وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایئر لائن کا یورپ کے لیے فلائٹ آپریشن اس کے منافع بخش روٹس کے بند ہونے کے بعد دوبارہ بحال کیا گیا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کی جائے تاکہ اس کا بہتر انتظام ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے پاکستان کی شناخت ہے جس سے ہم محروم ہو گئے تھے، اور اب اس کا دوبارہ یورپ کے لیے آپریشن بحال ہونا ایک مثبت قدم ہے۔
وزیر دفاع نے قومی ایئر لائن کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ماضی میں یہ ایئر لائن اوورسیز پاکستانیوں کی میتیں بغیر کسی چارجز کے لے کر آتی تھی، لیکن فلائٹ آپریشن کے بند ہونے سے اوورسیز پاکستانیوں کو اس سہولت سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اب دوبارہ یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی سے سبز ہلالی پرچم یورپ کی فضاؤں میں لہرائے گا۔
خواجہ آصف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک غیر ذمہ دار بیان نے قومی ایئر لائن کو شدید نقصان پہنچایا، اور انہوں نے ایسے بیانات دینے والوں کے احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کی بحالی ایک اہم سنگ میل ہے جو پاکستان کے شہریوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشی کی بات ہے۔
یہ اقدام قومی ایئر لائن کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور یورپ سمیت دنیا کے دیگر حصوں کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
]]>ایران میں کاسمیٹک سرجری کا رجحان دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے، خاص طور پر ایرانی خواتین میں ناک کی سرجری کرانے کا رجحان نمایاں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں کاسمیٹک سرجریوں میں اضافے کی وجہ ساتھیوں کا دباؤ، میڈیا کا اثر اور ثقافتی اصول ہیں، جو لوگوں کو جسمانی تبدیلیوں کے لیے تحریک دیتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایران میں جمالیاتی سرجری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس کا اثر نوجوانوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
]]>یہ نیزہ کانسی سے بنا تھا اور اسے لکڑی کے ڈنڈے کے آخر میں فٹ کیا جاتا تھا۔ اس نایاب اور قدیم چیز کی دریافت 2024 میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک اہم ترین آثار قدیمہ کی دریافتوں میں شمار کی گئی۔ جو فٹزپیٹرک نے بتایا کہ جب وہ یہ شے دیکھ رہے تھے، تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور یہ لمحہ ان کے لیے بہت خاص تھا۔ انہیں ہمیشہ سے تاریخ میں گہری دلچسپی رہی ہے، اور وہ اکثر East Lomond نامی پہاڑی قلعے میں کھدائی کرتے رہتے ہیں۔
یہ دریافت اس وقت ہوئی جب جو فٹزپیٹرک، Aberdeen یونیورسٹی کے آثار قدیمہ کے شعبے کے سربراہ پروفیسر گورڈن نوبل کے ساتھ کھدائی کر رہے تھے۔ جب دونوں نے یہ نایاب شے دیکھی، تو ان دونوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے، اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے۔ یہ نوادر جولائی 2024 میں دریافت کیا گیا، اور اس مہم میں عام افراد اور یونیورسٹی کے طالب علموں نے بھی حصہ لیا تھا۔
اس کھدائی کا مقصد دوسری یا تیسری صدی عیسوی سے لے کر سنہ 700 تک کے گمشدہ بستیوں کے آثار دریافت کرنا تھا۔ جو فٹزپیٹرک نے بتایا کہ کئی ریٹائرڈ افراد اس طرح کی مہمات کا حصہ بنتے ہیں تاکہ خود کو فٹ رکھ سکیں، تاہم نوجوان بھی ان مہمات میں شامل ہوتے ہیں، اور میڈیا بھی ایسے پروگرامز کو بہت پُرکشش سمجھتا ہے۔
]]>2024 کے دوران، اے ایس ایف نے 29 کلوگرام ہیروئن، 57 کلوگرام چرس، اور 80 کلوگرام آئس ہیروئن کی مختلف ممالک کو اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنائیں۔ ان منشیات کی مالیت تقریباً 11 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد ہے۔ یہ منشیات مسافروں کے سامان یا جسم میں چھپائی گئی تھیں، اور ان کی برآمدگی اے ایس ایف کے مشاق مشین آپریٹرز کی مہارت کا غماز ہے، جنہوں نے جدید تکنیکی وسائل اور سخت نگرانی کے ذریعے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔
اسی دوران، اے ایس ایف نے 2024 میں 145 کلوگرام سونا بھی برآمد کیا۔ یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اے ایس ایف نے صرف منشیات کی اسمگلنگ ہی نہیں بلکہ قیمتی دھاتوں کی اسمگلنگ کو بھی روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔
اس کے علاوہ، منی لانڈرنگ کی روک تھام میں بھی اے ایس ایف کا کردار اہم رہا۔ 2024 کے دوران، اے ایس ایف نے مختلف ائیرپورٹس پر کارروائیاں کرتے ہوئے 837 ملین روپے مالیت کی بیرونی ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ ان کرنسیوں میں امریکی ڈالر، یورو، سعودی ریال، آسٹریلین ڈالر، یوکے پاؤنڈ، درہم، ترک لیرا وغیرہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اے ایس ایف کی ان کارروائیوں نے نہ صرف ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچایا بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ کارکردگیاں اے ایس ایف کی پیشہ ورانہ مہارت اور سرحدی سیکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
مجموعی طور پر، 2024 کے دوران اے ایس ایف کی کارکردگی متاثر کن رہی، اور اس نے ملک بھر میں ائیرپورٹس کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کیا۔
]]>ویڈیو میں ڈیگور نے بتایا کہ وہ ایک ہفتہ قبل فیصل آباد آئے تھے اور ان کا تجربہ بہت مثبت رہا۔ انہوں نے کہا، “مجھے یہ شہر اور یہاں کی پولیس سمیت سب کچھ بہت پسند آیا، یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں، اور میرا فیصل آباد کا تجربہ بہت اچھا رہا۔”
جرمن سیاح نے فیصل آباد میں قائم پولیس خدمت مرکز کی عمارت کی بھی تعریف کی، جسے دیکھ کر ان کا خیال تھا کہ یہ یورپ کے کسی ملک کی عمارت کی طرح نظر آتی ہے، خصوصاً جرمنی کی عمارتوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ ڈیگور کی جانب سے اس مثبت تاثر کا اظہار فیصل آباد کی پولیس کی مہمان نوازی اور شہر کے امن و سکون کو اجاگر کرتا ہے، جو غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک خوشگوار تجربہ بناتا ہے۔
]]>ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، گیس لیک کے تین دن بعد 10 ہزار افراد کی موت ہو گئی تھی، اور یہ تعداد بڑھ کر 22 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس حادثے کے بعد فیکٹری کو بند کر دیا گیا تھا۔
اب، 40 سال بعد، اس فیکٹری سے بچا ہوا زہریلا فضلہ نکالنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ 337 میٹرک ٹن زہریلے فضلے کو 12 کنٹینرز میں منتقل کیا جا رہا ہے، اور اسے بھوپال سے 250 کلومیٹر دور پیتھم پور کے صنعتی علاقے میں ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ اس عمل میں 250 ورکرز حصہ لے رہے ہیں، اور زہریلے فضلے کو خصوصی کنٹینرز میں منتقل کیا جا رہا ہے جو لیک ہونے اور آگ لگنے سے محفوظ ہیں۔
]]>اداکارہ نے کہا کہ “اس وقت میں اپنے بیٹے کی واحد سائبان تھی، شوہر کے کھونے کا غم ناقابل بیان تھا، لیکن مجھے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو بیلنس رکھنا تھا۔” ان مشکل دنوں میں، ہمانی شیو پوری کے مطابق، شاہ رخ خان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ “شاہ رخ خان مجھے لطیفے سناتے اور ہلکی پھلکی گفتگو میں مصروف رکھتے تاکہ میں خود کو تنہا محسوس نہ کر سکوں۔”
ہمانی شیو پوری نے مزید کہا کہ شوہر کی وفات کے بعد یش چوپڑا اور پامیلا چوپڑا نے بھی انہیں کافی سپورٹ فراہم کی۔ “یش چوپڑا نے مجھ سے کہا تھا کہ جتنا وقت درکار ہو لے لو، ہم یہاں آپ کے لیے ہیں۔” اداکارہ نے اس سپورٹ کو اپنی زندگی کے گہرے دکھ کے باوجود اپنے کیرئیر میں توازن برقرار رکھنے میں مددگار قرار دیا۔
یہ ہمانی شیو پوری کی ایک بڑی بات ہے کہ ان کے کیرئیر میں شاہ رخ خان اور دیگر بالی وڈ شخصیات کی محبت اور سپورٹ نے ان کی زندگی کے اس مشکل ترین دور میں ان کی مدد کی۔
]]>ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، انسانی اسمگلر عمران عرف مانی نے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کو لیبیا بھجوایا تھا، جن سے اس نے فی کس 24 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ حادثے کے بعد مانی روپوش ہو گیا تھا لیکن اب اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ عمران عرف مانی سمیت 4 ملزمان کو گجرات اور گوجرانوالہ سے، اور 6 دیگر ملزمان کو سرگودھا، فیصل آباد اور اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان 2023 میں ہونے والے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ہیں اور انہوں نے اس حادثے کے 9 متاثرین سے 5 کروڑ 16 لاکھ روپے ہتھائے تھے۔
واضح رہے کہ 13 اور 14 دسمبر 2024 کی درمیانی شب یونان کے جزیرے کریٹ پر ہونے والے کشتی کے حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا۔ کشتی لیبیا کے علاقے تبروک سے یونان جا رہی تھی۔ اس حادثے میں 9 پاکستانیوں کی لاشیں اب تک مل چکی ہیں جبکہ دیگر لاپتہ افراد کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔
]]>بیرسٹر سیف نے کہا کہ کرم کے تنازعہ کو حل کرنے میں ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ لگا، لیکن حالیہ جرگے کے نتیجے میں پائیدار حل حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ جرگے کے دوران تقریباً 50 نشستیں ہوئیں، جس میں مقامی رہنماؤں اور انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سڑک کی بندش کا مقصد خونریزی کو روکنا تھا، اور اس کے باعث حکومت کو عوامی مسائل کا مکمل ادراک تھا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 15 ٹن ادویات اور 700 سے زائد افراد کو فضائی سروس فراہم کی۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد دھرنے والوں کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور دھرنوں کا کوئی جواز نہیں رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متاثرین کو جلد معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
کرم شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے 400 پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی منظوری دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی 2 ایف سی پلاٹونز اور نئی پولیس چیک پوسٹیں بھی تعینات کی جائیں گی تاکہ علاقے میں امن قائم رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ کرم کی حالیہ صورتحال پر گرینڈ جرگہ میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، بڑا اسلحہ حکومتی تحویل میں دیا جائے گا، اور فریقین کے مورچے ختم کیے جائیں گے تاکہ قبائلی تنازعات کو مذہبی رنگ نہ دیا جا سکے۔
—
**بشریٰ انصاری اور جاوید شیخ کی دلچسپ گفتگو**
دوسری جانب شو میں شریک بشریٰ انصاری نے جاوید شیخ سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ شیئر کیا۔ بشریٰ انصاری نے بتایا کہ جب قاضی واجد نے جاوید شیخ سے شادی کی پیشکش کی تھی، تو میں نے ان سے کہا کہ “میں تو رشتے سے چمٹ جاتی ہوں لیکن جاوید ایک ڈالی سے دوسری ڈالی پر جاتا رہتا ہے، یہ میرے ہاتھ میں نہیں آ سکتا لہذا میں اس کے پیچھے نہیں جاتی”۔
جاوید شیخ اس بات پر ہنستے رہے اور کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم بشریٰ انصاری نے مزید کہا کہ جاوید شیخ سیٹ پر بہت مستی اور مذاق کرتے ہیں، اور وہ انہیں ہمیشہ کہتی ہیں کہ “لوگ ہماری ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے اور ہمارے نام بدنام ہو جائیں گے”۔
واضح رہے کہ بشریٰ انصاری اور جاوید شیخ سالوں سے اچھے دوست ہیں اور دونوں شخصیات کئی ڈراموں اور فلموں میں ایک ساتھ کام کر چکی ہیں۔
]]>