Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ٹیکنالوجی – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: ٹیکنالوجی

  • آئی ٹی اور اسکی سروسز کا شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ، شہریار خان

    آئی ٹی اور اسکی سروسز کا شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ، شہریار خان

    لاہور:اٹلی میں پاکستان کے سرمایہ کاری قونصلر شہریار خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس کی سروسز کا شعبہ مسلسل غیر معمولی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اتوار کو پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق سے زوم میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی ماہر و محنتی نوجوان آبادی، مسابقتی لاگت اور حکومتی مراعات کی بنا پر پاکستان مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑے منافع بخش ہاٹ اسپاٹ کے طور پر ابھر رہا ہے ۔

  • یوٹیوب نے اسرائیلی جنگی جرائم کی سیکڑوں ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں

    یوٹیوب نے اسرائیلی جنگی جرائم کی سیکڑوں ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں

    واشنگٹن:گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسے بڑی ٹیکنالوجی اداروں پر طویل عرصے سے اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں تعاون کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور اب ایک اور بڑا پلیٹ فارم یوٹیوب بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔امریکا میں بائیں بازو کے نمائندہ سمجھے جانے والے میڈیا گروپ دی انٹرسیپٹ کی رپورٹ کے مطابق گوگل کی ملکیت والے اس پلیٹ فارم نے خاموشی سے فلسطینی انسانی حقوق کی 3 بڑی تنظیموں کے اکاؤنٹس حذف کر دیے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی تشدد کو دستاویز کرنے والی 700 سے زائد ویڈیوز غائب ہو گئیں، یہ اقدام سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے بعد کیا گیا۔یہ تین تنظیمیں الحق، المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس، اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو شواہد فراہم کر چکی تھیں، جس نے بعد میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔اکتوبر کے آغاز میں آئی سی سی کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے دفاع میں شدت اختیار کرتے ہوئے عدالت کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کیں اور ان افراد کو نشانہ بنایا جو عدالت کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔سینٹر فار کونسٹی ٹیوشنل رائٹس کی وکیل کیتھرین گیلاگر نے دی انٹرسیپٹ کو ایک بیان میں بتایا کہ یوٹیوب کا ٹرمپ انتظامیہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے شواہد عوامی نظروں سے ہٹانا افسوسناک ہے۔رپورٹ کے مطابق ان حذف شدہ ویڈیوز میں امریکی صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات، اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار فلسطینیوں کی گواہیاں، اور دی بیچ جیسی دستاویزی فلمیں شامل تھیں، جو اسرائیلی فضائی حملے میں ساحل پر کھیلتے ہوئے بچوں کی شہادت کی کہانی بیان کرتی تھیں۔الحق کے ترجمان نے بتایا کہ ان کا یوٹیوب چینل 3 اکتوبر کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے حذف کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ یوٹیوب کا انسانی حقوق کی تنظیم کا پلیٹ فارم ختم کرنا اصولی ناکامی اور اظہارِ رائے و انسانی حقوق کے لیے خطرناک رجحان ہے۔فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کے قانونی مشیر باسل السورانی نے کہا کہ یوٹیوب اس اقدام سے فلسطینی متاثرین کی آواز دبانے میں شریک جرم بن گیا ہے۔یوٹیوب کے ترجمان بوٹ بولوِنکل نے تصدیق کی کہ ویڈیوز یہ کہتے ہوئے حذف کر دی گئی ہیں کہ گوگل متعلقہ پابندیوں اور تجارتی قوانین پر عملدرآمد کا پابند ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ اقدام صرف تنظیموں کی سرکاری اکاؤنٹس تک محدود تھا، اگرچہ کچھ حذف شدہ ویڈیوز فیس بک، ویمیو اور وے بیک مشین جیسے پلیٹ فارمز پر جزوی طور پر دستیاب ہیں، لیکن مکمل ریکارڈ موجود نہیں رہا،جس سے شواہد کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ سے غائب ہو گیا۔

  • شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت 33گیگا واٹ سے بڑھ گئی     پنجاب میں گھریلو اور تجارتی سطح پر سولر سسٹمز کا استعمال سب سے زیادہ رہا

    شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت 33گیگا واٹ سے بڑھ گئی پنجاب میں گھریلو اور تجارتی سطح پر سولر سسٹمز کا استعمال سب سے زیادہ رہا

    کراچی:پاکستان نے شمسی توانائی کے شعبے میں تاریخ رقم کر دی ،پہلی بار ملک میں شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت 33 گیگا واٹ سے بڑھ گئی ہے ، جو قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کی صلاحیت سے بھی زیادہ ہے ۔تازہ ترین پالیسی ریسرچ رپورٹ کے مطابق گرما کے دوران قومی گرڈ سے بجلی کا مجموعی حصول 28 سے 30 گیگا واٹ کے درمیان رہا جبکہ شمسی نظام کے ذریعے صارفین نے تقریباً 33 گیگا واٹ بجلی استعمال کی،شمسی توانائی کے پینلز کی درآمدات 50 گیگا واٹ تک جاپہنچی ہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملکی صارفین تیزی سے متبادل توانائی ذرائع کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے قومی بجلی گرڈ کی کُل نصب شدہ صلاحیت تقریباً 46 گیگا واٹ ہے ، جس میں سرکاری پاور پلانٹس اور نجی بجلی گھر شامل ہیں شمسی توانائی کے استعمال میں پنجاب سب سے آگے ہے ، جہاں گھریلو اور تجارتی سطح پر سولر سسٹمز کا استعمال سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ دوسرے ، خیبرپختونخوا تیسرے جبکہ بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے ۔ رہائشی شعبہ سب سے بڑا صارف ہے جو 16.66 گیگا واٹ شمسی توانائی استعمال کر رہا ہے۔

  • ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات تیز، ٹرانسپورٹ میں کمی    ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات 1.057، ٹرانسپورٹ کی197ملین ڈالررہیں

    ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات تیز، ٹرانسپورٹ میں کمی ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات 1.057، ٹرانسپورٹ کی197ملین ڈالررہیں

    اسلام آباد:رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات میں21 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات میں 4 فیصد کمی ریکارڈکی گئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات کا حجم 1.057 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ،گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں حجم 877 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ستمبر میں ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات سے ملک کو 366 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا جو 25 فیصد زیادہ ہے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات کا حجم 197 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو 4 فیصد کم ہے ۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات کا حجم 205 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ستمبر میں ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات سے ملک کو 68 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9 فیصد کم ہے ۔

  • آئی سی ٹی برآمدات سروسز کی معیشت میں سرفہرست: ادارہ شماریات کا دعویٰ

    آئی سی ٹی برآمدات سروسز کی معیشت میں سرفہرست: ادارہ شماریات کا دعویٰ

    اسلام آباد:انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی( آئی سی ٹی) برآمدات سروسز کی معیشت میں سرفہرست رہیں۔ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر آئی سی ٹی برآمدات 1.057 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ،آئی سی ٹی برآمدات میں 180 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔اسی طرح ستمبر 2025 میں آئی سی ٹی برآمدات 25.3 فیصد اضافے سے 366 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، آئی سی ٹی انڈسٹری جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران 953 ملین ڈالر کے ساتھ تجارتی حجم میں سرپلس رہی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تجارتی سرپلس میں 24.6 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال اِسی عرصے کے دوران 765 ملین ڈالر تھا، سروسز شعبے میں آئی سی ٹی بلند ترین تجارتی سرپلس حاصل کرنے والی واحد انڈسٹری ہے۔آئی سی ٹی برآمدات سروسز برآمدات کا 48 فیصد حصہ برقرار ہے ، دیگر کاروباری سروسز 474 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

  • اسلام آباد آئی ٹی پارک، تکمیل کیلئے چوتھی بارتاریخ مقرر

    اسلام آباد آئی ٹی پارک، تکمیل کیلئے چوتھی بارتاریخ مقرر

    اسلام آباد :وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے اسلام آباد آئی ٹی پارک مکمل کرنے کیلئے 31اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے نومبر میں وزیراعظم سے آئی ٹی پارک کا افتتاح کروانے کی تجویز ہے۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق آئی ٹی پارک کی تکمیل سے 10 ہزار سے زائد افراد کو روزگار ملے گا، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے اسلام آباد میں چوتھی مرتبہ آئی ٹی پارک اسلام آباد کی تعمیر مکمل کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے ، اسلام آباد آئی ٹی پارک کا تاحال تقریباً 90 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوا ہے اور 18 ارب روپے سے زائد رقم تعمیر پر خرچ ہو چکی ہے ، اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تعمیر کا مجموعی بجٹ(70ملین ڈالر) 20 ارب روپے سے زیادہ ہے ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے پہلے فروری 2025 کی مدت مقرر کی تھی، جس کے بعد جون 2025 اور پھر اگست 2025 مقرر کی تھی ، تاہم پارک کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہو سکی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی آئی ٹی پارک تعمیر مکمل نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بھی 31 اکتوبر تک اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔

  • طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی

    طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی

    کابل:افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کردیں۔سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن کا بلیک آؤٹ نافذ ہے۔تنظیم کے مطابق قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام حالات کے مقابلے میں صرف 14 فیصد رہ گئی ہے اور یہ صورتحال جان بوجھ کر انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کرنے کے مترادف لگتی ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس کا کابل بیورو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 15 منٹ کے قریب مواصلاتی رابطے سے محروم ہوگیا، جس میں موبائل فون سروس بھی شامل تھی۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں انٹرنیٹ پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور کئی صوبوں میں فائبر آپٹک کنکشن منقطع کر دیے تھے، طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر شمالی صوبے بلخ میں بھی فائبر آپٹک انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔صوبائی ترجمان عطا اللہ زید نے 16 ستمبر کو سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ یہ اقدام برائی کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ہے اور ملک بھر میں متبادل انتظامات کیے جائیں گے تاکہ بنیادی ضروریات پوری کی جاسکیں۔افغانستان کے مقامی ٹی وی چینل نے بھی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیر کی دوپہر سے ملک بھر میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ بند کردیا جائے۔

  • پاکستان میں لاکھوں افراد کے فون ٹیپ ہونے اور فائر وال کے ذریعے نگرانی کا انکشاف

    پاکستان میں لاکھوں افراد کے فون ٹیپ ہونے اور فائر وال کے ذریعے نگرانی کا انکشاف

    اسلام آباد(سنگ میل نیوز)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے فون ٹیپ ہونے اور انٹرنیٹ فائر وال کے ذریعے نگرانی کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے شہریوں کی غیر قانونی نگرانی جاری رکھی ہوئی ہے، جس میں عام شہری، صحافی اور معروف سیاستدان شامل ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ادارے بیک وقت 40 لاکھ موبائل فونز کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دوسرا طریقہ ڈبلیو ایم ایس ٹو کہلائے جانے والے فائر وال کا ہے جو انٹرنیٹ پر 20 لاکھ فعال سیشنز کو بلاک کرسکتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نگرانی کے یہ 2 نظام ایک ساتھ کام کرتے ہیں، ایک نظام کالز اور پیغامات سننے دیتا ہے جبکہ دوسرا پورے ملک میں ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کو سست یا بند کر دیتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق فون کمپنیوں کو مبینہ طور پر “لافل انٹرسپٹ مینجمنٹ سسٹم (LIMS)” منسلک کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ویب لنکس کو بلاک کر رہا ہے اور یوٹیوب، فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر پابندیاں لگا رہا ہے۔

  • اسلام آباد کو فری وائی فائی سٹی بنانے کیلئے این ٹی ایس اور چیف کمشنر اسلام آباد کا مشترکہ اجلاس

    اسلام آباد کو فری وائی فائی سٹی بنانے کیلئے این ٹی ایس اور چیف کمشنر اسلام آباد کا مشترکہ اجلاس

    اسلام آباد: چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ایم ڈی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) میجر جنرل (ر) علی فرحان سمیت سی ڈی اے کے ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر پلاننگ ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ڈائریکٹر آئی ٹی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد کے تیس مختلف مقامات پر شہریوں کے لیے فری وائی فائی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ان تیس مختلف مقامات میں اہم مراکز، میٹرو و الیکٹرک فیڈر بس سٹیشن، پارکس، سمیت ایسے مقامات جہاں پر رش زیادہ ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری مفت وائی فائی کی سہولت سے مستفید ہوسکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سلسلہ میں سی ڈی اے کی ٹیکنیکل ٹیم این ٹی سی کو مکمل معاونت فراہم کرے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ اس نظام کو خود انحصار بنانے کیلئے بہترین مارکیٹنگ ماڈل بھی تشکیل دیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اسی نظام کے مرمتی کاموں پر استعمال میں لائی جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس نظام کے آپریشن و مینٹیننس این ٹی سی کی ذمہ داری ہو گی۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس نظام کے تحت جلد ہی اسلام آباد شہر کو فری وائی فائی سٹی میں تبدیل کردیا جائے گا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد شہر کو ڈیجٹلائزڈ اور فری وائی فائی سٹی بنانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور اس سلسلہ میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کو تسلسل کے برقرار رکھا جاسکے۔

  • خودروزگار سکیم کے تحت وفاقی وزیر  احسن اقبال نے’’پاکستان ون‘‘ پراجیکٹ کا افتتاح کردیا

    خودروزگار سکیم کے تحت وفاقی وزیر احسن اقبال نے’’پاکستان ون‘‘ پراجیکٹ کا افتتاح کردیا

    اسلام آباد(سنگ میل نیوز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، ہمت اور ذہانت کو پاکستان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں لگا رہے ہیں،پاکستان کا سٹریٹجک محل وقوع علاقائی تجارت کے حوالہ سے بے مثال امکانات کا حامل ہے، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑنے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں’’پاکستان ون‘‘ پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ پراجیکٹ’’پاکستان ون‘‘ کا مقصد نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عملی جدت و ترقی میں ڈھالنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بزنس پلان کے قومی مقابلے سے نوجوانوں میں خودروزگاری کو فروغ ملے گا،ہر صوبے، ہر علاقے، دیہی و شہر کے طبقے کو’’پاکستان ون‘‘ میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایسا پاکستان بنانا چاہتی ہے جو ترقی، جدت اور عالمی اعتماد کی پہچان بنے۔ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، ہمت اور ذہانت کو پاکستان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں لگا رہے ہیں۔ ہمیں نوکری ڈھونڈنے والی معیشت سے نکل کر نوکری پیدا کرنے والی معیشت بننا ہے۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ جن ممالک نے ترقی اورخوشحالی کی منزل حاصل کی ہے۔ انہوں نے صنعتکاری، جدت اور ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی برآمدات 27 سے 32 ارب ڈالر کے درمیان محدود ہیں جن میں صرف ٹیکسٹائل کا حصہ 17.9 ارب ڈالر ہے۔پاکستان کے آئی ٹی اور سافٹ ویئر خدمات 15 سے 20 فیصد سالانہ بڑھ رہی ہیں،آئی ٹی برآمدات 2030ء تک 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، اسی طرح ایگری ٹیک اور فوڈ پروسیسنگ ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمدات کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ قابل تجدیدتوانائی کی اہمیت کواجاگرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قابل تجدید توانائی پاکستان کو ماحول دوست عالمی منڈیوں میں جگہ دلا سکتی ہے،پائیدار مینوفیکچرنگ خطے میں پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا سٹریٹجک محل وقوع علاقائی تجارت کے بے مثال امکانات فراہم کررہاہے،جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑنے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ای پاکستان کے ذریعے فن ٹیک، ایگری ٹیک اور گرین ٹیک میں نئے نظام تشکیل دیئے جارہے ہیں،ڈیجیٹل ہنر اور جدت میں سرمایہ کاری سے ہماری نوجوان آبادی معیشت میں ترقی کاانجن بنے گی۔