Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Uncategorized – Page 926 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: Uncategorized

  • کیا گھر کے کام باقاعدہ ورزش کا متبادل ہیں؟

    کیا گھر کے کام باقاعدہ ورزش کا متبادل ہیں؟

    خواتین اپنی ذہنی اور نفسیاتی صحت کی اہمیت سے ناواقف ہونے کے علاوہ ’تن درستی‘ کے حوالے سے بھی بے پروائی کا شکار ہوتی ہیں، جب کہ خواتین جو نہ صرف ایک خاندان اور گھر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ جسمانی صحت اور فٹنس کا بھی خاص خیال رکھیں۔

    جسمانی طور پر فٹ رہنا صرف پروفیشنل زندگی کے لیے ہی نہیں، بلکہ روز مرہ زندگی اور اس کی خوشیوں سے لطف اندوز کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ خواتین جو صبح سے رات تک مختلف کاموں میں مصروف رہتی ہیں، دن میں چند منٹ کی باقاعدہ ورزش کو معمول بنا کراپنی صحت اور فٹنس کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں عام تصور ہے کہ ورزش صرف حضرات کی باڈی بلڈنگ کے عمل تک محدود اور ضروری ہے، جب کہ حقیقت کچھ مختلف ہے۔

    ورزش خواتین کے لیے بھی اتنی ہی ضروری اور مفید ہے، جتنی کہ حضرات کے لیے۔ یہ ضروری نہیں کہ حضرات کی طرح خواتین بھی ورزش کرنے کے لیے مختلف مشینوں یا باقاعدہ کسی جَم (Gym) کا سہارا لیں۔ خود کو فِٹ رکھنے کے لیے خواتین دن میں کچھ لمحے ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم اور ذہن کو چاق و چوبند اور توانا رکھ سکتی ہیں۔

    خواتین کے لیے خود کو جسمانی طور پر فٹ رکھنے اور ’ایکٹو‘ رکھنے کا ایک سب سے فائدہ یہ ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے والی خواتین کے بارے میں یہ رائے بدلنا پڑے گی کہ خواتین جمسانی طور پر کمزور ہوتی ہیں۔

    کیوں کہ مختلف قسم کی ورزش کے ذریعے وہ خود کو اتنا مضبوط کر لیتی ہیں کہ کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ ذہنی اور جسمانی طور پر ڈٹ کر کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ خواتین کے لیے کچھ ایسی ’ایکسرسائز‘ بھی متعار ف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد کسی مشکل صورت حال میں اپنی حفاظت کرنا ہے، تاکہ خدانخواستہ کسی قسم کی ایسی مشکل سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ذہنی، بلکہ جسمانی طور پر بھی وہ تیار ہوں اور کسی کی مدد کے بغیر اپنا دفاع کر سکیں۔

    خواتین کی اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، کیوں کہ یہ نہ صرف مجموعی صحت اور تن درستی کو یقینی بناتی ہیں، بلکہ ہمارے وزن کا توازن برقرار رکھنے، مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے اور اچھی دماغی صحت کو فروغ دینے میں مدد گار ہوتی ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش ضروری ہے، لیکن ’جِم‘ یا ’ایکسرسائز‘ کو باقاعدگی سے اپنا معمول بنانے کے لیے خواتین کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، ان میں گھریلو ذمہ داریوں اور وقت کی کمی کے علاوہ رجحان اور تحریک ملنے جیسے دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔

    بہت سی خواتین بچوں کی پرورش، گھریلو ذمہ داریوں اورنوکری وغیرہ میں مصروف ہوتی ہیں، اور اپنے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ لیکن خود کو فٹ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی موقع ملے ورزش کرنے کی کوشش کیجیے۔

    دن میں ورزش کے لیے 10 منٹ کے تین ’دور‘ سے بھی صحت کے لیے وہی فوائد حاصل ہوں گے، جو 30 منٹ کے مسلسل ’دور‘ سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے بچوں کے ساتھ ایکٹویٹیز جیسا کہ سودا لینے کے لیے دکان جانا یا بچوں کے ساتھ پارک میں کھیلنا ایکٹو اور فِٹ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔

    اس ہی طرح بہت سی خواتین مختلف گھریلو ذمہ داریوں کے مصروف رہنے کے باعث فٹنس یا جِم جانے لیے وقت نہیں نکال پاتیں اس کے لیے فیملی یا دوستوں میں کسی کی مدد لی جا سکتی ہے۔ فٹنس ٹائم میں اپنے بچوں کو دیکھ بھال کے لیے کسی قابل اعتماد قریبی رشتہ دار یا دوست کے گھر چھوڑا جا سکتا ہے۔

    پیشہ وارانہ امور یا دن بھر گھر کی ذمہ داریوں کے بعد خواتین تھک جانے کے باعث بھی ورزش کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ نہیں بنا پاتیں، لیکن باقاعدگی سے ورزش خواتین کوروزمرہ کی زندگی کے تقاضوں سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔

    اگر خواتین دیر تک ورزش کرنے کے بہ جائے تسلسل کے ساتھ روز کچھ منٹس کی ورزش پہلے چند ہفتوں کے دوران ہی تھکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    خواتین کو صحت کے دیگر مسائل کی وجہ سے بھی باقاعدگی کے ساتھ ورزش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنے ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ایسی ورزش کا انتخاب کریں، جو ان کی بیماری کم یا دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں، جیسا کہ باقاعدگی کے ساتھ صبح کی واک سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

    ورزش یا ’ایکسرسائز‘ سے متعلق ایک رجحان یہ بھی ہے کہ ان کے لیے مہنگے ’جِم‘ جانا ضروری ہے، جب کہ ورزش کی بہترین شکل تیز تیز چلنا بھی ہے۔ باقاعدگی سے واک خواتین کو ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رکھنے میں بہترین مددگار ہوتی ہے۔

    ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ خواتین کو اگر اپنا وزن کم کرنا ہے یا جسمانی طور پر فٹ لگنا ہے، تو بس سارا دن گھر کے کاموں مثلاً جھاڑو پونچھا، کپڑے دھونا وغیرہ جیسے کاموں میں مصروف رہیں، اس طرح جسم کی خود بہ خود ورزش ہو جائے گی، جو کہ بالکل ایک غط تصور ہے۔

    کیوں کہ ورزش ایک ایسا باقاعدہ عمل ہے، جس میں انسان دنیا کی تمام فکروں اور پریشانیوں کو دماغ سے نکال کر صرف اپنی جسمانی صحت کے لیے یک سو ہوتا ہے۔ ورزش کے وقت اگر خواتین دن بھر کے مسائل مسئلے اور کاموں کی فکر چھوڑ کر صرف ’ایکسرسائز‘ پر توجہ دیں، تو یہ اب کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    لہٰذا ورزش کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان مسائل کی نشاندہی کی جائے، جو کہ ورزش کرنے میں رکاوٹ بننے کا سبب بن رہے ہوں اور پھر ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بھی سوچیں۔ جیسا کہ وقت کی کمی یا پھر اس بات کو سمجھنا کہ دوسرے جتنے کام اہم ہیں، خواتین کا ورزش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے معمولات کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں کا انتخاب کریں، جس سے خود بھی لطف اندوز ہوں اور جسمانی طور پر بھی ’پرسکون‘ ہو سکیں۔ ساتھ ہی اپنی ڈائری لکھیں اور قابل حصول اہداف طے کریں، خود کو ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ والی ذہنیت کا شکار نہ ہونے دیں۔

    اگر آپ اس وقت فی ہفتہ صرف ایک یا دو ورزشی ’دور‘ کے لیے وقت نکال سکتی ہیں، تو بھی یہ آپ کی بڑی کام یابی ہے، کیوں کہ تھوڑی دیر کی گئی ورزش کچھ مدد گار ضرور ثابت ہوگی اور کچھ دیر ورزش بالکل بھی ورزش نہ کرنے سے نمایاں طور پر بہتر ہے۔

  • ’’میں نے تو ایسی عورت  سے شادی نہیں کی تھی!‘‘

    ’’میں نے تو ایسی عورت سے شادی نہیں کی تھی!‘‘

    کتنا بھدا اور بدنما ہو جاتا ہے عورت کا جسم ماں بننے کے بعد۔۔۔ سو درد اٹھانے کے بعد بھی اپنے اس بے ڈھنگے دکھائی دینے والے سراپے پر نظر اس وقت تک جاتی ہی نہیں، جب تک ننھے منے اور بھینی بھینی سی خوش بو والے نرم نازک وجود سے گود گرم رہتی ہے۔ پھر اس میں ہی گم رہنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، آرام اور چین کو بھول کر اسی وجود کو کسی ننھی کونپل کی طرح سینچنا اور اس کی مکمل نگہ داشت کرنا۔

    اسے بچپن سے ہی صاف ستھرا رہنے کا شوق تھا، اکلوتی بیٹی تھی تو والدین ناز بھی خوب اٹھائے، بھائی بھی ہاتھ کا چھالا بناکر رکھنے والے، ماں بچپن سے اسے خوب سجا سنوار کر رکھتیں، پاوڈر چھڑک کر، شیمپو کیے ہوئے بال، نت نئی فراک پہن کر وہ شہزادیوں کی آن بان سے رہا کرتی۔

    سجنے سنورنے کی یہ عادت بچپن سے جوانی تک پختہ ہوگئی، روپے پیسے کی فراوانی نہ تھی، پھر اس کا ذوق بھی خوب تھا، گرمیوں میں ہلکے رنگوں کے لان کے جوڑے تو سردیوں میں جینز، کوٹ اور گہرے رنگوں کے اونی سوئٹر پہننا اسے بے حد پسند تھا۔

    بالوں کی جدید تراش خراش اور باقاعدگی سے جلد کا خیال رکھنا اس کے معمولات میں شامل تھا۔ نازک نازک سے ہاتھ پاؤں اور ان کی صفائی ستھرائی کا دھیان عجیب بھلا سا تاثر دیتا تھا، اس کی شخصیت کو، پھر اس پر وہ خوشبوؤں کی دل داہ، مہنگے پرفیوموں کا ایک ڈھیر تھا۔

    اس کی دل فریب اور اجلی و نکھری شخصیت لوگوں کو متوجہ کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جس محفل میں بھی جاتی اس کا رشتہ آجاتا۔ وہاج نے بھی اسے ایک ’میلاد‘ کی تقریب میں دیکھا، تو اس کی متاثر کن شخصیت دیکھ کر دل ہار بیٹھا۔ ہلکے گلابی کام دانی کے سوٹ میں چاندی کے آویزے پہنے گلابی نیل پالش سے سجے نازک ہاتھ، سیاہ سلکی زلفیں اور اس کے قرین سے آتی مسحور کن خوش بو۔۔۔ وہاج کو وہ اتنی بھاگئی کہ اسے اپنی دلہن بنا کر ہی دم لیا۔

    شادی کے اولین دنوں میں نت نئے جوڑے اور زیور پہن کر وہ سجی سنوری رہا کرتی، وہاج تو دیوانہ تھا اس روپ کا لہذا خوب ناز نخرے اٹھایا کرتا۔ پھر شادی کے پہلے سال ’خوش خبری‘ کی نوید ملی، تو ان دنوں طبعیت کی خرابی، نقاہت کی وجہ سے اس کی خود پر توجہ کم ہونے لگی۔

    وہاج دفتر سے آتا، تو وہ نڈھال سی ملگجے لباس میں بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ملتی۔ وزن بھی اس کا کافی بڑھ گیا تھا۔ اس حلیے میں دیکھ کر وہاج اس سے بیزار ہونے لگا۔ اسے تو پلاسٹک کی گڑیا کی مانند نک سک سی درست تراشی ہوئی بیوی کی یاد ستاتی۔

    بیٹے کی پیدائش کے بعد وہاج خوشی میں اس کا پھیلا ہوا سراپا وقتی طور پر بھلا بیٹھا، تو اس نے بھی سُکھ کا سانس لیا۔ بچے کے ساتھ اس کے کام بڑھ گئے، اس لیے خود پر توجہ بھی کم ہوتی ہی چلی گئی۔ پرانے سارے کپڑے اس کے تنگ ہوگئے۔

    تو سادہ سے ڈھیلے ڈھالے لباس سلوالیے۔ بچے کی پیدائش کے بعد سے سر کے بال جو گرنا شروع ہوئے، تو حال یہ ہوا کہ چوٹی آدھی رہ گئی۔ راتوں کو جاگ جاگ کر گہرے حلقے اور بیوٹی پارلر تو وہ بھول ہی بیٹھی تھی۔

    اس کے سال بھر بعد ہی وہ ایک بیٹی کی بھی ماں بن گئی۔ اب تو اس کے حالات مزید سخت ہوگئے۔ وہاج تو ہر بات پر اس کے مُٹاپے کو نشانہ بناتا۔ بچوں کا رونا اسے برا لگا کرتا۔ کھانا پکنے میں دیر ہو جاتی، تو بھی وہ قصور وار ٹھہرتی۔ نتیجہ میں وہ کڑھ کڑھ اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی تھی۔

    وہ اولاد کو پاکر اپنے سراپے اور جوانی کی درگت بھلا بیٹھی تھی، ساری تکلیفیں جو اس نے زچگی میں سہیں، یاد بھی نہیں تھیں، لیکن جس کی اولاد کو اس نے اپنا خون دیا۔ پال ہوس رہی تھی، اس شخص سے اس کی ڈھلتی خوب صورتی برداشت نہیں ہورہی تھی۔

    پھر آج تو حد ہی ہوگئی ان کی تین ماہ کی بیٹی صبح سے قے کررہی تھی اور وہ اس کے کپڑے تبدیل کروا کر اور بیڈ شیٹس تبدیل کر کے تھک چکی تھی اور جب اپنے اسی مسلے ہوئے حلیے اور قے کی بساند والے کپڑوں میں وہاج کو شام کی چائے پیش کی تو وہ سلگ اٹھا اور اس کے کانوں میں زہر انڈیلتا چلا گیا۔

    کیسی لوتھڑے نما عورت ہوگئی ہو، ہر وقت دودھ کی بو مہکتی ہے، بال تو دیکھو سب جھڑ گئے۔ وہ والی عورت تم لگتی نہیں جس سے شادی کی تھی۔

    یہ تو کوئی بے ڈھنگے وجود والی بھدی سی عورت ہے، تو اس لمحے اس چربی سے ڈھکے وجود میں اس کا نازک سا دل ٹوٹ گیا اور جی کیا کہ ایک ایک لمحہ اور ایک ایک اذیت کا حساب وہاج کو سنایا جائے، جس سے یہ ناواقف ہے۔ لیکن اس کا فائدہ کیا ہوگا اگر اسے احساس ہوتا تو اس کی سوچ مختلف ہوتی۔

    اگر اسے بات کی تربیت ملی ہوتی کہ قربانی سب سے بڑی خوبی ہے۔ جسم ، جوانی تو ڈھل ہی جانی ہے، لیکن اصل دولت تو یہ خدا کی عطا کردہ صحت اور اولاد ہے۔

    کوشش کیجیے کہ کم از کم اپنے بیٹوں کو یہ ضرور سکھا سکیں کہ خوب صورت اور دل کش جسم سے زیادہ وہ بے ڈھب سراپہ ہے جس کے وجود میں صرف تمہاری اولاد کی محبت اور پرواہ ہے اس سے زیادہ پیارا وجود کوئی اور نہیں ہو سکتا، جو اپنے خون سے سینچ کر تمہاری نسل کو بقا دیتی ہے۔

  • مار گئی ہمیں یہ مہنگائی!

    مار گئی ہمیں یہ مہنگائی!

    ’’بس آخری اشتہار رہ گیا، مجھے معلوم ہے کیا جواب ملے گا‘‘ اخبار دیکھتے ہوئے اس نے خودکلامی کی۔
    ’’مجھ سے بہتر تو زین رہا، خوشحال ہے، لگتا ہے اچھی جاب ملی ہے۔‘‘ اس نے اپنے کلاس فیلو کو یاد کیا۔
    ’’فائدہ ایسی ڈگری کا، ماسٹرز کرنے سے بہتر تھا میں مزدور بن جاتا۔‘‘
    سخت چلچلاتی دھوپ میں اس کی بائیک ٹریفک جام میں پھنسی تھی۔ ٹریفک سگنل پر تیسری جنس کا نمائندہ تالیاں بجا کر بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کی نگاہیں ہیجڑے سے ٹکرائیں۔
    ’’زین…؟‘‘ ایک کرب انگیز کراہ اس کے لبوں سے خارج ہوئی، اور آنکھیں بھر آئیں۔

    ایک دہائی قبل لکھی گئی اپنی یہ مختصر سو لفظی کہانی ہمیں پھر یاد آگئی جب آج ایسی ہی ایک خبر نظر سے گزری۔ خبر لاہور میں خواجہ سراؤں کے ساتھ لڑکی کا بھیس بدل کر بھیک مانگنے والے گیارہ سالہ لڑکے زین کی ہے۔ زین کے والدین ذہنی معذور ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش سے قاصر ہیں۔ زین اپنے والدین کی دیکھ بھال اور معاش کے لیے یہ کام کرنے پر مجبور ہوا۔ زین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ یعنی کسی کی غربت اور مجبوری کا مداوا کیے بغیر اس کا ’’روزگار‘‘ چھین لیا گیا۔

    صرف ایک زین ہی نہیں، اسی قبیل کے کئی کردار روز نگاہوں کے سامنے سے گزرتے ہیں جو اپنی مجبوریوں، غربت اور ملک میں بڑھتی ہوشربا مہنگائی کے باعث ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ بھیک مانگنا کوئی قابل ستائش عمل تو نہیں، لیکن پیٹ بھرے لوگوں کے نزدیک کسی کی مجبوری صرف عذرِ لنگ ہوتی ہے۔ جب تک کوئی خود اس کرب اور تکلیف سے نہ گزرے وہ دوسروں کی مجبوریوں کو بھی تنقید کا نشانہ ہی بناتا ہے۔ بھیک مانگنے یا بقول معترضین یہ ’’قبیح فعل‘‘ سرانجام دینے کے بجائے ’’مزدوری کرلیتا‘‘ وغیرہ وغیرہ جیسے مشورے گھڑے جاتے ہیں۔ لیکن ملک کی اس وقت جو معاشی صورتحال ہے اس میں تو ایک غریب مزدور کے گھر کا چولہا بھی بجھ چکا ہے۔ ملک میں غربت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ لوگ اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر نے روح تک کو لرزا کر رکھ دیا جس میں ایک ماں اپنی بچی کے ساتھ ’’بیٹی برائے فروخت‘‘ کا کارڈ اٹھائے کھڑی ہے۔

    ملک میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور حکومت کی ’’شوبازیاں‘‘ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ اس پر مستزاد عوام پر ایک اور ’’پٹرول بم‘‘ گرادیا گیا ہے۔ اور اس بار دس بیس روپے نہیں بلکہ پٹرول کی قیمت میں پورے 35 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں یہ ریکارڈ اضافہ مزید مہنگائی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ عوام کو سہولت دینے کےلیے اشرافیہ کی عیاشیاں ختم کردی جاتیں۔ حکومت کے مشکل فیصلوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ استہزائیہ پوسٹیں بھی گردش میں ہیں کہ ’’اگر واقعی مشکل فیصلہ کرنا ہے تو ملک میں کسی کو بھی ایک لیٹر پٹرول، نہ ہی ایک یونٹ بجلی مفت ملے۔ پلاٹس واپس، پروٹوکول و دیگر الاؤنسز ختم، یہ ہے مشکل فیصلہ۔ جنھوں نے ملک کو لوٹا ہے ان کی جائیدادیں نیلام کرکے قومی خزانے میں ڈالو، یہ ہے مشکل فیصلہ۔ پٹرول مہنگا کرنا تو سب سے آسان فیصلہ ہے جو آپ نے فوراً کرلیا‘‘۔

    معیشت کی بحالی کے لیے جو وزیر خزانہ بہت زور و شور سے واپس لایا گیا اُن کے مطابق ’’حکومت کے پاس معاشی بحران حل کرنے کےلیے کوئی جادو کی چھڑی نہیں‘‘۔ یہ بات تو عوام بھی جانتے ہیں، ملک کے حالات جادو کی چھڑی سے نہیں بلکہ اصلاحات اور درست پالیسی سے ہی تبدیل کیے جاسکتے ہیں لیکن اس جانب بھی تو پیش رفت نہیں کی جارہی۔ صرف عوام پر ہی زور چل رہا ہے لیکن عوام پر یہ جبر بھی اپنی حدیں پار کرچکا ہے۔ ’’پاکستان کی معاشی ترقی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے‘‘ جیسے بیان دینا وزیرخزانہ کو زیب دیتا ہے؟

    عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ صرف عوام سے ہی کیوں قربانی مانگی جاتی ہے؟ اس ملک کے امرا اور اشرافیہ کیوں قربانی نہیں دیتے۔ حکومت اور اپوزیشن میں شامل وزرا اپنی عیاشیاں کیوں ختم نہیں کرتے؟ ایوان و عدلیہ میں بیٹھے افراد کا پروٹوکول ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ آخر کب تک عوام ہی بوجھ اٹھاتے رہیں گے، قربانیاں دیتے رہیں گے؟

    وزیراعظم پاکستان اپنے نمائشی بیانات میں کہہ تو رہے ہیں کہ ’’میں اپنی ساری سیاسی کمائی پاکستان کےلیے قربان کرنے کو تیار ہوں، ملک و قوم کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ قربانی کب دی جائے گی؟ ایک طرف قربانی کی باتیں اور دوسری جانب عمل یہ ہے کہ حکومت نے عیاشیوں کےلیے 135 بی ایم ڈبلیو گاڑیاں منگوانے کی اجازت دے دی۔ وزیراعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ ’’شوبازیاں‘‘ ختم کرکے عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ عوام کا دل صرف باتوں سے نہیں بہلائیے بلکہ حقیقی ریلیف فراہم کیجیے۔ ان پالیسیوں اور سوچ کو ترک کیجیے جس کی وجہ سے آج عوام کو یہ برے دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔ قربانیاں صرف عوام سے نہ مانگیے بلکہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی اشرافیہ اور بالائی طبقے کا تمام تر پروٹوکول، سیاستدانوں اور بڑے سرکاری افسران کی مراعات کا خاتمہ کرکے ملکی خزانے سے بوجھ کم کیا جائے۔

  • Vavada Casino



    Погрузитесь в азарт с Vavada official


    Vavada official

    Попробуйте свои силы в захватывающих играх с лучшими шансами на победу. В Vavada official вас ждут тысячами уникальных игровых автоматов, карточных игр и живых казино. Присоединяясь к нам, вы получаете доступ к эксклюзивным бонусам, которые явно увеличат ваши шансы на успех.

    Пользуйтесь удобным интерфейсом и быстрыми выплатами. Служба поддержки всегда готова помочь, а система лояльности порадует регулярными акциями и подарками. Каждый клиент становится частью нашей дружной семьи. Не упустите возможность испытать удачу и выиграть крупный приз в Vavada official!

    Как выбрать подходящие игры для успешной игры на Vavada?

    Определите свой игровой стиль: предпочитаете ли вы слоты, настольные игры или живое казино? Это поможет сосредоточиться на тех играх, которые вам действительно интересны.

    Исследуйте RTP (возврат игроку): выбирайте игры с высоким RTP, так как это увеличивает шансы на выигрыш. Обычно, более 95% считается хорошим уровнем.

    Изучите правила и стратегии каждой игры. Например, в покере важно понимать, когда блефовать, а в блэкджеке – основную стратегию подсчета карт. Соблюдение правил позволяет избежать ошибок и повысить шансы на успех.

    Используйте бонусы и акции на официальном сайте вавада. Бонусы увеличивают банкролл и предоставляют дополнительные шансы на выигрыш.

    Тестируйте игры в режиме демо. Это поможет понять механику и особенности без риска потери денег. Не бойтесь экспериментировать с разными играми.

    Следите за новыми релизами и новинками. Игры с инновационными функциями могут предложить уникальный опыт и возможности для выигрыша.

    Обсуждайте с другими игроками. Сообщества и форумы предоставляют ценную информацию о том, какие игры наиболее прибыльные и интересные.

    Выбор игры требует внимания и анализа. Подходите к этому процессу осознанно, и успех не заставит себя ждать.

    Топ-5 стратегий для увеличения шансов на выигрыш в казино Vavada

    Используйте бонусы на максимуме. Применяйте приветственные предложения и фриспины, чтобы увеличить стартовый капитал. Читайте условия и выбирайте наиболее выгодные акции.

    Изучите правила игр. Подробное понимание правил карточных игр и слотов помогает принимать более взвешенные решения, что напрямую влияет на шансы на успех.

    Управляйте банкроллом. Установите лимиты на ставки и строго следуйте им. Стабильное распределение бюджета помогает избежать больших потерь и поддерживать игру.

    Выбирайте игры с высоким RTP (возвратом игроку). Игры с высоким процентом возврата предлагают лучшие шансы на выигрыш. Изучите список доступных игр и выбирайте те, у которых RTP выше 95%.

    Играйте в режимах с низкой волатильностью. Игры с низкой волатильностью обеспечивают частые, но небольшие выигрыши. Это помогает поддерживать игровой баланс и увеличивает шансы на успешный выход.

    Как могут бонусы и акции Vavada улучшить ваш игровой опыт?

    Регулярно используйте приветственные бонусы для увеличения своего игрового банкрота. Например, новые игроки могут получить увеличенный процент на первый депозит, что позволяет начать игру с большими ставками.

    Следите за акциями, которые предлагает Vavada. Каждый месяц проводятся специальные турниры и розыгрыши, участие в которых не только приносит удовольствие, но и шанс выиграть дополнительные призы.

    Воспользуйтесь системой лояльности. Чем больше вы играете, тем больше бонусов накапливаете. Этапы программы лояльности предлагают эксклюзивные предложения и даже персонализированные подарки, что делает игру более увлекательной.

    Не забывайте о регулярных фриспинах. Это возможность бесплатно попробовать новые слоты и увеличить свои шансы на выигрыш, не risking свои средства.

    Следите за акциями на определенные игры. Часто Vavada проводит акции на конкретные слоты, где можно получить дополнительные бонусы или увеличить коэффициенты выигрыша.

    Следуйте за новостями и подписывайтесь на рассылки. Таким образом, вы всегда будете в курсе самых свежих предложений и сможете воспользоваться уникальными шансами.


  • معاشی بحران؛ طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت

    معاشی بحران؛ طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو گرین لائن ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں پوری امید ہے کہ آئی ایم ایف سے اسی ماہ معاہدہ ہوجائے گا،مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، ملک کو موجودہ گرداب سے نکالیں گے۔

    گزشتہ حکومت کی جانب سے اداروں پر بے بنیاد الزام تراشی اور چینی کمپنیوں پر کرپشن کے الزامات سے چینی حکام کو تکلیف پہنچی ، ان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے برف پگھل رہی ہے، ایم ایل ۔ون منصوبہ کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے، ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مد نظر رکھ کر اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے، خوراک اورادویات کی درآمد کو اوّلین ترجیح دی گئی ہے،ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں، دن رات محنت کرکے دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں گے۔

    وزیراعظم پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے جو بات کی ہے‘ حکومت کے حالیہ اقدامات سے لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے ‘ ڈالر کی قدر طے کرنے کے لیے کیپ کا خاتمہ اس سلسلے کا اہم اقدام ہے۔

    اگر یہی کام پہلے کر لیا جاتا تو اب تک ڈالر کی قدر میں جتنا اضافہ ہونا تھا وہ اضافہ ہو چکا ہوتا اور اب اس کی قیمت میں استحکام آ جاتا لیکن حکومت کی معاشی ٹیم نے اپنے طور پر کوشش کی کہ ڈالر کی قیمت کو ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور بلاآخر پاکستان کو یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔

    پاکستان جس قسم کے مالیاتی اور معاشی بحران میں مبتلا ہے ‘ اس سے نکلنے کے لیے روایتی مانیٹری اقدامات کارگر ثابت نہیں ہو سکتے‘ پاکستان پر عالمی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے‘ اسی وجہ سے پاکستان کے لیے قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی پاکستان کی سالانہ پیداوار اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔

    پاکستان پر محض عالمی مالیاتی اداروں کا قرضہ ہی نہیں ہے بلکہ عالمی نجی مالیاتی اداروں اور ممالک کا بھی قرضہ ہے۔ ان میں چین سرفہرست ہے۔ یوں پاکستان قرضوں کے ایسے چنگل میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنا بظاہر ممکن نظر نہیں آ رہا۔آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے سے ملک کے اندر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے ملک کے درمیانے اور نچلے طبقے کی مشکلات میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔

    وزیراعظم میاں شہبازشریف کے علاوہ جمعے کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی گرین لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ۔انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔پاکستان معاشی دلدل میں ہے۔ انشاء اللہ اس دلدل سے نکل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا میں رہنے کے لیے قائم کیا ہے، یہ واحد ملک ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر بنا تھا حتی کہ سعودی عرب بھی کلمہ شریف کے نام پر نہیں بنا۔ اگر اللہ نے پاکستان بنایا ہے تو اس کی حفاظت ، ترقی اور خوشحالی بھی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے تاہم بطور قوم ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی۔

    وفاقی وزیر خزانہ کی یہ باتیں معاشی حقائق کے تناظر میں نہیں تھیں ‘ اس کا مطلب یہی ہے کہ ان کے پاس معاشی اور مالیاتی مسائل کا کوئی پائیدار حل موجود نہیں ہے۔ محض ڈالر کو کنٹرول کرنے اور امپورٹ پر پابندی عائد کردینے سے ملک کا مالی بحران ختم نہیں ہو سکتا ‘ سری لنکا نے بھی ایسا تجربہ کیا تھا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا ۔ پاکستان میں اچانک امپورٹ پر پابندی عائد کر دینا ‘زیادہ مسائل کا باعث بنا ہے ‘اس کے لیے طویل المدتی پالیسی کی ضرورت ہے۔

    پاکستان ابتدائی طور پر ایسی امپورٹ بند کرے جو طبقا امرا کی آسائشوں سے تعلق رکھتی ہے۔مثال کے طور پر کتوں اور بلیوں کی خوراک امپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے تو اس سے عام آدمی یا درمیانے طبقے کے لوگوں پر اثر نہیں پڑے گا ‘ اسی طرح لگژری گاڑیوں کی امپورٹ پر بھی کچھ مدت کے لیے پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    پاکستان میں جن اداروں نے اسمبلنگ پلانٹ لگا رکھے ہیں ‘ انھیں ایک مقررہ ٹائم فریم دے دیا جائے کہ وہ اس عرصے میں پرزہ جات خود تیار کریں اور ان کی امپورٹ بند کر دی جائے۔ اسی طرح دودھ اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں جن میں چاکلیٹس وغیرہ ہیں ان کی امپورٹ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    کنسٹرکشن کا شعبہ کیونکہ بہت بڑا ہے اور اس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں کا روز گار وابستہ ہے ‘ اس لیے اس شعبے کے لیے درآمدات پر بھی فوری پابندی درست نتائج نہیں دے گی‘ اس کے لیے بھی طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے اور مقامی پروڈکٹس کی تیاری اور کوالٹی پر توجہ دی جائے ‘ اس کے بعد ایسی درآمدات پر کچھ مدت کے لیے پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

    معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پاکستان کی معاشی صورتحال سنگین ہوگئی ہے ڈالر کی قدر بڑھنے اور آئی ایم ایف کی دیگر سخت شرائط سے ملک مہنگائی کا سیلاب امڈ آئے گا کاروباری و ٹرانسپورٹیشن لاگت سنگین حد تک بڑھ جائے گی اور مزید بیروزگاری بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 30جون 2023 تک پاکستان کو مجموعی طور پر 8ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں جس میں سے 3ارب ڈالر کے قرضے رول اوور ہونے کی توقع ہے۔یہ صورت حال یقینا حکومت کے علم میں ہے ‘اب ملک کو مسائل کا سامنا ہے تو یقینی طور پراس کے حل کے لیے کام بھی کرنا ہو گا۔

    میڈیا کی اطلاع کے مطابق ڈالر بحران پر قابو پانے کے لیے ایکس چینج کمپنیز آف پاکستان نے حکومت کو ماہانہ ایک ارب ڈالر لانے کی پیشکش کردی ہے۔

    ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چئیرمین نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقامی ایکس چینج کمپنیاں بیرونی ممالک سے ماہانہ ایک ارب ڈالر ملک میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو اوورسیز پاکستانیوں اور کمپنیوں سے دوسال کے ادھار پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایکس چینج کمپنیاں اس ضمن میں وفاقی حکومت کی اجازت کے طلبگار ہیں۔

    ملک بوستان نے بتایا کہ مقامی ایکسچینج کمپنیوں نے1998کے ڈالر بحران کے دوران بھی بیرونی ممالک سے پاکستان کے لیے 10ارب ڈالر کا بندوبست کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈالر بحران کی بڑی وجہ بغیر ایل سی واجازت کے 4ارب ڈالر کی درآمدات ہیں، درآمدکنندگان کو مطلوبہ پیشگی اجازت کے بعد اپنے درآمدی کنسائمنٹس کی شپمنٹ منگوانی چاہیے تھی۔

    انھوں نے کہا کہ کیپ ختم کرنے سے ڈالر اپنی حقیقی قیمت پر آگیا ہے لہٰذا برآمدی شعبوں کو چاہیے کہ وہ بیرونی ممالک روکے ہوئے 8 سے 10ارب ڈالر کی برآمدی آمدنی کی ترسیلات بیرونی ممالک میں ہیں جو اب ڈالر ریٹ بڑھنے سے پاکستان میں لاکر کیش کرائے جاسکتے ہیں۔

    اگلے ماہ آئی ایم ایف جائزہ ٹیم کی پاکستان آمد سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ کے دوران پاکستان کا قرض پروگرام بحال ہوجائے گا جو ذرمبادلہ کے بحران کی شدت میں قدرے کمی کا سبب بنے گا۔

    اس حوالے سے حکومت کی پالیسی درست ہے کیونکہ ڈالر کو زبردستی کنٹرول نہیں کیا جا سکتا‘آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو جائیں گے کیونکہ جون 2023 تک 2.8ارب ڈالر کے دوطرفہ اور سہ طرفہ قرضوں کی لازم ادائیگیوں کے دباؤکی وجہ سے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر گھٹ جائیں گے لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے پاکستان اس بحران سے نکل آئے گا۔

    آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد پاکستان کے لیے سب سے اہم چیزملک کی مارکیٹ فورسز کو ریگولرکرنا ہے۔ملک میں کھانے پینے کی اشیا کی بلاجواز مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے میکنزم بنانے کی ضرورت ہے۔اس وقت خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہول سیل مارکیٹس میں دالوں کا اسٹاک بہت کم رہ گیا ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کراچی پورٹ پر موجود دالوں کو فوری کلئیر نہ کیا گیا تو دالوں کی قلت بہت زیادہ ہوجائے گی۔

    یہ ایسی صورت حال ہے جس کے بارے میں حکومتی اداروں کے پاس یقینا مکمل رپورٹس اور ریکارڈ ہو گا۔ملک میں ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے پہلے سے امپورٹ کی ہوئی اشیا کی قیمتیں بھی ڈالر کی کل پرسوں کی قیمتوں کے تناظر میں بڑھا دی ہیں‘یہ پاکستان میں باقاعدہ ایک کاروباری کلچر بن چکا ہے۔

    اس حوالے سے ایک پالیسی ہونی چاہیے جس کے تحت اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو اشیا ایک ماہ پہلے یا اس سے بھی پہلے امپورٹ ہو چکی ہیں ان کی ریٹیل پرائس کو آج کے ڈالر ریٹ کے تناظر میں نہ بڑھایا جا سکے ۔

  • شیخ کمال الدین خان داؤد زئی

    شیخ کمال الدین خان داؤد زئی

    نیشنل ازم (قوم پرستی) کی تشکیل کے بارے میں مفکرین اور دانش وروں کے مختلف نظریات ہیں، لیکن ان سب میں انہوں نے ان عناصر کی نشان دہی کی ہے کہ جو گروپوں، جماعتوں اور برادریوں کو آپس میں ملاتے ہیں اور ایک قوم کی صورت میں متحد کرکے ان میں نیشنل ازم کا جذبہ پیدا کرتے ہیں، جب کہ بعض مفکرین اسے زبان، تاریخ اور کلچر کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اور بعض اسے صنعتی عمل اور سرمایہ داری کے عروج کے ساتھ منسلک کر کے ایک جدید نظریہ سمجھتے ہیں، جس وجہ سے نیشنل ازم اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

    اس کے تین عناصر ہیں، خودمختاری، اتحاد اور شناخت، یہ تین اہم کردار اسے آگے کی جانب بڑھاتے ہیں یہ معاشرہ کو ذہنی طور پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد ملک و معاشرے کے لیے جدوجہد کریں اور اگر ضرورت پڑے تو اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔

    بہرحال جن لوگوں نے پختونوں کی تاریخ، ان کی زبان و ادب کا مطالعہ کیا ہو شاید وہ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ قوم پرستی کا تصور اور جذبہ اس قوم کے عوامی ادب (فوک لور) میں بدرجہ اتم موجود ہے۔

    اس کے علاوہ پشتو زبان کے کلاسیکی ادب میں بھی قوم پرستی اور وطن دوستی کے واضح اشارے موجود ہیں اور اس ضمن میں بہت سی مثالیں اور اشعار کا نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے لیکن طوالت کے ڈر سے ان مثالوں اور نمونوں سے صرف نظر کرتے ہوئے یہاں صرف ایک تاریخی واقعے اور ایک تاریخی کردار کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    تاکہ اس حقیقت سے پردہ اٹھ سکے کہ تاریخ میں پہلی پختون ریاست کے قیام کے لیے کس نے تحریک چلائی؟ اگرچہ اس سلسلے میں سب سے پہلے پشتو زبان کے معروف ادیب اور محقق مرحوم دوست محمد خان کامل مومند نے قلم اٹھا کر پشتو زبان میں ایک پوری کتاب ’’1630ئ‘‘ کے نام سے لکھ کر شائع کی ہے اور اس بات کا سارا کریڈٹ بھی مرحوم دوست محمد خان کامل کو جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار پختونوں کی نئی نسل کو اپنے اس عظیم قوم پرست ہیرو شیخ کمال الدین خان داؤد زئی سے روشناس کروایا اور کئی معتبر تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ پختونوں کی تاریخ میں پہلی بار جو وطن پرستی کی تحریک اٹھی تھی اس کے روح رواں اور محرک شیخ کمال الدین خان داودزئی تھے اور جیسا کہ علت و معلول کا فلسفہ ہے کہ ہر واقعے کا رونما ہونا کسی نہ کسی علت اور سبب کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    اس طرح کمال الدین خان کی بغاوت اور تحریک کے پیچھے بھی کئی عوامل کار فرما تھے، جس کی وجہ سے مجبوراً کمال الدین خان داؤد زئی نے مغل حکم راں شاہ جہاں کے خلاف علم بغاوت کرکے اٹک سے لے کر کابل تک پختونوں کے تمام قبیلوں کو اکٹھا کر کے پشاور شہر کا محاصرہ کیا اور اپنے لوگوں میں اس بات کا جذبہ اور شعور بیدار کیا کہ بحیثیت ایک بڑی تاریخی قوم کے ان کی اپنی ایک الگ قومی ریاست ہونی چاہیے، جہاں پختون اپنی زندگی آزادی کے ساتھ اور اپنے رسم و رواج کے مطابق گزار سکیں۔

    شاہ جہاں کے خلاف اٹھنے والی اس چنگاری نے اس وقت شعلوں کی شکل اختیار کرلی جب 1039ء میں خان جہاں لودھی بادشاہ کے مخالف ہو گئے چوں کہ دریا خان جو کہ خان جہاں لودھی کا قریبی دوست اور کما ل الدین خان کا بہنوئی تھا لیکن پھر بھی دریا خان نے خان جہاں لودھی کا ساتھ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ایک روز برہان پور میں بادشاہ نے برسبیل تذکرہ خان جہاں لودھی کی بغاوت کے حوالے سے برسر دربار دریا خان کو مخاطب کر کے فارسی میں کہا، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’دریا خان! تم نے تو سنا ہے کہ افغانستان میں غیرت قبرستان سے داخل ہوتی ہے۔

    اس لیے تم بہ نام و نشاں افغان ہو لیکن اس مصیبت کے وقت اپنے یار (خان جہاں لودھی) کے ساتھ کیوں شریک نہیں ہوئے۔‘‘ دریا خان کو یہ بات بہت ناگوار گزری ان کی غیرت افغانی جوش میں آئی اس روز اعزاز و منصب کو خیرباد کہہ کر برہان پور سے چل دیے اور خان جہاں لودھی کے پاس پہنچ کر اس کے مددگار ہوگئے۔ بعد میں دیوان صدر خان افغان سید خیل داؤد زئی نے بھی دریا خان کا ساتھ دیا۔

    خان جہاں لودھی نے بمقام پیر گاؤں اور دریا خان نے قصبہ بنوسہ علاقہ نظام الملک میں جا کر قیام کیا لیکن ان ایام میں دریا خان اور خان جہاں لودھی کے اشتعال انگیز خطوط بھیجنے سے دریا خان کے سالے شیخ کمال الدین خان جو اس وقت علاقہ پشاور کے گاؤں گیدڑ میں تھے مخالف و بغاوت پر کمربستہ ہو کر مغل حکم رانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

    کمال الدین خان نے اپنی جوشیلی تقریروں سے پختونوں کے تمام قبائل کو دریائے اٹک تا کابل اپنے ساتھ متفق و متحد کر کے پشاور شہر کا محاصرہ کیا، جس کی خبر پاکر سعید خان ظفر جنگ منصب دار شاہی جو اس وقت تھانہ کوہاٹ میں تعینات تھے پشاور پہنچے اور ایک زبردست جنگ ہوئی، جس میں کچھ اندرونی سیاسی وجوہات اور مصلحتوں کی وجہ سے کمال الدین خان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ 21 جولائی منگل کا دن اور 1630ء یعنی 1040ء ہجری کا زمانہ تھا۔ اٹک سے لے کر کابل تک اچانک ایک ایسی قومی تحریک اٹھی جس نے شاہ جہاں بادشاہ کے رعب، دبدبے اور حاکمیت پر کپکپی طاری کر دی پختونوں کے تمام قبائل نے کمال الدین خان داؤد زئی کی قیادت میں پورے پشاور شہر کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور اپنے خطے کو مغل حکم راں کے چنگل سے آزاد کرانے کا پختہ عزم کر رکھا تھا۔

    کمال الدین خان نے شیخ عبدالقادر احداد خان اُرمڑ کو بھی اعتماد میں لے کر اس بغاوت میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی جو کہ معہ کریم داد پسر جلالہ و محمد زمان پیر بردار خان اور سکنہ کوہ تیراہ بنگش خٹک اور دیگر قبائل شیخ عبدالقادر گزر گاہ ایلم گودر پر پشاور سے سات کوس کے فاصلے پر کمال الدین خان سے آکر مل گیا۔ شیخ عبدالقادر کے پہنچنے سے قبل کمال الدین خان نے بھی اپنی تیاری مکمل کرلی تھی اور قبیلہ محمد زئی، گگیانی، مومند، داؤد زئی، یوسف زئی وغیرہ کو جمع کر رکھا تھا۔

    سعید خان ظفر جنگ نے اول شہر کے باہر ان سے مقابلہ کرنے کا قصد کیا مگر بعد میں مخالفین کی کثرت پر خیال کرکے یہ ارادہ ترک کردیا اور شہر کے حصارخام کی مرمت اور مورچہ بندی کرکے مدافعت کی تیاری کی۔ مخالفین نے چاروں طرف سے شہرکا محاصرہ کرلیا اور محلہ ہائے بیرون حصار میں تمام قبائل متفرق طور پر متعین ہوگئے اور طرفین ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے آمنے سامنے آگئے۔

    تلواریں چلتی رہیں، نیزے چلتے رہے، پختونوں کے تمام قبائل بڑی جواںمردی سے لڑ رہے تھے اور عین ممکن تھا کہ مغل فوج بھاگنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرتی کہ کریم داد اور شیخ عبدالقادر نے میدان جنگ سے فرار اختیار کرلی اور اپنے تمام ساتھیوں کو میدان سے پسپائی اختیار کرنے کا اشارہ کر دیا۔

    کمال الدین خان کو جب اس بات کا علم ہوا تو فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر عبدالقادر کے پاس پہنچے اور انہیں سمجھایا کہ میں آپ کو اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد ہم سرخ روہو کر اقتدار کے مالک ہوں گے اور پشاور پر ہمارا قبضہ ہوگا، لیکن خدارا آپ اپنے ساتھیوں کو جنگ سے باز رکھنے کی تلقین مت کریں، لیکن عبدالقادر نے جواب دیا کہ میں کیا کروں ماموں کریم داد کا یہی حکم ہے۔ کمال الدین خان پھر کریم داد کے پاس بھی گئے اور اس کے سامنے اپنی جھولی پھیلائی کہ آپ لوگ میدان مت چھوڑیے، کچھ دیر کے لیے رک جائیں کیوں کہ یہ ہماری عزت اور پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔

    پختون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مغل حکم رانوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرکے اپنی قومی ریاست کے مالک بن جائیں گے، لیکن کریم داد اور عبدالقادر دونوں نے کمال الدین خان کی بات نہیں مانی اور میدان جنگ سے واپس ہوگئے، جب کہ عمر خان مہمند زئی آخری وقت تک بڑی بہادری سے لڑتے رہے۔ بہرحال عبدالقادر اور کریم داد کی پسپائی نے کمال الدین خان کی جیتی ہوئی بازی کو ہار میں بدل دیا اور اس طرح پختونوں کی یہ پہلی قومی بغاوت اور تحریک اپنے ہی لوگوں کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئی۔

    ملا محمد صالح لاہوری اپنی تاریخ عمل صالح میں لکھتے ہیں کہ کمال الدین خان اٹک سے لے کر کابل تک پختونوں کی ایک الگ ریاست بنانا چاہتے تھے اور پختونوں کے تمام قبیلوں کو اعتماد میں لیا تھا اور اسے اس بات پر بھی آمادہ کیا تھا کہ ہم کب تک مغل حکم رانوں کے زیرسایہ رہیں گے۔ جہانگیر اپنی تزک جہانگیری میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے شیر خان افغان کے بیٹے کمال الدین کو ھفتدی (700) اور (500) سوار منصب عطا کیا تھا۔

    شیر خان افغان سے مراد شیخ رکن الدین روہیلہ ہے۔ تاریخ بادشاہ نامہ جلد اول میں فہرست منصب داروں میں بھی کمال الدین ولد شیر خان روہیلہ کا منصب ھشتصدی (800) اور قانصد (500) سوار لکھا گیا ہے۔ کمال الدین خان کے والد شیر خان کو جہانگیر نے پشاور کی جاگیر احمد بیگ کابلی سے لیا تھا اور ساتھ ہی درۂ خیبر کی حفاظت و ذمے داری بھی سونپی تھی۔

    اسی طرح کمال الدین خان داؤد زئی سکنہ گیدڑ بھی بادشاہ کا منظور نظر تھا، لیکن خان جہاں لودھی اور دریا خان کی بادشاہ سے مخالفت پیدا ہونے سے بہت پہلے جب کمال الدین خان نے مغل حکم رانوں کا پختونوں کے ساتھ ناروا سلوک اور رویہ دیکھا تو ان کی غیرت جاگ اٹھی اور اسی دن سے وہ اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کس طرح پختونوں کے تمام قبائل کو متحد کرکے مغل حکم رانوں سے اپنی سرزمین خالی کرائیں اور اپنی قوم کے لیے ایک الگ قومی ریاست قائم کریں۔

    اس لیے انہوں نے بادشاہ کا عطاکردہ اعلیٰ منصب چھوڑ کر پورے صوبے اور کابل کے نواح کا دورہ کیا اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا۔ بہرحال کمال الدین خان اس وقت اپنے مقصد میں تو کام یاب نہیں ہوئے لیکن اس بات کا سارا کریڈٹ بھی انہیں جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار پختونوں میں قومی شعور اجاگر کیا اور انہیں اپنے لیے ایک الگ ریاست قائم کرنے کا نظریہ اور تصور دیا، جسے بعد میں میر ویس خان غلجی اور احمد شاہ ابدالی نے عملی شکل دے کر افغانستان کے نام سے ایک الگ ریاست قائم کردی، لیکن افسوس کہ ہماری نئی نسل آج بھی اپنے اسلاف کے کارناموں اور ان کی جدوجہد سے بالکل نابلد ہے۔

    اس وجہ سے شیخ کمال الدین خان داؤدزئی کے نام اور ان کی پہلی قومی تحریک سے بھی پختونوں کی اکثریت بے خبر ہے، کیوں کہ ہماری تاریخ آج بھی صرف درباروں، بادشاہوں، راجاؤں اور نوابوں کے گرد گھومتی ہے اور ان واقعات اور کرداروں سے جان بوجھ کر پہلوتہی کرتی رہی ہے، جن کے ذکر سے لوگوں میں ایک مثبت قومی اور طبقاتی شعور کا پیدا ہونا ایک فطری اور تاریخی امر ہے۔

    1630ء کی اس قومی تحریک کے روح رواں کمال الدین خان کے بارے میں آج تک تاریخی کتب میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے اس میں شیخ کمال الدین داودزئی ان کو ایک ایسی شکل میں پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے بادشاہ سے بے وفائی کر کے ان کے خلاف انتشار اور فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی تھی، اور ظاہر ہے کہ کمال الدین خان اس وقت اپنی قوم کے لیے جو کچھ کرنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے جو منصوبہ بندی کی تھی اسے مغل دربار سے وابستہ مورخین یا اس کے بعد دیگر درباری قسم کے تاریخ لکھنے والے انتشار اور فتنہ کا نام نہیں دیں گے تو اور کیا نام دیں گے؟

    ایک محکوم قوم یا ایک محکوم طبقے کی اس طرح کی تحریک حاکم قوم اور طبقات کے لیے انتشار اور فتنہ ضرور ہوتا ہے لیکن محکوم قوم کے لیے وہ ایک قومی اور آزادی کی تحریک اور انقلاب کی بنیاد بنتا ہے۔ پھر انقلاب اور بغاوت میں بھی بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ کمال الدین خان نے 17 ویں صدی یعنی فرانسیسی انقلاب سے بہت پہلے اپنی قوم میں قوم پرستی کی داغ بیل ڈال کر قوم پرستی اور وطن پرستی کی تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول کیوں پیدا نہیں ہورہا؟

    پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول کیوں پیدا نہیں ہورہا؟

    پاکستان ان دنوں اپنے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ یہ معاشی بحران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی شدید قلت اور عالمی اداروں کی جانب سے امداد اصلاحات کے ساتھ مشروط کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی معیشت کا انحصار درآمدات پر ہے اور پاکستان کو ایک بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

    اب پاکستان کو نہ صرف عالمی مالیاتی ادارے بلکہ دوست ملک بھی معاشی اصلاحات اور ٹیکس نیٹ بڑھائے بغیر امداد دینے کو تیار نہیں۔ اور اب تو سعودی وزیر خزانہ نے کھل کر یہ بات کہہ بھی دی ہے۔

    اگر پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے جان چھڑانی ہے اور ملک کو ڈالر کمانے کے قابل بنانا ہے تو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں کاغذ پر تحریر بہترین پالیسیاں عملی طور پر بری طرح ناکام ہورہی ہیں؟ ایسے میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز سے وابستہ نوفل شاہ رخ کا پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول پر سابق وزیر مملکت اور سابق سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین محمد اظفر احسن کے کلیدی خطاب کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ محمد اظفر احسن نے سابقہ وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر تقریباً ساڑھے پانچ ماہ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین کے طور پر خدمات سرانجام دی تھیں۔ اور وہ کسی قسم کا سیاسی بوجھ بھی اپنے کندھے پر لادے ہوئے نہ تھے۔ اس وجہ سے ان کی گفتگو ایک ٹیکنوکریٹ اور محب وطن پاکستان کی بات سمجھی جانی تھی، اس لیے مجلس میں آن لائن میں بھی شریک ہوگیا۔

    محمد اظفر احسن نے گفتگو کی ابتدا حکومتی سطح پر پالیسیوں میں عدم تسلسل سے کی۔ کیونکہ جب وہ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے تو سابقہ حکومت کے چوتھے چیئرمین تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ حکومت نے پانچواں فائنانس سیکریٹری تعینات کیا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا چھٹا چیئرمین تین سال میں کیا۔ یہ تمام عہدے ملکی اقتصادیات اور معیشت کےلیے انتہائی کلیدی ہوتے ہیں اور تین سال سے کم عرصے میں ان عہدوں پر مسلسل تبدیلی اصل حقیقت کو آشکار کرتی ہے۔

    ملک میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کاروبار اور صنعت چلانے کو جہاد قرار دیا۔ اظفر کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کا اصل مسئلہ بیوروکریسی کا رویہ ہے۔ ایف بی آر اسی پر بوجھ ڈالتا ہے، جو ٹیکس نیٹ میں ہے۔ اور جو نیٹ سے باہر ہے وہ مزے کررہے ہیں۔ اظفر نے اس بات کی بھی نفی کی کہ پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرنے نہیں آتا۔ بطور بی او آئی چیئرمین ان کا تجربہ ہے کہ مقامی اور غیر ملکی پرانے اور نئے سب سرمایہ کار مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بیورکریسی مقامی اور غیر ملکی سب سرمایہ کاروں کو دفاتر کے چکر ہی لگواتی رہتی ہے اور ان کے ہاتھ پکڑنے اور مسائل کو حل کرنے کے بجائے مسائل کو بڑھایا جاتا ہے۔ نتیجتاً سرمایہ کار اس قدر زچ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان کے علاوہ کہیں اور سرمایہ کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

    اگر چھ سے سات ملکوں اور چند صنعتوں پر توجہ دی جائے تو ہر ملک سے کئی ارب ڈالر سالانہ کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ اس کےلیے ایک ایکو سسٹم بنانا ہوگا۔ مگر ہمارے ملک میں سالانہ تین ارب ڈالر سے بھی کم غیر ملکی سرمایہ کاری آتی ہے۔ اس وقت پوری حکومت آئی ایم ایف کے چند ارب ڈالرز کےلیے پریشان ہے۔ حکومت کے کام کرنے کے طریقہ کار پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک تو باہمی تعاون کا ماحول نہیں ہے۔ ایک وزارت دوسری وزارت سے اور ایک ادارہ دوسرے ادارے سے تعاون کو تیار نہیں۔ سارا کام ایڈہاک ازم پر چلتا ہے۔ اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کی جگہ بیرونی امداد یا قرض مل جائے۔

    نجکاری کے حوالے سے بھی پاکستان میں خوامخواہ ایک سازشی نظریہ اجاگر کیا گیا ہے۔ نجکاری کمیشن اور نظام میں موجود رکاوٹیں ملکی بیمار صنعتوں اور اداروں کی نجکاری میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملکی اندرونی سیاسی مسائل میں سرمایہ کار کو گھسیٹنا درست نہیں۔ اظفر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایک کیس اسٹڈی ہے۔ اس وقت سعودیہ کا پبلک سرمایہ کاری فنڈ دنیا کا تیسرا بڑا فنڈ ہے۔ وہ پوری دنیا میں پیسہ لگا رہا ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے تمام سرکاری اداروں اور نجی شعبے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہدایت کی ہے۔ سعودی سرمایہ کاری کی وزارت نے ساڑھے پانچ ماہ میں 18 اجلاس کیے اور وہ آرمکو کی ریفائنری لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو زرعی شعبے اور فوڈ سیکیورٹی میں اپنا شراکت دار بنانے کے خواہش مند ہیں۔ سعودی عرب 8 شعبہ جات میں تیار منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ مگر حکومت تبدیل ہوگئی اور بات وہیں کی وہیں رہ گئی، کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    اور اب یہ سعودی عرب کا دردِ سر بن گیا ہے کہ پاکستان میں چیزوں کو حتمی شکل نہیں دی جاتی۔ پاکستانی سفیر جو بھی سرمایہ کاری کی فائل بھجواتا ہے وہ پاکستان سے واپس سعودی عرب جاتی ہی نہیں۔ اور سکریٹریٹ کی گرد میں کہیں دفن ہوجاتی ہے۔ چین و بھارت کے علاوہ دیگر چھوٹے ممالک سعودی عرب میں تیار منصوبے لاتے ہیں اور سرمایہ کاری کی منظوری مل جاتی ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو اپنی فوڈ سیکیورٹی کا شراکت دار بنانا چاہتا ہے۔ سعودی عرب ایک خصوصی زرعی زون قائم کرنا چاہتا ہے، جس کےلیے بلوچستان میں زمین کی بھی نشاندہی کردی ہے۔ مگر اس پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔

    چین کے ساتھ حکومتی بنیادوں پر خصوصی معاشی زونز بنانے کا کام کرنا چاہیے کیونکہ چین 22 ملکوں میں خصوصی معاشی زونز حکومتی شراکت داری میں بناچکا ہے۔ اور اگر چین یہ کام کرتا ہے تو پاکستان کی معیشت کےلیے یہ گیم چینجز ہوگا۔ چین بہت بڑی حقیقت ہے۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے چائنا ڈیسک سرمایہ کاری بورڈ میں ہے، تو سی پیک اتھارٹی الگ سے قائم ہے۔ اب چینی سرمایہ کار دفتر دفتر ہی گھومتا رہے گا۔ سی پیک ایک موقع ہے۔ اس میں خصوصی معاشی زونز جلد از جلد مکمل کیے جائیں، بصورت دیگر ہم بہت کچھ گنوا دیں گے۔

    آخر ان تمام مسائل کا حل کیا ہے؟ کیا نئے انتخابات اس کا حل ہوسکتے ہیں؟ اظفر احسن اس پر بھی متفق نہیں، کیونکہ 98 فیصد پارلیمنٹ انہی لوگوں پر مشتمل ہوگی جو کہ اس وقت ممبر ہیں۔ اظفر احسن کہتے ہیں کہ پاکستان کو قازقستان اور ازبکستان کے ماڈل کو اسٹڈی کرنا چاہیے اور اس پر پاکستان میں عملدرآمد کرانا چاہیے۔ پاکستان میں وزیراعظم آفس میں قابل اور اہل افراد کو سرمایہ کاری کے معاملات کی ذمے داری دی جائے تاکہ وہ بہتر فالو اپ کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول بناسکیں۔

  • نائٹ ٹمپلرز

    نائٹ ٹمپلرز

    مذہب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان ہے ۔

    اگر ہم قدیم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر دور کا انسان کسی نہ کسی کی پرستش کرتا رہا ہے ۔ اپنی حرص و ہوس کو پورا کرنے کیلئے مذہب کے نام پر بہت سے کام ہوتے رہے اور اب بھی ہو رہے ہیں ۔

    مذہبی بنیادوں پر کئی تحریکوں اور تنظیموں کی بنیاد رکھی گئی جنہوں نے انسانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔ نائٹ ٹمپلرز بھی انہی تحریکوں میں سے ایک ہے جس کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی ۔

    اس تنظیم نے دنیائے عیسائیت پرگہرے اثرات مرتب کئے ہیں جو تاریخ سے مٹائے نہیں جا سکتے ۔ معاشرے کی اصلاح ہو یا ہم مذہبوں کا تحفظ نائٹ ٹمپلرز ہر معاملے میں صف اول پر نظر آنے لگے۔ حد سے زیادہ طاقت و دولت اکثر انسان کی عقل پر پٹی باندھ دیتی ہے۔

    لیکن اصول قدرت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ نائٹ ٹمپلرز پر وہ وقت بھی آیا جب ان کے اثاتے بادشاہوں کی دولت سے بھی تجازو کر گئے اور انہوں نے ٹمپلرز سے قرض لینا شروع کیا ۔ پھر انہوں نے اس وقت کو بھی جھیلا جب ان کے ساتھیوں اور گرینڈ ماسٹر کو سرعام زندہ جلا دیا گیا ۔

    قیام کا پس منظر

    اگر ہم عیسائیت کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیشہ پیار و محبت کا درس دیا ۔ انہوں نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیا ۔ انجیل مقدس میں اس طرح کے کئی اقوال موجود ہیں جن میں سے ایک مشہور قول پیش خدمت ہے: ’’جو تم پر لعنت کرتے ہیں اْنہیں برکت دو، اور جو تم سے بْرا سلوک کرتے ہیں۔

    اْن کے لئے دعا کرو ۔ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اْسے دوسرا گال بھی پیش کر دو ۔ اِسی طرح اگر کوئی تمہاری چادر چھین لے تو اْسے قمیص لینے سے بھی نہ روکو ۔‘‘ ( انجیل لوقا ۔ 6_29تا30)

    عیسائی امراء و بادشاہ اپنی دولت اور تاجر اپنی تجارت بڑھانا چاہتے تھے ۔ غریب اپنی زندگی کی سختیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے اس لئے پوپ نے مقدس جنگ کا اعلان کیا تاکہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے ۔

    یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ میں شامل ہونے والے کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور ساتھ ساتھ انھیں مسلمانوں سے دولت ملے گی ۔

    تو لوگ مذہب اور دولت کے لئے اس لشکر میں شامل ہو گئے ۔ اس بات کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ دوران سفر انہوں نے اسی امید پر بہت سی مسلم اور یہودی بستیوں کو تاخت و تاراج کیا تا کہ انھیں دولت مل سکے اور بالآخر 1099ء کو یروشلم پہنچ گئے جو انہوں نے پانچ ہفتوں کے محاصرے کے بعد مسلمانوں کے قبضے سے لے لیا ۔ فتح کے بعد انہوں نے شہر میں موجود ہر مسلمان مرد و عورت کو بے دریغ قتل کیا ۔

    یہاں تک کہ جن لوگوں نے مسجد اقصیٰ میں پناہ لی تھی انھیں بھی نہیں چھوڑا ۔ حالانکہ مسجد اقصیٰ نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے بھی مقدس ہے مگر انہوں نے اس کی بھی بے حرمتی کی ۔ کچھ غرمسلم مصنفین نے ، جن میں ریمینڈ اور ڈیسمنڈ سیوارڈ بھی شامل ہیں ان مناظر کو اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ۔ ایک بیان کے مطابق فتح پروشلم کے بعد 70 ہزار اور دوسرے بیان کے مطابق 40 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔

    قیام اور وجہ تسمیہ

    جرمنی میں بہادر لوگوں کو ایک خطاب سے نوازا جاتا تھا جو ’’ نیخت ‘‘ کہلاتا تھا ۔ پھر وہاں سے یہ لفظ انگریزی میں آیا جو بگڑ کر نائٹ بن گیا ۔اس لئے یہ لفظ انگریزی تلفظ میں تو نائٹ ہے لیکن اگر بولنے میں مروجہ اصول و املا کی پابندی نہ کی جائے تو لفظ Knight کو ’’ کینخت‘‘ پڑھا جائے گا ۔ یروشلم کی فتح کے بعد چند اشخاص مسجد اقصی میں جمع ہوئے اور باہم حلف اْٹھا لیا کہ جو زائرین یہاں آئیں گے ہم اْن کی حمایت و خبر گیری کریں گے ۔

    یہ جماعت نائٹ ٹیمپلر ز (ہیکل سلیمانی والے نائٹ) کے نام سے مشہور ہوئی اور اپنے گروہ کو ان لوگوں نے حصول برکت کے لیے ولی برنارڈ کے نام سے وابستہ کر دیا ۔ حرم سلیمانی میں بیٹھ کے انہوں نے جو حلف اْٹھایا تھا اْس کی رْو سے یہ لوگ صرف مذہب کے سپاہی بن گئے تھے ۔

    انہوں نے دنیا چھوڑ دی، وطن بھلا دیے ۔ بیت المقدس کے سوا کسی شہر کو اپنا وطن اور شہر نہیں سمجھتے تھے ۔ گھر بار سے دست بردار ہو گئے اور سوائے خاندانِ مسیح کے خاندان کے کسی کو اپنا گھرانا نہیں بتاتے تھے ۔

    جائیداد سب کی مشترک رہتی تھی اور مشترکہ زندگی بسر کرتے ۔ ایک ہی سرمایہ سب کی دولت تھا ۔ خطروں اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے جان نثار تھے ۔ گویا ایک قوت اور ایک ہی روح سب پر حکومت کر رہی تھی ۔ ان کا سامان زینت صرف ہتھیار تھے ۔

    ان کے گھروں میں جو عبادت خانوں کا حکم رکھتے ، نہ روپیہ پیسہ ہوتا نہ سامان دولت و حشمت۔ زینت و نمائش کی چیزوں سے انہیں نفرت تھی ۔ بہت ہی سادی اور بھدی چیزوں سے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ۔ نمائش کے لیے وہاں صرف ڈھالیں، تلواریں، نیزے اور مسلمانوں سے چھینے ہوئے علم نظر آتے ۔

    لڑائی کا نام سنتے ہی اپنا فولادی اسلحہ لے کے دوڑتے ۔ پھر نہ حریف کی کثرت سے ڈرتے اور نہ دشمنوں کے جوش و خروش کی پروا کرتے ۔

    ایک دوسرا گروہ اس طرح بنا کہ یورپ سے لشکر کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی آئے تھے جو فلاکت زدہ زائروں اور بیت المقدس کے مفلس و شکستہ حال نصرانیوں کی خبر گیری کرتے تھے ، خصوصاً ان بہادروں کی تیمار داری کے لیے جو مسلمانوں سے لڑتے تھے ۔

    اس خدمت کو جن لوگوں نے اپنے ذمے لیا وہ بھی ایک قسم کے نائٹ تسلیم کیے گئے اور ’’ نائٹ ہاسپٹلر ز‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے ۔ اْنہوں نے اپنے آپ کو ولی یوحنا کی طرف منسوب کر کے اپنا خطاب ’’نائٹس آف سینٹ جان ‘‘ یعنی ’’ ولی یوحنا کے نائٹ ‘‘ قرار دیا ۔

    یہ دونوں قسم کے نائٹس فولادی خود اور چار آئینے پہنتے ۔ ’’ نائٹ آف ہولی سپیکر‘‘ (مرقد مسیح کے نائٹ ) کہلانے کے باعث سب سے زیادہ معزز خیال کیے جاتے اور چونکہ ’’لاطینی سلطنتِ ارض مقدس‘‘ کو (جو لاکھوں کروڑوں بندگانِ خدا کے خون کا سیلاب بہا کے عین مسلمانوں کے بیچ میں قائم کی گئی تھی) ان لوگوں سے مدد ملتی تھی ۔

    اس لئے وہ ان کی بے انتہا قدر کرتی اور اپنی زندگی کو انہی کے اسلحہ پر منحصر تصور کرتی ۔ زائرین یہاں سے واپس جا کر ساری مسیحی دنیا میں ان کی جانبازی اور بہادری کے قصے بیان کرتے ۔

    ایک تیسر ا گروہ ٹیو ٹانک نائٹوں کا بھی قائم ہو گیا جو نائٹ ٹیمپلرز کا ہم مذاق تھا ۔ تینوں گروہوں میں فرق اور امتیاز یہ تھا کہ ٹمپلر سفید چغہ پہنتے جس پر سرخ صلیب بنی ہوتی ۔ ہاسپٹل والے سیاہ چغہ پہنتے اور اْس پرسفید صلیب ہوتی اور ٹیو ٹانک نائٹ سفید چغہ پہنتے جس پر سیاہ صلیب ہوتی ۔

    1118ء میں فرانس کے علاقہ برگنڈی کے ایک نائٹ ’’ہیوگس دی پینس‘‘ نے مع اپنے آٹھ رفقا کے بیت المقدس کے اسقف اعظم (پوپ)کے سامنے جا کر حلف اْٹھایا کہ ’’ہم اپنی زندگی بیت المقدس کے راستوں کی نگہبانی اور زائرین کو بحفاظت لے آنے میں نذر کر دیں گے ۔ باضابطہ طور پر قانونِ ملت کی پابندی کریں گے اور بے انتہا اطاعت اور خود فراموشی کے ساتھ آسمان کے بادشاہ کی طرف سے جدال و قتال کریں گے ۔‘‘

    یہ پہلا عہد تھا جس نے ان ’ نائٹ ٹمپلرز‘ کی بنیاد قائم کی اور جب شاہ بیت المقدس بلدون ثانی نے خاص مسجد اقصیٰ کے اندر اپنا کلب قائم کرنے کے لیے جگہ دیدی تو اس نئے گروہ کو مزید مضبوطی حاصل ہو گئی ۔ بہت سے مغربی مورخین نے ’نائٹ ٹمپلرز ‘ کے قیام کی یہ وجہ بیان کی کہ جب یروشلم فتح ہوا تو دور دراز کے ملکوں سے عیسائی زائرین زیارت کے لئے یروشلم آتے تو راستے میں مسلمان ان کے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے ۔

    اس لئے ان کی حفاظت کے لئے نائٹ ٹمپلرز کا قیام عمل آیا حالانکہ بہت سے غیر مسلم مورخین بھی اس بات کو بغیر کسی تردد کے تسلیم کر چکے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے علاقوں میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی دی ہے ۔ کسی شہر کی فتح پر عیسائیوں کی طرح غیرمذہبوں کا قتل عام نہیں کیا ۔ اس لئے اس بات میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ۔

    تنظیم کے مقاصد

    دس برس بعد شہر ٹرائے میں بہ منظوری پوپ ہو نیوریوس ثالی ایک کونسل میں ہوئی جس میں اس گروہ کے لیے ایک دستور العمل مدون ہو گیا ۔ اس میں 72 قاعدے تھے جو پوپ اور اْسقف بیت المقدس کی منظوری سے رائج ہوئے ۔

    اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کی مذہبی جان نثاری اور خاص جانبازی کی اس قدر شہرت ہوئی کہ ساری مسیحی دنیا گرویدہ ہو گئی اور ہر جگہ ، ہر سر زمین سے اْن کے لیے سرمایہ فراہم ہونے لگا ۔ جس میں قوم نے اس قدر مستعدی دکھائی کہ ملوک وامرا اپنی سلطنتیں اور ریاستیں ان کی نذر کیے دیتے تھے اور ایطالیہ سے لے کر اسپین تک ہر چھوٹے بڑے حکمران نے بڑی بڑی جائیدادیں ان لوگوں کو نذر کر دیں ۔

    یہ گروہ باوجود سادگی اور مشقت و تنگی کے زندگی بسر کرنے کے دنیا کے تمام تاج داروں سے زیادہ دولت مند ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہزار ہا خلقت گھر بار چھوڑ کے ان کے جتھے میں ملنے لگی ۔

    ان کا پہلا سرغنہ جو ’’ماسٹر ٹمپلر ‘‘ کہلاتا وہی ’’ہیو‘‘ قرار پایا ۔ دوسر اماسٹر اْس کے بعد رابرٹ ڈکراؤن ہوا ۔ اْن کا جانشین ’’ ایور آرڈ‘‘ قرار پایا ۔ اور یوں ہی ماسٹروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری رہا ۔ ایور آرڈ کے عہد میں ان لوگوں کی سپہ گری اس قدر کامیاب اور باقاعدہ تھی کہ اکثر سلطنتیں اپنی فوجیں انہی کے قواعد کے مطابق مرتب کرنے لگیں ۔ صلیبی لڑائی میں اہم فوجی خدمات یہی لوگ انجام دیتے تھے ۔

    بعض مورخین کے مطابق ٹمپلرز کی عیسائیت کی خدمت صرف ایک دکھاوا تھی ۔ اس کے پس پردہ ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔ فری میسنری کی ایک کتاب ’’ اخلاق اور عقیدہ ‘‘ میں گرینڈ ماسٹر البرٹ پائیک نے لکھا ہے کہ ٹمپلرز دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کے ٹمپل کی تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔

    انگریز مصنفین کرسٹوفر نائٹ اور رابرٹ لوماس کے مطابق انھیں ایسی دستاویز اور چیزوں کی تلاش تھی جو قدیم مصری و یہودیت سے تعلق رکھتی ہوں تاکہ ان کو مخصوص طاقتیں مل سکیں اس کے لئے انہوں نے کھدائی کی اور کامیابی بھی حاصل کی ۔

    تنظیمی ڈھانچہ

    ٹمپلرز کی تین کلاسیں تھی:

    1) امیر امراء

    2) مختلف عہدوں پر فائز جنگجو

    3) خادمین

    ہر ٹمپلر کو تین گھوڑے اور ایک نوکر رکھنے کی اجازت تھی ۔ رازداری ان کا سب بڑا قانون تھا ۔ اس لئے وہ نہ شادی نہیں کر سکتے تھے اور نہ دوست احباب کے ساتھ خط کتابت ۔ ان کی سب جائیداد تنظیم کی ملکیت تھی کیونکہ ذاتی جائیداد رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ سفید رنگ کاچوغہ جس پر سرخ صلیب بنی ہو ان کا مخصوص لباس تھا ۔ تمام ٹمپلرز ایک دوسرے کو بھائی کہہ کر بلاتے تھے ۔

    اگر انھیں کوئی چیز ملتی تو اسے گرینڈ ماسٹر کے سامنے پیش کیا جاتا ۔ وہ چاہتا تو اسی کو لوٹا دیتا جس کو یہ ملی تھی اور چاہتا توکسی اور ضرورت مند کو دے دیتا ۔ گرینڈ ماسٹر کے حکم کو اللہ کا حکم تسلیم کیا جاتا اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا ۔

    تنظیم ِ میں داخلے کا طریقہ

    تنظیم میں داخل ہونے کے لئے بھی کچھ شرائط تھی جس میں امیدوار کا صحت مند اورغیر شادی شدہ ہونا اورخود کو تنظیم کے لئے پیش کرنا شامل تھا ۔ پہلے امیدوار کو ایک کمرے میں لے جایا جاتا ۔ وہاں اسے مستقبل میں پیش آنے والی تمام مشکلات سے آگاہ کیا جاتا ۔ پھر پوچھا جاتا کہ کیا وہ اب بھی تنظیم میں شامل ہونا چاہتا ہے؟ اگر امیدوار ’ ہاں‘ کہتا تو اسے گھٹنوں پر بٹھا کر بائیبل دی جاتی اور پوچھا جاتا :’’ کیا وہ شادی شدہ ہے؟‘‘ اگر جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوتا تو اس سے حلف لیا جاتا کہ وہ مرتے دم تک تنظیم اور بھائیوں کا وفادار رہے گا اور تنظیم کے متعلق ایک لفظ بھی باہر کی دنیا کو نہیں پہنچائے گا ۔ حلف اٹھانے کے بعد گرینڈ ماسٹر نئے شامل ہونے والے بھائی کے ہونٹوں کو چومتا اور پھر اسے ٹمپلرز کا چوغہ اور بیلٹ دیا جاتا جو پھر مرتے دم تک نہیں اتارا جاتا۔

    تنظیم کی طاقت

    پوپ کی طرف سے ملنے والی آزادی کے باعث یہ تنظیم مشہور ہونے لگی، لوگ تیزی کے ساتھ اس میں شامل ہونے لگے ، یوں یہ تنظیم وسطی یورپ کی سب سے کامیاب فوجی اور مالیاتی تنظیم بن گئی ۔ 1147ء تک صرف یروشلم میں 700 امراء اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے 2400 ملازمین تعینات تھے ۔ اس وقت کی دریافت دنیا میں 3468 محلات ٹمپلرز کی ملکیت تھے ۔

    لوگ انھیں ہدیے اور نذرانے دیتے۔ انہوں نے زمینی و سمندری راستوں میں تجارتی چوکیاں قائم کیں ۔ یورپ کے امیر ترین بینکار اور دوسرے لوگ اس میں شامل تھے ۔ یہ تنظیم خود مختار تھی جو کسی بادشاہ کو ٹیکس یا کوئی دوسری ادائیگی کرنے کی پابند نہیں تھی بلکہ صرف اسقف اعظم یعنی پوپ ہی ان سے کسی قسم کی جواب دہی کر سکتا تھا ۔

    یوں ان کی دولت اور طاقت بڑھتی رہی ۔ ایک اندازے کے مطابق 13ویں صدی میں ٹمپلرز کی تعداد 160000 یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھی جس میں بیس ہزار امراء وہ تھے جو اس وقت سپرپاور تسلیم کئے جاتے تھے ۔

    بارہویں صدی میں سفر کرنا خطرناک سمجھا جاتا تھا کیونکہ ڈاکوؤں اور لٹیروں سے لٹ جانے کا خوف بہت ہوتا تھا ۔

    اس لئے ان کی بینکنگ کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ کوئی شخص اپنے شہر میں ٹمپلرز کو اپنی رقم جمع کروا کر ایک رسید حاصل کر لیتا جس پر کوئی خفیہ کوڈ لکھا ہوتا ۔ یروشلم پہنچ کر وہی رسید یہاں موجود ٹمپلرز کو دکھاتا تو وہ اپنی فیس یعنی اس رقم پر سود کاٹ کر باقی رقم اس شخص کو دے دیتے ۔ اس طرح پیسے کم ملتے مگر سفر میں لٹ جانے کا خطرہ نہیں رہتا تھا ۔

    ٹمپلرز کا زوال

    صلیبی جنگوں میں نائٹ ٹمپلرز صف اول میں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کئی جنگوں میں بہادری کے جوہر دکھائے۔ جب بھی عیسائیوں کو شکست ہوتی تو اکثر لوگ اس کا الزام نائٹ تمپلرز کے سرتھوپ دیتے ۔

    جب غزہ کا ایک قلعہ ان کے حوالے کیا گیا جسے انہوں نے خوب مضبوط کیا اور چار سال بعد ان کا ماسٹر برنارڈ چالیس ٹمپلرز کے ساتھ نہایت بہادری کے ساتھ عسقلان میں مسلمانوں سے لڑنے کے لئے گھس گیا مگر مسلمانوں نے اس کے لشکر کو ایسا گھیر کر مارا کہ کسی کو بھی زندہ بچ کر آنا نصیب نہ ہوا ۔ بجائے اس کے کہ عیسائی ان کی بہادری کی داد دیتے ، ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے لالچ میں آکر یہ حماقت کی تھی ۔

    چند روز بعد مشہور ہوا کہ ایک مصری شہزادہ جو عیسائیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوگیا تھا اور دین مسیحی قبول کرنے پر نیم راضی تھا اْسے ان نائٹوں نے روپیہ لے کے اہل مصر کے حوالے کر دیا اور اسی طمع میں ان کی وجہ سے اور بھی کئی خون ہوئے ۔

    1166ء میں ان نائٹوں کو یہ الزام دیا گیا کہ یرون کے پار کا ایک مضبوط قلعہ انہوں نے روپیہ لے کے نور الدین زنگی کے کسی سردار کے حوالے کر دیا ۔

    چنانچہ اس جرم کی پاداش میں خود مسیحی بادشاہ بیت المقدس امل ریق نے بارہ ٹمپلروں کو پھانسی پر لٹکا دیا ۔ یہی واقعات پیش آرہے تھے کہ سلطان صلاح الدین اعظم لشکر لے کے مصر سے آ پہنچا ۔ ہزاروں نائٹ مختلف میدانوں میں لقمہ شمشیر ہوئے اور صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس اور شام کے تمام شہروں پر قبضہ کر کے مسیحی سلطنت کا خاتمہ کر دیا ۔

    اس وقت ٹمپلرز مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو چھوڑ کے ساحلی شہر عکہ میں پہنچے۔ جب ایک زمانے کے بعد عکہ بھی مسیحیوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو طرابلس الشام میں جا کے پناہ گزین ہوئے ۔

    1291ء میں مسلمانوں نے صلیبیوں کے آخری گڑھ ایکر پر بھی قبضہ کر لیا اور ٹمپلرز کو وہاں سے بھی نکلنا پڑا ۔ یوں عیسائی زائرین کی حفاظت کا وہ مقصد جو نائٹ ٹمپلرز کی بنیاد تھا ختم ہو گیا ، یوں وہ یورپ میں منتقل ہو گئے ۔

    نائٹ ٹمپلرز یورپ میں اتنے بااختیار اور طاقت ور بن گئے تھے کہ بادشاہ اور خود پوپ بھی انھیں اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے ۔ عیسائی دنیا میں پوپ کا مرتبہ و اختیار سب سے بلند ہوتا ہے اور بادشاہ بھی ان سے ڈرتے ہیں ۔ اس لیے پاپاؤں نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے ٹمپلرز کو بہت زیادہ اختیارات دئیے ۔ پوپ بادشاہ گر تھے جسے چاہتے تاج و بادشاہت سے محروم کر دیتے مگر پوپ بنی فیس کے زمانے میں فرانس کے بادشاہ فلپ دی فئیر نے اپنے تدبر سے کام لیا ۔

    پوپ بنی فیس قید ہوا اور پھر اسی کی قید میں مرا ۔ پھر فلپ نے مذہبی کونسل کے اراکین کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کا پوپ منتخب کروایا جو کلیمنٹ پنجم تھا ۔ انتخاب سے پہلے فلپ نے کلیمنٹ پنجم سے اپنی چھ شرائط پر حلف لیا۔ وہ شرائط کیا تھیں اس بارے میں کوئی نہیں بتا سکا۔ بعدازاں حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شرائط نائٹ ٹمپلرز کے متعلق ہوںگی ۔

    نصف صدی سے عیسائی دنیا نائٹ ٹمپلرز کے متعلق مختلف افواہوں کا شکار تھی ۔ مثلاً ٹمپلرز عیسائی عقائد کی خلاف ورزی میں صلیب پر تھوکتے ہیں ، شیطان کی پرستش کرتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ۔ چودھویں صدی ٹمپلرز کے لیے تباہی لے کر آئی ۔ فلپ انتظار کرتا رہا کہ کلیمنٹ کوئی کاروائی کرے مگر وہ اس کی جرات نہ کر سکا ۔ شومئی قسمت فرانس کے ایک شہر طولون میں ایک ٹمپلر کسی جرم میں گرفتار ہوا ۔

    اس نے بادشاہ فلپ سے کہا کہ اگر وہ اسے رہا کرے تو اسے ایک ایسے راز سے آگاہ کرے گا جو ملک و قوم کی ترقی کے لیے ہو گا ۔

    14 دسمبر 1307ء کو فلپ نے اس قیدی سے ملاقات کی ۔ 13 اکتوبر 1309ء کو بادشاہ فلپ نے حکم دیا کہ ملک میں تمام نائٹ ٹمپلرز کو گرفتار کر لیا جائے۔ ان پر الزام عاید کیا گیا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مصلوبیت کا انکار کرتے ہیں ، عورتوں کے ساتھ شرمناک حرکتیں کرتے ہیں ، شیطان کے بت بنا کر اس کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو حکومت کے خلاف بولنے پر ابھارتے ہیں ۔

    صرف یہی نہیں بلکہ فلپ نے انگلستان، سسلی اور یورپ کے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو خط لکھے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود نائٹ ٹمپلرز کو گرفتار کر لیں ۔ غرض کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جہاں سے ان ٹمپلرز کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔

    بعض حکمرانوں نے ٹمپلرز کو گرفتار کرنے سے انکار کیا تو انھیں پوپ کے ذریعے احکامات بھیج کر گرفتار کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ خصوصاً فرانس میں ٹمپلرز کو تفتیش کے دوران ہولناک اذیتیں دی گئیں ۔ بہت سے ٹمپلرز نے خوفزدہ ہو کر ان باتوں کا اقرار کیا کہ ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ بالکل درست ہیں ۔

    1310ء میں ویانا میں ایک اعلیٰ کونسل قائم کی گئی تاکہ وہ ٹمپلرز کے جرائم پر غور کر سکے ۔ 1311ء میں 54 ٹمپلرز کو پوپ کے حکم سے زندہ جلا دیا گیا ۔ ان واقعات نے لوگوں پر دہشت طاری کر دی ۔ آخرکار 1314ء کو اس تفتیش کا اختتام ہوا ۔

    ٹمپلرز کو اذیتیں دے کر اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ مجمع عام میں ان تمام جرائم کا اعتراف کریںکہ وہ سب الزامات سچ ہیں ۔ اسی سال نائٹ ٹمپلرز کی تنظیم کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی گئی اور گرینڈ ماسٹر جیکس دی مولے سمیت سے بہت سے ٹمپلرز کو سرعام زندہ جلا دیا گیا ۔

    بیشتر مغربی مورخین کے مطابق ٹمپلرز پر جو الزامات لگائے گئے تھے وہ بالکل سچ تھے کیونکہ انہوں نے اعتراف بھی کیا تھا اور اس سلسلے میں کچھ شواہد بھی ملے تھے ۔ جب کہ بعض مصنفین کے خیال میں یہ سب الزامات بادشاہ اور پوپ نے ٹمپلرز کی تنظیم کو ختم کرنے کے لگائے تھے کیونکہ وہ نائٹ ٹمپلرز کی طاقت اور دولت سے خوفزدہ تھے اور انھیں اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھنے لگے تھے ۔

    نائٹ ٹمپلرز نے دو بار بادشاہ فلپ کی طرف سے قرض کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی تھی ۔ اس حوالے سے معروف مصنف و مورخ عبد الحلیم شرر لکھتے ہیں : ’’ ( وہ ) چاہتے تھے اسے وہی مسیحیت بنا دیں جو دنیا کو حضرت مسیحؑ سے ملی تھی جس کی تصدیق اسلام کر رہا تھا لیکن یہ امر کس قدر قابل مضحکہ ہے کہ انہی مذکورہ عقائد کی بنا پر ٹمپلر ملحد بتائے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدے بعض بت پرست قوموں سے اخذ کیے ۔

    جو تحریک بت پرستی کا استیصال کرنا چاہتی ہو اس کو بت پرستی بتانا اور اپنی صنم پرستی کو بھول جانا ، سچ یہ ہے کہ یورپ کے عجائبات میں سے ہے اور اس پر زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ ٹمپلروں کے عقائد کو اکثر محققین یورپ دور و دراز کے بت پرست فرقوں میں ڈھونڈتے ہیں اور اسلام پر نظر نہیں ڈالتے جس نے ٹمپلروں کو ایک باضابطہ قانون توحید بتا کے اپنا والہ وشید ا بنا لیا تھا ۔‘‘ (یورپ کے بانکے از عبدالحلیم شرر)

    اس بات کے حق میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ فرانس کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک میں ٹمپلرز کو بری کر دیا گیا تھا کیونکہ ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا لیکن ان سب واقعات سے نائٹ ٹمپلرز کی تنظیم کے تاروپود بکھر رہ گئے ۔ گرینڈ ماسٹر کو زندہ جلائے جانے کے بعد باقی ماندہ ٹمپلرز دوسرے ممالک کی طرف فرار ہو کر زیر زمین چلے گئے ۔ بہت سے ٹمپلرز نے سکاٹ لینڈ میں پناہ لی ۔ کچھ سپین اورکچھ پرتگال کی طرف نکل گئے ۔ ایک بڑی تعداد نائٹ ہاسپٹلرز کے گروہ میں شامل ہو گئی ۔

    غرض ایک طرح سے نائٹ ٹمپلرز کا نام و نشان مٹ گیا مگر وہ باقی رہے ۔ کچھ مغربی مورخین کے مطابق ٹمپلرز نے زیر زمین جانے کے بعد فری میسن میں اپنی جگہ بنالی اور ان میں گھل مل گئے ۔ کیونکہ فری میسن کے کئی اصول و قوانین وہی ہیں جو نائٹ ٹمپلرز نے بنائے تھے جن میں سب سے بڑا قانون رازداری کا تھا ۔

  • ضمنی انتخابات: قومی اسمبلی کے 33 حلقوں کیلئے شیڈول جاری

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی 33 خالی نشستوں پر الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کے 33 حلقوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہوگا جس کے لیے کاغذات نامزدگی 6 سے 8 فروری تک جمع کرائے جائیں گے۔
    الیکشن کمیشن کے مطابق شیڈول کا آغاز 3 فروری کو پبلک نوٹس جاری ہونے سے ہو گا ، ان 33 حلقوں میں کراچی کے 9، اسلام آباد کے تین اور راولپنڈی کے پانچ، لاہور اورملتان کے دو دو ، جبکہ کوئٹہ ، جہلم، بھکر اور ڈی جی خان کا ایک ایک جبکہ خیبرپختونخوا کے 8 حلقے شامل ہیں
    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 9فروری کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن 33حلقوں میں امیدواروں کو انتخابی نشانات 23فروری کو جاری کرے گا۔

  • مشکل حالات میں حکومت ملی،ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں : وزیراعظم

    مشکل حالات میں حکومت ملی،ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں : وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ہمیں مشکل حالات میں حکومت ملی ، ہم ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مارگلہ ریلوے سٹیشن اسلام آباد پر گرین لائن ایکسپریس ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے ، خواجہ سعد رفیق اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں ۔
    وزیراعظم نے کہا کہ گرین لائن کی بنیاد نوازشریف کے دور میں رکھی گئی تھی ، میرٹ پر انحصار نوازشریف کی حکومت کا طرہ امتیاز رہا ہے ، قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو مشکلات کو عبور کرتی ہیں، ہم مشکلات سے نکلنے کے لئے دن رات کوشش کررہے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ سروسز کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے، آج حکومتیں خود ادارے نہیں چلاتیں بلکہ ان کو آؤٹ سورس کرتی ہیں ، کاش ایم ایل ون گزشتہ 4سال کی بے بنیاد الزام تراشی کا شکار نہ ہوتا، ایم ایل ون منصوبے پر چینی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
    وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے اس ہی ماہ معاہدہ ہوجائے گا، پاکستان اس نہج پر کھڑا ہے جہاں ایک ایک پائی بچانے کی ضرورت ہے، جلد مشکل حالات سے باہر نکلیں گے، چینی حکومت اور عوام نے پاکستان سے ہمیشہ محبت کا رشتہ رکھا، ترقی کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے، پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام جلد حاصل کرے گا

    اس سے قبل وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مہمانوں کا شکرگزار ہوں ، چائنیز دوستوں کے تعاون سے یہ ممکن ہوا ہے ، ہم نے اپنے محدود وسائل سے ریلوے آپریشن کو چلادیا ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ مسافروں کو ہر سہولت دی جائے۔
    وزیر ریلوے نے کہا کہ اس ٹرین پر 2200افراد سفر کرسکیں گے، آئندہ بوگیاں پاکستان میں ہی تیار کی جائیں گی ، تمام پاکستانی گرین لائن ٹرین کو ترجیح دیں، ہمیں ریونیو کی سخت ضرورت ہے ۔
    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں جب دوبارہ نظام چلانے کو ملا ہم نے صفر سے شروع کیا، سیلاب نے ریلوے کے محکمے کی کمر توڑ کررکھ دی ہے ، ہم نے اپنے محدود ترین وسائل سے ریلوے آپریشن کو چلا دیا ہے، ریلوے کو ایک طاقت کا ٹیکہ چاہیے، ہمیں پنشنز اور تنخواہوں کیلئے سخت مشکلات کا سامنا ہے ، ڈیڑھ ماہ ریلوے آپریشن رکا رہا ہے جس سے ریونیو کا نقصان ہوا ۔
    وزیر ریلوے نے کہا کہ علم ہے وزیر خزانہ دباؤ میں کام کررہے ہیں، پورا ملک ان کی طرف دیکھتا ہے، اگر وزیر خزانہ ہماری تھوڑی سی مدد کردیں تو ورکرز کا چولہا جل جائےگا، ہم اگلے 8ماہ میں اس بحران پر قابو پالیں گے۔
    افتتاح کے موقع پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وزیراعظم کے ہمراہ تھے، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزیر اعظم کو ٹرین بارے بریفنگ دی ۔
    واضح رہے کہ جدید سہولیات سے آراستہ گرین لائن ایکسپریس ٹرین اسلام آباد سے کراچی براستہ پاکستان ریلویز مین لائن ون پیسنجر سروس مہیا کرے گی ، یہ ٹرین راولپنڈی، چکلالہ ،لاہور ، خانیوال ، بہاولپور، روہڑی ، حیدرآباد اور ڈرگ روڈ ریلوے سٹیشنز پر رکے گی۔