Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 86 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • چین کی نیوکلئیر انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

    چین کی نیوکلئیر انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

    اسلام آباد: چینی سفارتخانے کی ناظم الامور پنگ چن شوئی نے کہا ہے کہ چین پاکستان میں نیوکلئیر انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری مزید بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے گزشتہ روز چائنہ نیشنل نیوکلئیر کارپوریشن کی وائس چیئرمین لیو جینگ اور پاکستان میں چینی سفارتخانے کی ناظم الامور پنگ چن شوئی کی قیادت میں آئے وفد نے ملاقات کی۔

    وفد نے وزیراعظم کوبتایا کہ چین پاکستان میں نیوکلئیر انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری مزید بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس حوالے سے جلد وفود کی سطح پر ملاقاتوں کا آغاز کیا جائے گا جس کا وزیرِ اعظم نے خیر مقدم کیا۔

    وفد سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا پاکستان چین کے سٹریٹجک تعلقات میں وسعت دونوں ممالک کی دہائیوں پر محیط دیرینہ دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    کراچی میں گزشتہ روزکے تھری منصوبے کا افتتاح دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید استحکام کا عکاس ہے۔یہ پاور پلانٹ نہ صرف پاکستان کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات پورا کرے گا بلکہ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا اور پاکستان کی طویل مدتی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    جمعہ کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں بھی وزیراعظم نے کہا کراچی میں لگائے گئے کے تھری منصوبے کی شمولیت سے ایٹمی بجلی گھروں سے بجلی کی پیداوار 3600میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

  • سونے کی عالمی اور مقامی قیمت میں کمی

    سونے کی عالمی اور مقامی قیمت میں کمی

    کراچی: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کم ہونے کے بعد ملکی سطح پر بھی سونے کے نرخ میں کمی آئی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ڈالر کم ہوکر کر 1909 ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے باعث ملکی سطح پر سونے کی قیمت فی تولہ قیمت میں 1200 اور اور فی دس گرام قیمت میں 1029 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

    کمی کے بعد ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 85 ہزار 300 روپے اور فی دس گرام قیمت ایک لاکھ 58 ہزار 865 روپے ہوگئی۔

  • مالی سال کی پہلی ششماہی میں جاری کھاتہ کا خسارہ 5 ارب 42 کروڑ ڈالر تک کم رہا

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں جاری کھاتہ کا خسارہ 5 ارب 42 کروڑ ڈالر تک کم رہا

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال پہلی ششماہی میں جاری کھاتہ 3 ارب 66 کروڑ ڈالر رہا،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کھاتہ کا خسارہ 9 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

    مرکزی بینک کےمطابق زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم کرنے کے لیے درآمدات کو محدود رکھنے کی حکومتی پالیسی کے نتائج آنا شروع ہوگئے، جاری کھاتہ کے خسارہ میں کمی کا تسلسل جاری ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2022 میں جاری کھاتہ کا خسارہ 40 کروڑ ڈالر رہا،نومبر میں جاری کھاتہ کا خسارہ 25 کروڑ ڈالر رہا تھا جولائی تا دسمبر کے دوران درآمدات میں 6.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ۔رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں درآمدات 36 ارب ڈالر کے مقابلے میں 29.5 ارب ڈالر رہیں۔

    اعدادو و شمار کے مطابق تجارتی خسارہ 5 ارب 55 کروڑ ڈالر کم رہا،جولائی دسمبر 2022 کا تجارتی خسارہ 15 ارب 30 کروڑ ڈالر رہا۔ مالی سال 22-2021 کی پہلی ششماہی میں تجارتی خسارہ 20 ارب 85 کروڑ ڈالر رہا تھا۔

    مرکزی بینک کے مطابق خدمات کی تجارت کے خسارے میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی، اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر خدمات کی تجارت کا خسارہ 35 کروڑ ڈالر رہا،گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں خدمات کا خسارہ 2 ارب 14 کروڑ ڈالر رہا تھا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال پہلی ششماہی میں اشیاء و خدمات کا مجموعی خسارہ 7 ارب 33 کروڑ ڈالر کم رہا،رواں مالی سال پہلی ششماہی میں اشیاء و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 15 ارب 65 کروڑ ڈالر رہا۔گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں اشیاء و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 22 ارب 99 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

  • درآمدات کی بندش سے 25 فیصد دوا ساز کمپنیاں بند، باقی کے پاس صرف 15 دن کا خام مال موجود

    درآمدات کی بندش سے 25 فیصد دوا ساز کمپنیاں بند، باقی کے پاس صرف 15 دن کا خام مال موجود

    پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئر مین فاروق بخاری نے کہا کہ ملک میں 25 فیصد دوا ساز اداروں کے غیر فعال ہونے کی نوبت آگئی ہے جبکہ دیگر کمپنیوں کے پاس پندرہ دن کا خام مال رہ گیا ہے،اگر کمپنیوں کو بروقت خام مال کی ادائیگی نہ کی گئی تو مزید کمپنیاں بند ہو جائیں گی اور دوا ساز اداروں کے سیکڑوں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔

    فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (بی پی ایم اے) نے حکومت سے پرزور اپیل کی کہ وہ ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور جان بچانے والے طبی ساز و سامان کی درآمد کو دوباره شروع کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں تاکہ ملک میں مریضوں کے بلا تعطل علاج کے لیے ادویات اور جان بچانے والے طبی آلات فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

  • سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

    سونے کی عالمی قیمت فی اونس 6 ڈالر اضافے سے 1915 ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد ملکی سطح پر سونے کی فی تولہ قیمت میں 2100 روپے اور فی دس گرام قیمت میں 1801 روپے اضافہ ہوا۔

    ملکی صرافہ مارکیٹ میں آج قیمت بڑھنے ہونے کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 86 ہزار 500 روپے اور فی دس گرام قیمت ایک لاکھ 59 ہزار 894 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
    اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 30 روپے بڑھکر 2100روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 16.78 روپے بڑھکر 1800.41روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ’ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر‘ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی

    ’ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر‘ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی

    پاکستان میں سٹاک مارکیٹ میں کارروبار کے دوران مسلسل دوسرے روز حصص کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی۔

    کے ایس سی 100 انڈیکس 1378.54 پوائنٹس یا 3.47 فیصد کمی کے بعد .38,342.21 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے سینئیر صحافی شہباز رانا نے اس کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر کو قرار دیا ہے۔

    آج سٹاک مارکیٹ میں جو ’بلڈ باتھ (تباہی)‘ ہوا ہے اس کے پیچھے آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر تو ایک بہت بڑی وجہ ہے ہی لیکن ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام بھی اس کا ذمہ دار ہے۔

    شہباز رانا کا کہنا تھا کہ ’نہ تو کم مدت سے لمبے عرصے تک کے لیے اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے کوئی واضح صورتحال ہے اور نہ ہی سیاسی فرنٹ پر کچھ کلئیرٹی ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار گھبرا رہا ہے اور اس کی اسی گھبراہٹ کی وجہ سے آج سٹاک مارکیٹ میں تباہی ہوئی ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کیا وہ سٹاک مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری کی امید دیکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ’لیکن اگر حکومت آج صحیح نیت سے یہ فیصلہ کر لے کہ اس نے آئی ایم ایف پروگرام کرنا ہے اور اس کے حوالے سے جو اقدامات ہیں وہ آج ہی لینا شروع کر دے تو صورتحال بہتر ہوتی نظر آئے گی۔‘

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سب سے پہلے سیاسی فرنٹ پر صورتحال کا واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا یہ حکومت آگے چل سکتی ہے یا نہیں اور اس حوالے سے کوئی ڈیڈ لائن بھی نہیں ہے کہ یہ سیاسی عدم استحکام کب تک ختم ہو گا، لہذا جب تک سیاسی صورتحال واضح نہیں ہو گی تب تک آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔