تک لے کر جائیں گے، کیمروں کی تنصیب سے امن و امان کی بہتری میں بہت مدد ملتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تھانوں کا نظام بہتر بنانا ہے، خواتین کے لیے ایف آئی آر کی رجسٹریشن اور ریسپانس ٹائم کو بہتر کرنا ہے، خواتین کے لیے تھانوں میں بہتری لے کر آنی ہے، ماڈل پولیس اسٹیشن بنانے ہیں، ماڈل ویمن پولیس اسٹیشن بنانے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک منیجمنٹ بہت بڑا مسئلہ ہے، لاہور میں اس وقت یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کا ہر شہری کو سامنا کرنا ہے، جس کے لیے بہترین نظام لے کر آنا ہے تاکہ لاہور اور دیگر شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ بہتر ہو۔

    ڈیجیٹائزیشن، 5 سال میں کم از کم 5 آئی ٹی سٹیز

    نامزد وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دنیا ڈیجیٹائزیشن کی طرف چلی گئی ہے، دنیا میں آئی ٹی انقلاب آ رہا ہے، ہمارے پڑوسی ملکوں بھارت اور بنگلہ دیش میں نظام آئی ہے، بنگلہ دیش میں بڑا کامیاب ڈیجیٹل پروگرام ہے، اسی طرح بھارت میں بنگلور میں انٹرنیٹ سٹیز بنی ہیں اور پوری دنیا اس طرف جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پورے پاکستان میں ایک بھی آئی ٹی سٹی نہیں ہے، ہم ان شااللہ 5 سال میں پنجاب میں 5 آئی ٹی سٹیز بنا کر جائیں گے لیکن کوشش ہوگی اس سے زیادہ ہو۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سٹیز بنائیں گے اور بیرونی کمپنیوں کی سرمایہ کاری لے کر آئیں گے، اس پر کام شروع ہوگیا ہے، نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیں گے تاکہ وہ اسٹارٹ اپس شروع کرسکیں، ان کو حکومت کی طرف سے جو تعاون ممکن ہو فراہم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ میں پنجاب کے نوجوان بچوں اور بچیوں کے لیے ای کامرس، ای مرچنڈائز، ایم کامرس شروع کرنا چاہتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک اور پروگرام شروع کریں گے کہ 10 سروسز، جن میں ایل ڈی اے کی چند سروسز، میرج، ڈیتھ، پراپرٹی اور برتھ سرٹیفکیٹس کی ہوم ڈلیوری شروع کر رہے ہیں، عوام کے دروازے پر دستک ہوگی اور یہ سہولت فراہم کی جائے گی، پائلٹ پروجیکٹ لاہور میں شروع کرنے جا رہے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ یہ بہت بڑا کام ہے لیکن جب فیصلہ کرلیا اور جب ہم نے کمر باندھ لی تو ہم ان شااللہ مکمل کرکے چھوڑیں گے۔

    صحت

    نامزد وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صحت کا نظام بہت بڑا چیلنج ہے، اس پر ہم نے پچھلے چند دنوں میں بہت کام کیا ہے، بیسک ہیلتھ یونٹ(بی ایچ یو)، رورل ہیلتھ سینٹر، پی ایچ کیوز، ایمرجنسیز اور ڈسپنسریز کی بحالی، جہاں ڈاکٹرز نہیں ہیں وہاں ڈاکٹروں کی ذمہ داریاں لگانا، نرسز کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے میں ہمیں عملے کی کمی کا سامنا ہے، اس پر میری پوری توجہ ہوگی کیونکہ ڈیمانڈ زیادہ ہے لیکن کمی ہے، ان کے لیے تربیتی انسٹیٹوٹس بنانا اور دوسرے ممالک میں بھی مواقع ہیں تاکہ ان کو تربیت دے کر باہر بھیجا جائے تاکہ ان کو اچھی تنخواہ ملے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کو ری ڈیزائن کرکے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج، مفت سرجریز، مفت ادویات کے لیے کرپشن فری پروگرام بنا کر دینے کی پوری کوشش ہوگی تاکہ کسی کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہیں تو ان کو بہترین علاج میسر ہو جو امیر لوگوں کو نجی ہسپتالوں میں میسر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کڈنی، لیور، دل اور کینسر کی بیماریوں کا علاج بہت مہنگا ہے اور اسپیشلائزڈ ہے، اس کے لیے پوری کوشش ہوگی کہ ہر شہر میں چاہے موجودہ ہسپتال یا الگ سے اسپیشلائزڈ ہسپتال بنانے کی ضرورت ہوگی تو 5 سال کے بعد پنجاب کا کوئی شہر ایسا نہ رہے کہ ان بیماریوں کا علاج نہ ہوتا ہو اور سہولت مہیا ہوگی۔

    نامزد وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہیپاٹائٹس اور ٹی بی جیسی بیماریوں کی آگاہی مہم چلائیں گے تاکہ یہ ایڈوانس اسٹیج تک نہ پہنچے، بچوں میں اسٹنٹڈ گروتھ اتنی زیادہ ہے، خصوصی بچے یا افراد کے حوالے سے ٹاسک دیا ہے کہ ہر شہر میں ایک اسپیشل چلڈرن کی سہولت ہونی چاہیے، جس میں آٹزم شامل ہونا چاہیے، آٹزم ایک ایسی بیماری ہے، جس کی مختلف اقسام ہے لیکن لوگوں کو پتا نہیں ہوتا ہے کہ آٹزم ہے، پھر اس کا علاج اور ضروریات اتنی مہنگی ہے ایک امیر آدمی کے لیے مشکل ہوتا ہے اور علاج کرواسکتے ہوں تو اس کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حد تک یہ سہولت ہر شہر میں فراہم کریں گے، یہ سہولت سوائے چند ایک جگہ کے اور کہیں نہیں ہے۔

    ایئرایمبولینس

    مریم نواز نے کہا کہ خدانخواستہ کوئی ایمرجنسی یا حادثہ ہوتا ہے تو اس ضلع میں ہنگامی علاج دستیاب نہیں ہے اور قریب ترین شہر یا بہتر طبی سہولت تک منتقل کرنے کے لیے ہمارے پاس ایئرایمبولینس کا نظام نہیں ہے، پوری دنیا میں 60 منٹ کا گولڈن آور رول ہوتا ہے، جس کے اندر 60 منٹ کے اندر اگر کوئی ایمرجنسی ہوئی ہے اور مریض کو منتقل کرنا ہے تو ہمارے پاس بدقسمتی سے سہولت نہیں ہے۔

    ایئرایمبولینس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہم پنجاب میں پہلا ایئرایمبولینس شروع کرنے جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ موٹرویز میں ریسکیو 1122 کا ایمبولینس کا نظام نہیں ہے، پنجاب پہلا صوبہ ہوگا جو موٹرویز کے اوپر بھی ایمبولینس سروس شروع کرے گا اور میں نے بہت محدود وقت دیا ہے کہ وہ اس میں پورا کرکے آئیں گے۔