Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Uncategorized – Page 929 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: Uncategorized

  • نائٹ ٹمپلرز

    نائٹ ٹمپلرز

    مذہب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان ہے ۔

    اگر ہم قدیم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر دور کا انسان کسی نہ کسی کی پرستش کرتا رہا ہے ۔ اپنی حرص و ہوس کو پورا کرنے کیلئے مذہب کے نام پر بہت سے کام ہوتے رہے اور اب بھی ہو رہے ہیں ۔

    مذہبی بنیادوں پر کئی تحریکوں اور تنظیموں کی بنیاد رکھی گئی جنہوں نے انسانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔ نائٹ ٹمپلرز بھی انہی تحریکوں میں سے ایک ہے جس کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی ۔

    اس تنظیم نے دنیائے عیسائیت پرگہرے اثرات مرتب کئے ہیں جو تاریخ سے مٹائے نہیں جا سکتے ۔ معاشرے کی اصلاح ہو یا ہم مذہبوں کا تحفظ نائٹ ٹمپلرز ہر معاملے میں صف اول پر نظر آنے لگے۔ حد سے زیادہ طاقت و دولت اکثر انسان کی عقل پر پٹی باندھ دیتی ہے۔

    لیکن اصول قدرت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ نائٹ ٹمپلرز پر وہ وقت بھی آیا جب ان کے اثاتے بادشاہوں کی دولت سے بھی تجازو کر گئے اور انہوں نے ٹمپلرز سے قرض لینا شروع کیا ۔ پھر انہوں نے اس وقت کو بھی جھیلا جب ان کے ساتھیوں اور گرینڈ ماسٹر کو سرعام زندہ جلا دیا گیا ۔

    قیام کا پس منظر

    اگر ہم عیسائیت کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیشہ پیار و محبت کا درس دیا ۔ انہوں نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیا ۔ انجیل مقدس میں اس طرح کے کئی اقوال موجود ہیں جن میں سے ایک مشہور قول پیش خدمت ہے: ’’جو تم پر لعنت کرتے ہیں اْنہیں برکت دو، اور جو تم سے بْرا سلوک کرتے ہیں۔

    اْن کے لئے دعا کرو ۔ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اْسے دوسرا گال بھی پیش کر دو ۔ اِسی طرح اگر کوئی تمہاری چادر چھین لے تو اْسے قمیص لینے سے بھی نہ روکو ۔‘‘ ( انجیل لوقا ۔ 6_29تا30)

    عیسائی امراء و بادشاہ اپنی دولت اور تاجر اپنی تجارت بڑھانا چاہتے تھے ۔ غریب اپنی زندگی کی سختیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے اس لئے پوپ نے مقدس جنگ کا اعلان کیا تاکہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے ۔

    یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ میں شامل ہونے والے کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور ساتھ ساتھ انھیں مسلمانوں سے دولت ملے گی ۔

    تو لوگ مذہب اور دولت کے لئے اس لشکر میں شامل ہو گئے ۔ اس بات کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ دوران سفر انہوں نے اسی امید پر بہت سی مسلم اور یہودی بستیوں کو تاخت و تاراج کیا تا کہ انھیں دولت مل سکے اور بالآخر 1099ء کو یروشلم پہنچ گئے جو انہوں نے پانچ ہفتوں کے محاصرے کے بعد مسلمانوں کے قبضے سے لے لیا ۔ فتح کے بعد انہوں نے شہر میں موجود ہر مسلمان مرد و عورت کو بے دریغ قتل کیا ۔

    یہاں تک کہ جن لوگوں نے مسجد اقصیٰ میں پناہ لی تھی انھیں بھی نہیں چھوڑا ۔ حالانکہ مسجد اقصیٰ نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے بھی مقدس ہے مگر انہوں نے اس کی بھی بے حرمتی کی ۔ کچھ غرمسلم مصنفین نے ، جن میں ریمینڈ اور ڈیسمنڈ سیوارڈ بھی شامل ہیں ان مناظر کو اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ۔ ایک بیان کے مطابق فتح پروشلم کے بعد 70 ہزار اور دوسرے بیان کے مطابق 40 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔

    قیام اور وجہ تسمیہ

    جرمنی میں بہادر لوگوں کو ایک خطاب سے نوازا جاتا تھا جو ’’ نیخت ‘‘ کہلاتا تھا ۔ پھر وہاں سے یہ لفظ انگریزی میں آیا جو بگڑ کر نائٹ بن گیا ۔اس لئے یہ لفظ انگریزی تلفظ میں تو نائٹ ہے لیکن اگر بولنے میں مروجہ اصول و املا کی پابندی نہ کی جائے تو لفظ Knight کو ’’ کینخت‘‘ پڑھا جائے گا ۔ یروشلم کی فتح کے بعد چند اشخاص مسجد اقصی میں جمع ہوئے اور باہم حلف اْٹھا لیا کہ جو زائرین یہاں آئیں گے ہم اْن کی حمایت و خبر گیری کریں گے ۔

    یہ جماعت نائٹ ٹیمپلر ز (ہیکل سلیمانی والے نائٹ) کے نام سے مشہور ہوئی اور اپنے گروہ کو ان لوگوں نے حصول برکت کے لیے ولی برنارڈ کے نام سے وابستہ کر دیا ۔ حرم سلیمانی میں بیٹھ کے انہوں نے جو حلف اْٹھایا تھا اْس کی رْو سے یہ لوگ صرف مذہب کے سپاہی بن گئے تھے ۔

    انہوں نے دنیا چھوڑ دی، وطن بھلا دیے ۔ بیت المقدس کے سوا کسی شہر کو اپنا وطن اور شہر نہیں سمجھتے تھے ۔ گھر بار سے دست بردار ہو گئے اور سوائے خاندانِ مسیح کے خاندان کے کسی کو اپنا گھرانا نہیں بتاتے تھے ۔

    جائیداد سب کی مشترک رہتی تھی اور مشترکہ زندگی بسر کرتے ۔ ایک ہی سرمایہ سب کی دولت تھا ۔ خطروں اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے جان نثار تھے ۔ گویا ایک قوت اور ایک ہی روح سب پر حکومت کر رہی تھی ۔ ان کا سامان زینت صرف ہتھیار تھے ۔

    ان کے گھروں میں جو عبادت خانوں کا حکم رکھتے ، نہ روپیہ پیسہ ہوتا نہ سامان دولت و حشمت۔ زینت و نمائش کی چیزوں سے انہیں نفرت تھی ۔ بہت ہی سادی اور بھدی چیزوں سے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ۔ نمائش کے لیے وہاں صرف ڈھالیں، تلواریں، نیزے اور مسلمانوں سے چھینے ہوئے علم نظر آتے ۔

    لڑائی کا نام سنتے ہی اپنا فولادی اسلحہ لے کے دوڑتے ۔ پھر نہ حریف کی کثرت سے ڈرتے اور نہ دشمنوں کے جوش و خروش کی پروا کرتے ۔

    ایک دوسرا گروہ اس طرح بنا کہ یورپ سے لشکر کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی آئے تھے جو فلاکت زدہ زائروں اور بیت المقدس کے مفلس و شکستہ حال نصرانیوں کی خبر گیری کرتے تھے ، خصوصاً ان بہادروں کی تیمار داری کے لیے جو مسلمانوں سے لڑتے تھے ۔

    اس خدمت کو جن لوگوں نے اپنے ذمے لیا وہ بھی ایک قسم کے نائٹ تسلیم کیے گئے اور ’’ نائٹ ہاسپٹلر ز‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے ۔ اْنہوں نے اپنے آپ کو ولی یوحنا کی طرف منسوب کر کے اپنا خطاب ’’نائٹس آف سینٹ جان ‘‘ یعنی ’’ ولی یوحنا کے نائٹ ‘‘ قرار دیا ۔

    یہ دونوں قسم کے نائٹس فولادی خود اور چار آئینے پہنتے ۔ ’’ نائٹ آف ہولی سپیکر‘‘ (مرقد مسیح کے نائٹ ) کہلانے کے باعث سب سے زیادہ معزز خیال کیے جاتے اور چونکہ ’’لاطینی سلطنتِ ارض مقدس‘‘ کو (جو لاکھوں کروڑوں بندگانِ خدا کے خون کا سیلاب بہا کے عین مسلمانوں کے بیچ میں قائم کی گئی تھی) ان لوگوں سے مدد ملتی تھی ۔

    اس لئے وہ ان کی بے انتہا قدر کرتی اور اپنی زندگی کو انہی کے اسلحہ پر منحصر تصور کرتی ۔ زائرین یہاں سے واپس جا کر ساری مسیحی دنیا میں ان کی جانبازی اور بہادری کے قصے بیان کرتے ۔

    ایک تیسر ا گروہ ٹیو ٹانک نائٹوں کا بھی قائم ہو گیا جو نائٹ ٹیمپلرز کا ہم مذاق تھا ۔ تینوں گروہوں میں فرق اور امتیاز یہ تھا کہ ٹمپلر سفید چغہ پہنتے جس پر سرخ صلیب بنی ہوتی ۔ ہاسپٹل والے سیاہ چغہ پہنتے اور اْس پرسفید صلیب ہوتی اور ٹیو ٹانک نائٹ سفید چغہ پہنتے جس پر سیاہ صلیب ہوتی ۔

    1118ء میں فرانس کے علاقہ برگنڈی کے ایک نائٹ ’’ہیوگس دی پینس‘‘ نے مع اپنے آٹھ رفقا کے بیت المقدس کے اسقف اعظم (پوپ)کے سامنے جا کر حلف اْٹھایا کہ ’’ہم اپنی زندگی بیت المقدس کے راستوں کی نگہبانی اور زائرین کو بحفاظت لے آنے میں نذر کر دیں گے ۔ باضابطہ طور پر قانونِ ملت کی پابندی کریں گے اور بے انتہا اطاعت اور خود فراموشی کے ساتھ آسمان کے بادشاہ کی طرف سے جدال و قتال کریں گے ۔‘‘

    یہ پہلا عہد تھا جس نے ان ’ نائٹ ٹمپلرز‘ کی بنیاد قائم کی اور جب شاہ بیت المقدس بلدون ثانی نے خاص مسجد اقصیٰ کے اندر اپنا کلب قائم کرنے کے لیے جگہ دیدی تو اس نئے گروہ کو مزید مضبوطی حاصل ہو گئی ۔ بہت سے مغربی مورخین نے ’نائٹ ٹمپلرز ‘ کے قیام کی یہ وجہ بیان کی کہ جب یروشلم فتح ہوا تو دور دراز کے ملکوں سے عیسائی زائرین زیارت کے لئے یروشلم آتے تو راستے میں مسلمان ان کے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے ۔

    اس لئے ان کی حفاظت کے لئے نائٹ ٹمپلرز کا قیام عمل آیا حالانکہ بہت سے غیر مسلم مورخین بھی اس بات کو بغیر کسی تردد کے تسلیم کر چکے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے علاقوں میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی دی ہے ۔ کسی شہر کی فتح پر عیسائیوں کی طرح غیرمذہبوں کا قتل عام نہیں کیا ۔ اس لئے اس بات میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ۔

    تنظیم کے مقاصد

    دس برس بعد شہر ٹرائے میں بہ منظوری پوپ ہو نیوریوس ثالی ایک کونسل میں ہوئی جس میں اس گروہ کے لیے ایک دستور العمل مدون ہو گیا ۔ اس میں 72 قاعدے تھے جو پوپ اور اْسقف بیت المقدس کی منظوری سے رائج ہوئے ۔

    اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کی مذہبی جان نثاری اور خاص جانبازی کی اس قدر شہرت ہوئی کہ ساری مسیحی دنیا گرویدہ ہو گئی اور ہر جگہ ، ہر سر زمین سے اْن کے لیے سرمایہ فراہم ہونے لگا ۔ جس میں قوم نے اس قدر مستعدی دکھائی کہ ملوک وامرا اپنی سلطنتیں اور ریاستیں ان کی نذر کیے دیتے تھے اور ایطالیہ سے لے کر اسپین تک ہر چھوٹے بڑے حکمران نے بڑی بڑی جائیدادیں ان لوگوں کو نذر کر دیں ۔

    یہ گروہ باوجود سادگی اور مشقت و تنگی کے زندگی بسر کرنے کے دنیا کے تمام تاج داروں سے زیادہ دولت مند ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہزار ہا خلقت گھر بار چھوڑ کے ان کے جتھے میں ملنے لگی ۔

    ان کا پہلا سرغنہ جو ’’ماسٹر ٹمپلر ‘‘ کہلاتا وہی ’’ہیو‘‘ قرار پایا ۔ دوسر اماسٹر اْس کے بعد رابرٹ ڈکراؤن ہوا ۔ اْن کا جانشین ’’ ایور آرڈ‘‘ قرار پایا ۔ اور یوں ہی ماسٹروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری رہا ۔ ایور آرڈ کے عہد میں ان لوگوں کی سپہ گری اس قدر کامیاب اور باقاعدہ تھی کہ اکثر سلطنتیں اپنی فوجیں انہی کے قواعد کے مطابق مرتب کرنے لگیں ۔ صلیبی لڑائی میں اہم فوجی خدمات یہی لوگ انجام دیتے تھے ۔

    بعض مورخین کے مطابق ٹمپلرز کی عیسائیت کی خدمت صرف ایک دکھاوا تھی ۔ اس کے پس پردہ ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔ فری میسنری کی ایک کتاب ’’ اخلاق اور عقیدہ ‘‘ میں گرینڈ ماسٹر البرٹ پائیک نے لکھا ہے کہ ٹمپلرز دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کے ٹمپل کی تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔

    انگریز مصنفین کرسٹوفر نائٹ اور رابرٹ لوماس کے مطابق انھیں ایسی دستاویز اور چیزوں کی تلاش تھی جو قدیم مصری و یہودیت سے تعلق رکھتی ہوں تاکہ ان کو مخصوص طاقتیں مل سکیں اس کے لئے انہوں نے کھدائی کی اور کامیابی بھی حاصل کی ۔

    تنظیمی ڈھانچہ

    ٹمپلرز کی تین کلاسیں تھی:

    1) امیر امراء

    2) مختلف عہدوں پر فائز جنگجو

    3) خادمین

    ہر ٹمپلر کو تین گھوڑے اور ایک نوکر رکھنے کی اجازت تھی ۔ رازداری ان کا سب بڑا قانون تھا ۔ اس لئے وہ نہ شادی نہیں کر سکتے تھے اور نہ دوست احباب کے ساتھ خط کتابت ۔ ان کی سب جائیداد تنظیم کی ملکیت تھی کیونکہ ذاتی جائیداد رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ سفید رنگ کاچوغہ جس پر سرخ صلیب بنی ہو ان کا مخصوص لباس تھا ۔ تمام ٹمپلرز ایک دوسرے کو بھائی کہہ کر بلاتے تھے ۔

    اگر انھیں کوئی چیز ملتی تو اسے گرینڈ ماسٹر کے سامنے پیش کیا جاتا ۔ وہ چاہتا تو اسی کو لوٹا دیتا جس کو یہ ملی تھی اور چاہتا توکسی اور ضرورت مند کو دے دیتا ۔ گرینڈ ماسٹر کے حکم کو اللہ کا حکم تسلیم کیا جاتا اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا ۔

    تنظیم ِ میں داخلے کا طریقہ

    تنظیم میں داخل ہونے کے لئے بھی کچھ شرائط تھی جس میں امیدوار کا صحت مند اورغیر شادی شدہ ہونا اورخود کو تنظیم کے لئے پیش کرنا شامل تھا ۔ پہلے امیدوار کو ایک کمرے میں لے جایا جاتا ۔ وہاں اسے مستقبل میں پیش آنے والی تمام مشکلات سے آگاہ کیا جاتا ۔ پھر پوچھا جاتا کہ کیا وہ اب بھی تنظیم میں شامل ہونا چاہتا ہے؟ اگر امیدوار ’ ہاں‘ کہتا تو اسے گھٹنوں پر بٹھا کر بائیبل دی جاتی اور پوچھا جاتا :’’ کیا وہ شادی شدہ ہے؟‘‘ اگر جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوتا تو اس سے حلف لیا جاتا کہ وہ مرتے دم تک تنظیم اور بھائیوں کا وفادار رہے گا اور تنظیم کے متعلق ایک لفظ بھی باہر کی دنیا کو نہیں پہنچائے گا ۔ حلف اٹھانے کے بعد گرینڈ ماسٹر نئے شامل ہونے والے بھائی کے ہونٹوں کو چومتا اور پھر اسے ٹمپلرز کا چوغہ اور بیلٹ دیا جاتا جو پھر مرتے دم تک نہیں اتارا جاتا۔

    تنظیم کی طاقت

    پوپ کی طرف سے ملنے والی آزادی کے باعث یہ تنظیم مشہور ہونے لگی، لوگ تیزی کے ساتھ اس میں شامل ہونے لگے ، یوں یہ تنظیم وسطی یورپ کی سب سے کامیاب فوجی اور مالیاتی تنظیم بن گئی ۔ 1147ء تک صرف یروشلم میں 700 امراء اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے 2400 ملازمین تعینات تھے ۔ اس وقت کی دریافت دنیا میں 3468 محلات ٹمپلرز کی ملکیت تھے ۔

    لوگ انھیں ہدیے اور نذرانے دیتے۔ انہوں نے زمینی و سمندری راستوں میں تجارتی چوکیاں قائم کیں ۔ یورپ کے امیر ترین بینکار اور دوسرے لوگ اس میں شامل تھے ۔ یہ تنظیم خود مختار تھی جو کسی بادشاہ کو ٹیکس یا کوئی دوسری ادائیگی کرنے کی پابند نہیں تھی بلکہ صرف اسقف اعظم یعنی پوپ ہی ان سے کسی قسم کی جواب دہی کر سکتا تھا ۔

    یوں ان کی دولت اور طاقت بڑھتی رہی ۔ ایک اندازے کے مطابق 13ویں صدی میں ٹمپلرز کی تعداد 160000 یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھی جس میں بیس ہزار امراء وہ تھے جو اس وقت سپرپاور تسلیم کئے جاتے تھے ۔

    بارہویں صدی میں سفر کرنا خطرناک سمجھا جاتا تھا کیونکہ ڈاکوؤں اور لٹیروں سے لٹ جانے کا خوف بہت ہوتا تھا ۔

    اس لئے ان کی بینکنگ کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ کوئی شخص اپنے شہر میں ٹمپلرز کو اپنی رقم جمع کروا کر ایک رسید حاصل کر لیتا جس پر کوئی خفیہ کوڈ لکھا ہوتا ۔ یروشلم پہنچ کر وہی رسید یہاں موجود ٹمپلرز کو دکھاتا تو وہ اپنی فیس یعنی اس رقم پر سود کاٹ کر باقی رقم اس شخص کو دے دیتے ۔ اس طرح پیسے کم ملتے مگر سفر میں لٹ جانے کا خطرہ نہیں رہتا تھا ۔

    ٹمپلرز کا زوال

    صلیبی جنگوں میں نائٹ ٹمپلرز صف اول میں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کئی جنگوں میں بہادری کے جوہر دکھائے۔ جب بھی عیسائیوں کو شکست ہوتی تو اکثر لوگ اس کا الزام نائٹ تمپلرز کے سرتھوپ دیتے ۔

    جب غزہ کا ایک قلعہ ان کے حوالے کیا گیا جسے انہوں نے خوب مضبوط کیا اور چار سال بعد ان کا ماسٹر برنارڈ چالیس ٹمپلرز کے ساتھ نہایت بہادری کے ساتھ عسقلان میں مسلمانوں سے لڑنے کے لئے گھس گیا مگر مسلمانوں نے اس کے لشکر کو ایسا گھیر کر مارا کہ کسی کو بھی زندہ بچ کر آنا نصیب نہ ہوا ۔ بجائے اس کے کہ عیسائی ان کی بہادری کی داد دیتے ، ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے لالچ میں آکر یہ حماقت کی تھی ۔

    چند روز بعد مشہور ہوا کہ ایک مصری شہزادہ جو عیسائیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوگیا تھا اور دین مسیحی قبول کرنے پر نیم راضی تھا اْسے ان نائٹوں نے روپیہ لے کے اہل مصر کے حوالے کر دیا اور اسی طمع میں ان کی وجہ سے اور بھی کئی خون ہوئے ۔

    1166ء میں ان نائٹوں کو یہ الزام دیا گیا کہ یرون کے پار کا ایک مضبوط قلعہ انہوں نے روپیہ لے کے نور الدین زنگی کے کسی سردار کے حوالے کر دیا ۔

    چنانچہ اس جرم کی پاداش میں خود مسیحی بادشاہ بیت المقدس امل ریق نے بارہ ٹمپلروں کو پھانسی پر لٹکا دیا ۔ یہی واقعات پیش آرہے تھے کہ سلطان صلاح الدین اعظم لشکر لے کے مصر سے آ پہنچا ۔ ہزاروں نائٹ مختلف میدانوں میں لقمہ شمشیر ہوئے اور صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس اور شام کے تمام شہروں پر قبضہ کر کے مسیحی سلطنت کا خاتمہ کر دیا ۔

    اس وقت ٹمپلرز مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو چھوڑ کے ساحلی شہر عکہ میں پہنچے۔ جب ایک زمانے کے بعد عکہ بھی مسیحیوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو طرابلس الشام میں جا کے پناہ گزین ہوئے ۔

    1291ء میں مسلمانوں نے صلیبیوں کے آخری گڑھ ایکر پر بھی قبضہ کر لیا اور ٹمپلرز کو وہاں سے بھی نکلنا پڑا ۔ یوں عیسائی زائرین کی حفاظت کا وہ مقصد جو نائٹ ٹمپلرز کی بنیاد تھا ختم ہو گیا ، یوں وہ یورپ میں منتقل ہو گئے ۔

    نائٹ ٹمپلرز یورپ میں اتنے بااختیار اور طاقت ور بن گئے تھے کہ بادشاہ اور خود پوپ بھی انھیں اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے ۔ عیسائی دنیا میں پوپ کا مرتبہ و اختیار سب سے بلند ہوتا ہے اور بادشاہ بھی ان سے ڈرتے ہیں ۔ اس لیے پاپاؤں نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے ٹمپلرز کو بہت زیادہ اختیارات دئیے ۔ پوپ بادشاہ گر تھے جسے چاہتے تاج و بادشاہت سے محروم کر دیتے مگر پوپ بنی فیس کے زمانے میں فرانس کے بادشاہ فلپ دی فئیر نے اپنے تدبر سے کام لیا ۔

    پوپ بنی فیس قید ہوا اور پھر اسی کی قید میں مرا ۔ پھر فلپ نے مذہبی کونسل کے اراکین کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کا پوپ منتخب کروایا جو کلیمنٹ پنجم تھا ۔ انتخاب سے پہلے فلپ نے کلیمنٹ پنجم سے اپنی چھ شرائط پر حلف لیا۔ وہ شرائط کیا تھیں اس بارے میں کوئی نہیں بتا سکا۔ بعدازاں حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شرائط نائٹ ٹمپلرز کے متعلق ہوںگی ۔

    نصف صدی سے عیسائی دنیا نائٹ ٹمپلرز کے متعلق مختلف افواہوں کا شکار تھی ۔ مثلاً ٹمپلرز عیسائی عقائد کی خلاف ورزی میں صلیب پر تھوکتے ہیں ، شیطان کی پرستش کرتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ۔ چودھویں صدی ٹمپلرز کے لیے تباہی لے کر آئی ۔ فلپ انتظار کرتا رہا کہ کلیمنٹ کوئی کاروائی کرے مگر وہ اس کی جرات نہ کر سکا ۔ شومئی قسمت فرانس کے ایک شہر طولون میں ایک ٹمپلر کسی جرم میں گرفتار ہوا ۔

    اس نے بادشاہ فلپ سے کہا کہ اگر وہ اسے رہا کرے تو اسے ایک ایسے راز سے آگاہ کرے گا جو ملک و قوم کی ترقی کے لیے ہو گا ۔

    14 دسمبر 1307ء کو فلپ نے اس قیدی سے ملاقات کی ۔ 13 اکتوبر 1309ء کو بادشاہ فلپ نے حکم دیا کہ ملک میں تمام نائٹ ٹمپلرز کو گرفتار کر لیا جائے۔ ان پر الزام عاید کیا گیا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مصلوبیت کا انکار کرتے ہیں ، عورتوں کے ساتھ شرمناک حرکتیں کرتے ہیں ، شیطان کے بت بنا کر اس کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو حکومت کے خلاف بولنے پر ابھارتے ہیں ۔

    صرف یہی نہیں بلکہ فلپ نے انگلستان، سسلی اور یورپ کے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو خط لکھے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود نائٹ ٹمپلرز کو گرفتار کر لیں ۔ غرض کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جہاں سے ان ٹمپلرز کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔

    بعض حکمرانوں نے ٹمپلرز کو گرفتار کرنے سے انکار کیا تو انھیں پوپ کے ذریعے احکامات بھیج کر گرفتار کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ خصوصاً فرانس میں ٹمپلرز کو تفتیش کے دوران ہولناک اذیتیں دی گئیں ۔ بہت سے ٹمپلرز نے خوفزدہ ہو کر ان باتوں کا اقرار کیا کہ ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ بالکل درست ہیں ۔

    1310ء میں ویانا میں ایک اعلیٰ کونسل قائم کی گئی تاکہ وہ ٹمپلرز کے جرائم پر غور کر سکے ۔ 1311ء میں 54 ٹمپلرز کو پوپ کے حکم سے زندہ جلا دیا گیا ۔ ان واقعات نے لوگوں پر دہشت طاری کر دی ۔ آخرکار 1314ء کو اس تفتیش کا اختتام ہوا ۔

    ٹمپلرز کو اذیتیں دے کر اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ مجمع عام میں ان تمام جرائم کا اعتراف کریںکہ وہ سب الزامات سچ ہیں ۔ اسی سال نائٹ ٹمپلرز کی تنظیم کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی گئی اور گرینڈ ماسٹر جیکس دی مولے سمیت سے بہت سے ٹمپلرز کو سرعام زندہ جلا دیا گیا ۔

    بیشتر مغربی مورخین کے مطابق ٹمپلرز پر جو الزامات لگائے گئے تھے وہ بالکل سچ تھے کیونکہ انہوں نے اعتراف بھی کیا تھا اور اس سلسلے میں کچھ شواہد بھی ملے تھے ۔ جب کہ بعض مصنفین کے خیال میں یہ سب الزامات بادشاہ اور پوپ نے ٹمپلرز کی تنظیم کو ختم کرنے کے لگائے تھے کیونکہ وہ نائٹ ٹمپلرز کی طاقت اور دولت سے خوفزدہ تھے اور انھیں اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھنے لگے تھے ۔

    نائٹ ٹمپلرز نے دو بار بادشاہ فلپ کی طرف سے قرض کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی تھی ۔ اس حوالے سے معروف مصنف و مورخ عبد الحلیم شرر لکھتے ہیں : ’’ ( وہ ) چاہتے تھے اسے وہی مسیحیت بنا دیں جو دنیا کو حضرت مسیحؑ سے ملی تھی جس کی تصدیق اسلام کر رہا تھا لیکن یہ امر کس قدر قابل مضحکہ ہے کہ انہی مذکورہ عقائد کی بنا پر ٹمپلر ملحد بتائے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدے بعض بت پرست قوموں سے اخذ کیے ۔

    جو تحریک بت پرستی کا استیصال کرنا چاہتی ہو اس کو بت پرستی بتانا اور اپنی صنم پرستی کو بھول جانا ، سچ یہ ہے کہ یورپ کے عجائبات میں سے ہے اور اس پر زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ ٹمپلروں کے عقائد کو اکثر محققین یورپ دور و دراز کے بت پرست فرقوں میں ڈھونڈتے ہیں اور اسلام پر نظر نہیں ڈالتے جس نے ٹمپلروں کو ایک باضابطہ قانون توحید بتا کے اپنا والہ وشید ا بنا لیا تھا ۔‘‘ (یورپ کے بانکے از عبدالحلیم شرر)

    اس بات کے حق میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ فرانس کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک میں ٹمپلرز کو بری کر دیا گیا تھا کیونکہ ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا لیکن ان سب واقعات سے نائٹ ٹمپلرز کی تنظیم کے تاروپود بکھر رہ گئے ۔ گرینڈ ماسٹر کو زندہ جلائے جانے کے بعد باقی ماندہ ٹمپلرز دوسرے ممالک کی طرف فرار ہو کر زیر زمین چلے گئے ۔ بہت سے ٹمپلرز نے سکاٹ لینڈ میں پناہ لی ۔ کچھ سپین اورکچھ پرتگال کی طرف نکل گئے ۔ ایک بڑی تعداد نائٹ ہاسپٹلرز کے گروہ میں شامل ہو گئی ۔

    غرض ایک طرح سے نائٹ ٹمپلرز کا نام و نشان مٹ گیا مگر وہ باقی رہے ۔ کچھ مغربی مورخین کے مطابق ٹمپلرز نے زیر زمین جانے کے بعد فری میسن میں اپنی جگہ بنالی اور ان میں گھل مل گئے ۔ کیونکہ فری میسن کے کئی اصول و قوانین وہی ہیں جو نائٹ ٹمپلرز نے بنائے تھے جن میں سب سے بڑا قانون رازداری کا تھا ۔

  • ضمنی انتخابات: قومی اسمبلی کے 33 حلقوں کیلئے شیڈول جاری

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی 33 خالی نشستوں پر الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کے 33 حلقوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہوگا جس کے لیے کاغذات نامزدگی 6 سے 8 فروری تک جمع کرائے جائیں گے۔
    الیکشن کمیشن کے مطابق شیڈول کا آغاز 3 فروری کو پبلک نوٹس جاری ہونے سے ہو گا ، ان 33 حلقوں میں کراچی کے 9، اسلام آباد کے تین اور راولپنڈی کے پانچ، لاہور اورملتان کے دو دو ، جبکہ کوئٹہ ، جہلم، بھکر اور ڈی جی خان کا ایک ایک جبکہ خیبرپختونخوا کے 8 حلقے شامل ہیں
    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 9فروری کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن 33حلقوں میں امیدواروں کو انتخابی نشانات 23فروری کو جاری کرے گا۔

  • مشکل حالات میں حکومت ملی،ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں : وزیراعظم

    مشکل حالات میں حکومت ملی،ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں : وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ہمیں مشکل حالات میں حکومت ملی ، ہم ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مارگلہ ریلوے سٹیشن اسلام آباد پر گرین لائن ایکسپریس ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے ، خواجہ سعد رفیق اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں ۔
    وزیراعظم نے کہا کہ گرین لائن کی بنیاد نوازشریف کے دور میں رکھی گئی تھی ، میرٹ پر انحصار نوازشریف کی حکومت کا طرہ امتیاز رہا ہے ، قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو مشکلات کو عبور کرتی ہیں، ہم مشکلات سے نکلنے کے لئے دن رات کوشش کررہے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ سروسز کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے، آج حکومتیں خود ادارے نہیں چلاتیں بلکہ ان کو آؤٹ سورس کرتی ہیں ، کاش ایم ایل ون گزشتہ 4سال کی بے بنیاد الزام تراشی کا شکار نہ ہوتا، ایم ایل ون منصوبے پر چینی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
    وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے اس ہی ماہ معاہدہ ہوجائے گا، پاکستان اس نہج پر کھڑا ہے جہاں ایک ایک پائی بچانے کی ضرورت ہے، جلد مشکل حالات سے باہر نکلیں گے، چینی حکومت اور عوام نے پاکستان سے ہمیشہ محبت کا رشتہ رکھا، ترقی کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے، پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام جلد حاصل کرے گا

    اس سے قبل وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مہمانوں کا شکرگزار ہوں ، چائنیز دوستوں کے تعاون سے یہ ممکن ہوا ہے ، ہم نے اپنے محدود وسائل سے ریلوے آپریشن کو چلادیا ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ مسافروں کو ہر سہولت دی جائے۔
    وزیر ریلوے نے کہا کہ اس ٹرین پر 2200افراد سفر کرسکیں گے، آئندہ بوگیاں پاکستان میں ہی تیار کی جائیں گی ، تمام پاکستانی گرین لائن ٹرین کو ترجیح دیں، ہمیں ریونیو کی سخت ضرورت ہے ۔
    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں جب دوبارہ نظام چلانے کو ملا ہم نے صفر سے شروع کیا، سیلاب نے ریلوے کے محکمے کی کمر توڑ کررکھ دی ہے ، ہم نے اپنے محدود ترین وسائل سے ریلوے آپریشن کو چلا دیا ہے، ریلوے کو ایک طاقت کا ٹیکہ چاہیے، ہمیں پنشنز اور تنخواہوں کیلئے سخت مشکلات کا سامنا ہے ، ڈیڑھ ماہ ریلوے آپریشن رکا رہا ہے جس سے ریونیو کا نقصان ہوا ۔
    وزیر ریلوے نے کہا کہ علم ہے وزیر خزانہ دباؤ میں کام کررہے ہیں، پورا ملک ان کی طرف دیکھتا ہے، اگر وزیر خزانہ ہماری تھوڑی سی مدد کردیں تو ورکرز کا چولہا جل جائےگا، ہم اگلے 8ماہ میں اس بحران پر قابو پالیں گے۔
    افتتاح کے موقع پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وزیراعظم کے ہمراہ تھے، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزیر اعظم کو ٹرین بارے بریفنگ دی ۔
    واضح رہے کہ جدید سہولیات سے آراستہ گرین لائن ایکسپریس ٹرین اسلام آباد سے کراچی براستہ پاکستان ریلویز مین لائن ون پیسنجر سروس مہیا کرے گی ، یہ ٹرین راولپنڈی، چکلالہ ،لاہور ، خانیوال ، بہاولپور، روہڑی ، حیدرآباد اور ڈرگ روڈ ریلوے سٹیشنز پر رکے گی۔

  • علم ِفلکیات کی روشنی میں آپ کا یہ ہفتہ

    علم ِفلکیات کی روشنی میں آپ کا یہ ہفتہ

    برج حمل
    سیارہ مریخ، 21 مارچ تا20اپریل
    آپ کا سیارہ مریخ مسلسل کم زور(الٹا) رہنے کے بعد طاقت ور ہونے جارہا ہے ۔ کیریئر سے متعلق جاری خرابیوں کا اختتام ہونے جارہا ہے۔ سواری میں جو خرابی سمجھ میں نہیں آرہی تھی اب سمجھ میں آجائے گی، اگر کوئی الزام لگا تھا تو اس کے دباؤ سے نکلنے کا وقت آگیا ہے۔ پیر اور منگل دونوں ایام بہتر ہیں۔ نیا چاند پرانے دوست سے نیا تعاون پرانے مسائل کا حل نکال دے گا۔ آپ کی آمدن کا سیارہ اخراجات کے خانے میں منتقل ہورہا ہے۔ آپ کے ہاتھ سے کچھ لوگوں کا بھلا ہوتا نظر آتا ہے۔

    برج ثور
    سیارہ زہرہ، 21اپریل تا 20 مئی
    مکان، سواری اور کیریئر سے متعلق جاری مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ آپ کا پیسہ جو بیرون ملک لگایا تھا اس بارے میں جو الجھنیں تھیں وہ سلجھ سکتی ہیں۔ بیرون ملک سفر کے راستے میں حائل جو کاغذی الجھنیں تھیں، دور ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کسی بزرگ کی صحت بھی ٹھیک ہوتی نظر آتی ہے لیکن دوستوں پر اندھا اعتماد بالکل نہ کریں، ورنہ دل ٹوٹ سکتا ہے۔

    برج جوزا
    سیارہ عطارد ، 21مئی تا 21 جون
    گذشتہ دو ہفتوں میں اٹھائے گئے غلط اقدام کا اب احساس ہونے لگے گا یا ان کا خمیازہ بھی بھگتا پڑسکتا ہے یہ وقت ایسا ہے جو غلط فہمیوں کو دور کرسکتا ہے اور ممکن ہے کسی نے غلط بیانی کا سہارا لیا تھا تو اس کا بھی پردہ چاک ہوجائے گا لیکن ابھی آپ کو مسائل سے نکلنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ بیرون ملک سے منسلک افراد تازہ ہوا کا جھونکا آتا ہوا محسوس کریں گے جو اس سرد فضا کو بہار بناسکتا ہے۔

    برج سرطان
    سیارہ قمر ، 22جون تا 23 جولائی
    شراکت داری میں جو الجھنیں سر اٹھا کے کانٹے کی طرح چبھ رہی تھیں ان کی نوک اب دور ہوتی نظر آتی ہیں۔ شریکِ حیات کو جو غلط فہمیاں دور لے گئی تھیں وہ دور ہوتی ہوئی اور دوریاں نزدیکیوں میں بدلتی نظر آتی ہیں۔ نیند جو خراب تھی اب کچھ پرسکون ہوجائے گی۔ وراثتی نیا فائدہ مل سکتا ہے کاروبار میں نئی راہ کھل سکتی ہے۔

    برج اسد
    سیارہ شمس، 24جولائی تا 23 اگست
    یہ نیا چاند شادی، تعلق اور شراکت داری کے مقام پر طلوع ہورہا ہے۔ نیا تعلق، نیا کام یا کوئی اجنبی شخص آپ کو نئی راہ سجھاسکتا ہے۔ اس سے متعلق جلد ہی آپ کچھ نفسیاتی الجھاؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اعتماد کی فضا متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ گذشتہ کئی ایام سے جاری لوگوں کے منفی رویے ہیں۔ بہرحال یہ ایک معاون وقت ہے آپ قدم آگے بڑھاسکتے ہیں۔

    برج سنبلہ
    سیارہ عطارد ، 24 اگست تا 23 ستمبر
    آپ کا سیارہ سیدھا ہوچکا ہے رفتار پکڑ چکا ہے لیکن یہ جہاں جس مقام پر ہے اس کا میزبان کم زور ہے اور جس مقام پر ہے اسے اولاد اور محبوب کا مقام کہا جاتا ہے۔ محبوب اور اولاد سے متعلق الجھنیں اگرچہ کافی حد قابو آچکی ہیں لیکن اس ہفتے 26 کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ صحت اور غلط قدم جیسے معاملات ذہنی الجھن بن سکتے ہیں۔ آپ کے وقار کے مقام پر مریخ بہتر ہوچکا ہے۔ الجھنوں سے آپ انوکھے طریقے سے نکلنے کا راستہ بنالیں گے۔

    برج میزان
    سیارہ زہرہ ، 24 ستمبر تا 23اکتوبر
    آپ کا سیارہ زہرہ اس ہفتے اپنے شرفی برج حوت میں داخل ہورہا ہے۔ ازدواجی امور میں ہم آہنگی اور خوشیاں آسکتی ہیں۔ آپ کا حلقۂ احباب بڑھ رہا ہے اور اس میں تیزی آرہی ہے۔ بیرون ملک سے رشتہ آسکتا ہے۔ ملک سے باہر جانے کے خواہش مند افراد اپنے معاملات میں مثبت پیش رفت ہوتی ہوئی دیکھ سکیں گے۔ اولاد کی خوشیاں مل سکتی ہیں۔ بزرگوں سے جو شکایت تھی وہ دور ہوجائے گی اور خدا سے دوری کا جو دور تھا وہ ختم ہوجائے گا۔

    برج عقرب
    سیارہ پلوٹو، 24 اکتوبر تا 22 نومبر
    ہفتے کی ابتدا ہی نیا چاند آپ کے مکان میں طلوع ہورہا ہے، جہاں سورج کے ساتھ زحل بھی ہے بیرون ملک /شہر یا رہائش تبدیل کرنے کی ضرورت یا مجبوری ہوسکتی ہے۔اچانک ایسا قدم اٹھانے کا ارادہ کرسکتے ہیں جو دوسروں کو حیرت میں ڈال دے۔ اس معاملے میں جو بھی قدم اٹھائیں سوچ سمجھ کے اٹھائیں، ہوسکتا ہے کچھ قریبی افراد آپ کے ارادے اور قدم سے نالاں ہوجائیں۔

    برج قوس
    سیارہ مشتری ، 23 نومبرتا 22 دسمبر
    طالع کا مالک مشتری پانچویں اور پانچویں کا مالک سیارہ ساتویں یعنی محبت کا سیارہ متحرک ہورہا ہے، لیکن ساتویں کا مالک تعاون کرنے کے خیال میں نہیں ہے۔ دوسری شادی کے خواہش مند افراد فیملی سے مخالفت کا سامنا کرسکتے ہیں یا اگر رشتہ طے تھا تو اس میں غلط فہمیوں کا طوفان اس رشتے کی بنیادیں ہلاسکتا ہے۔ 26 تاریخ کو کوئی غلط قدم اٹھ سکتا ہے محتاط رہیں۔ اس ہفتے قریبی سفر بھی ہوسکتا ہے۔

    برج جدی
    سیارہ زحل ، 23 دسمبر تا 20 جنوری
    یہ ہفتہ بہت شان دار ہوسکتا ہے۔ آپ کی جیب میں شمس، زحل، زہرہ اور قمر ملاقات کررہے ہیں۔ یہ آمدن میں واضح بڑی خوش حالی کو ظاہر کررہے ہیں۔ لاٹری جیسی کوئی مالی آمدن ہوسکتی ہے۔

    مکان کی تبدیلی کا امکان پیدا ہورہا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے جاری خرابیاں ایک ایک کرکے دور ہورہی ہیں۔ بزرگوں کا تعاون حاصل رہے گا دوردراز سے کوئی بزرگ ملنے کے لیے آسکتا ہے۔

    برج دلو
    سیارہ یورنیس ، 21 جنوری تا 19 فروری
    وراثتی نقصان ہوتے ہوتے امید ہے بچ گیا ہوگا، کیوںکہ آپ کا مقدر کا سیارہ مسلسل آپ کو سعد روشنی دیتا رہا ہے، بلکہ اس ہفتے آپ کی جیب کو وزنی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایسا اس ہفتے کے ابتدائی دو ایام ہی میں ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کا ازدواجی تعلق پہلے سے زیادہ رومان پرور ہوسکتا ہے۔ بچوں کے حوالے سے کچھ ذہنی الجھن ہوسکتی ہے۔ پرانا دوست ملنے آسکتا ہے یا بعد مدت اس سے رابطہ ہوسکتا ہے۔

    برج حوت
    سیارہ نیپچون ، 20 فروری تا 20 مارچ
    آپ کے ہاتھ کئی لوگوں کا بھلا ہوتا نظر آتا ہے۔ فلاحی کاموں میں آپ لوگوں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں۔ مشتری آپ کی جیب میں آچکا ہے۔ دوہرا مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس ہفتے کچھ غیرضروری اخراجات بھی ہوسکتے ہیں۔

    آپ کا تیسرے اور آٹھویں کا مالک شرفی حالت میں آرہا ہے۔ بہن بھائی کے ساتھ وراثتی امور پر مذاکرات کام یاب ہوسکتے ہیں۔

  • روپے کی بے قدری، ڈالر بے لگام ہو کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    روپے کی بے قدری، ڈالر بے لگام ہو کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    کراچی امریکی ڈالر کے ریٹ پر لگی ای کیپ ختم ہونے کے بعد ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 24 روپے 11 پیسے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امریکی کرنسی 255 روپے پر ٹریڈ کر رہی ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر12 روپے مہنگا ہوا ہے، اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی 255 روپے پر فروخت ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب سٹاک مارکیٹ سٹاک ایکسچینج میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، سٹاک ایکسچینج میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس 40 ہزار 829 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ کا فواد چودھری کو 6 بجے ہر صورت پیش کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا فواد چودھری کو 6 بجے ہر صورت پیش کرنے کا حکم

    لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے رہنما پی ٹی آئی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فواد چودھری کو 6 بجے تک ہر صورت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں فواد چودھری کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست سماعت کے لئے جسٹس طارق سلیم شیخ کو بھجوا دی۔
    جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواست سماعت کے لئے مقرر کرتے ہوئے فواد چودھری کو ڈیڑھ بجے پیش کرنے کی ہدایت کی، تاہم فواد چودھری کو عدالت پیش نہ کیا جا سکا۔
    فواد چودھری کو مقررہ وقت پر عدالت پیش نہ کرنے پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری پیش کرنے کا حکم دیا۔
    اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے فواد چودھری سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ میرے علم میں نہیں کہ فواد چودھری کہاں ہیں۔
    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ میں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی موجودگی میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
    فاضل جج نے کہا کہ مجھے اپنے حکم پر عملدرآمد کروانا آتا ہے، فواد چودھری کو فوری عدالت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کیس کی سماعت 3 بجے تک ملتوی کر دی۔
    دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی بات کاٹنے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنوں گا، پہلے آرڈر پر عملدر آمد کریں۔
    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے سوال کیا کہ آئی جی کو بلوایا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ آئی جی رحیم یار خان سے لاہور سفر کر رہے ہیں۔
    لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کوشام 6 بجے عدالت طلب کر لیا۔

  • وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کی منظوری دیدی

    وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کی منظوری دیدی

    سلام آباد: وفاقی کابینہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت میں کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں کابینہ نے توشہ خانہ کے حوالے سے بین الوزارتی کمیٹی کی رپورٹ کا جائز ہ لیا، جبکہ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ کے حوالے سے نئی پالیسی پر بریفنگ دی۔
    اجلاس میں وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ کی نئی پالیسی میں مزید ترامیم تجویز کر دیں، بین الوزارتی کمیٹی نے توشہ خانہ پر نئی پالیسی کابینہ اجلاس میں پیش کی، بین الوزارتی کمیٹی توشہ خانہ میں مزید ترامیم کرکے پالیسی پیش کرے گی۔
    بجلی بریک ڈاؤن کا معاملہ بھی وفاقی کابینہ میں غور آیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے بریک ڈاؤن پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈویژن کے حکام کی سرزنش کی۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ بتایا جائے بجلی کیوں بند ہوئی اور فوری طور پر بحال کیوں نہ ہو سکی، وزیر اعظم کو وزیر توانائی نے بجلی بریک ڈاؤن پر بریفنگ بھی دی جس پر وزیراعظم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
    اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کی جانب سے بجلی بریک ڈاؤن پر بریفنگ بھی دی گئی، کابینہ اجلاس میں ای سی سی اور لیجیسلیٹو کمیٹی کے فیصلوں، توانائی بچت سے متعلق میڈیا کمپین کی منظوری دی جائے گی۔
    گزشتہ ہفتے معاون خصوصی تعینات ہونے والے فہد ہارون کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پبلک کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل ریفارمز کا قلمدان سونپ دیا، اس سے پہلے معاون خصوصی فہد ہارون کے پاس کوئی قلمدان نہیں تھا۔

  • تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لئے گئے
    ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیئے، پی ٹی آئی کے اب تک 124 ارکان کے استعفے منظور کر لئے گئے۔

  • ’مٹھو میاں‘ کو ہماری ’قید‘ راس آگئی تھی!

    ’مٹھو میاں‘ کو ہماری ’قید‘ راس آگئی تھی!

    یسے کوئی بے زبان جانور یا پرندہ بھی ہمارے گھر ہی کا حصہ بن جاتا ہے، اس کا احساس تب ہوتا ہے، جب ہم جی وجان سے کسی ایسی ’جان‘ سے تعلق پیدا کریں اور اسے نبھائیں۔۔۔ اب بچپن میں نت نئے پرندوں اور پالتو جانوروں کا شوق کس بچے کو نہیں ہوتا۔۔۔ سو ہمیں بھی تھا اور بہت کم سنی میں ہی ایک سرخ چونچ والا سبز توتا ہمارے گھر کا مکین ہوگیا تھا۔۔۔ لیکن ہمارا اس کا ساتھ ایسا ہوگا۔

    یہ ظاہر ہے کسی کو بھی اندازہ نہ تھا۔۔۔ خواہش ہماری بھی یہی تھی کہ وہ ’بولنا‘ سیکھے، لیکن چوں کہ جب وہ آیا، تو ’بولنا‘ سیکھنے کی عمر سے نکل چکا تھا، اس لیے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔۔۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ وہ اپنی کچھ مخصوص بولی میں غیر روایتی اور منفرد سی آوازیں نکالنا ضرور سیکھ چکا تھا۔۔۔

    جیسے جب ہم اسے ’مٹھو بیٹے‘ پکارتے تو وہ اپنے دونوں ’بازو‘ قدرے کھول کے خوشی سے گردن اُچکاتا، اور آنکھ کے نارنجی دائرے میں اس کی دونوں پتلیاں آنکھوں کی سفیدی میں سکڑ کر نقطے جیسی ٹمٹمانے سی لگتیں اور پھر وہ دھیمی دھیمی سی ایک مخصوص آواز میں اس کا جواب دیتا تھا۔۔۔ ابتداً اس کے پر قدرے گہرے سے رنگ کے تھے، لیکن پھر اس کا بہت اجلا اجلا سا سبز رنگ نکھر آیا تھا اور اس نکھار کے ساتھ اس کی گردن پر سرخ رنگ کی ’کنٹھی‘ بھی ابھر آئی تھی، جو چونچ کے نیچے سے دونوں جانب پھیلنے والی گہری کالی لکیر کے ساتھ مل کر سر کے پیچھے مکمل سرخ ہو جاتی تھی اور اس کے اوپر سر کی طرف ہلکاہلکا سا آسمانی رنگ اُس کی خوب صورتی کو دوچند کر دیتا تھا۔۔۔

    اسی زمانے میں اسکول کی کتاب میں شامل نظم ’’آؤ بچو سنو کہانی‘‘ کے یہ مصرع ہمیں خوب بھاتے تھے ’’نوکر لے کر حلوہ آیا… توتے کا بھی دل للچایا… راجا بین بجاتا جائے… نوکر شور مچاتا جائے… توتا حلوہ کھاتا جائے۔۔۔!‘‘ گھر میں جب کبھی حلوہ بنتا، ہم مٹھو کو حلوہ ڈالتے ہوئے اکثر یہ بول پڑھتے۔۔۔ ہمیں ایسا لگتا تھا کہ مٹھو میاں اپنا ذکر سن کر ضرور خوش ہو رہے ہیں۔۔۔ یوں وہ صبح سے لے کر رات تک ہمارے ہر کھانے پینے میں ہمارے ’’ساتھ ساتھ‘‘ رہتے تھے۔۔۔

    کہنے کو یہ ’مٹھو‘ فقط ہمارے بچپن کا ایک شوق تھا، لیکن غور کیجیے، تو اس کا کردار کتنا اہم تھا کہ اکثر اس کا ’کھانا‘ ہمارے دستر خوان سمیٹنے کے بعد اٹھائے جانے والے اناج کے دانے اور وہ ’بھورے‘ اور سالن وغیرہ ہوتا تھا، جو کھانے کے بعد دسترخوان پر سے سمیٹا جاتا تھا۔

    یہ سب ایک روٹی کے نوالے کے ساتھ جمع کر کے پنجرے میں اس کی کٹوری میں ڈال دیتے تھے اور وہ ہمارے دسترخوان کے ہر طرح کے سالن خوب مزے لے کر کھاتا تھا۔۔۔ اس کی یہ عادت ہوگئی تھی کہ اسے روٹی کا ٹکڑا وغیرہ ڈالو، تو وہ چونچ سے اٹھا کر اسے دوسری پانی والی کٹوری میں ڈبو دیتا اور پھر اسے نرم کر کے اپنے سیدھے پنجے میں پکڑ کر کتر کتر کر نوش کرتا۔۔۔ اگرچہ ہم اسے من پسند ہری مرچ بھی کھانے کو دیتے تھے، لیکن زیادہ تر وہ ہمارے دسترخوان سمیٹنے میں ’مددگار‘ ہوتا۔۔۔ اور بزرگوں کے بقول اس طرح رزق کی بے حرمتی ہونے سے بچ جاتی۔۔۔!

    ان ’صاحب‘ کا پنجرہ ہمارے پرانے گھر کی انگنائی میں ڈیوڑھی کے بالکل ساتھ الگنی کی دیوار میں گڑے ہوئے ایک لکڑی کے کھونٹے کے ساتھ ٹنگا ہوا ہوتا تھا، جہاں سے وہ گھر میں ہر آنے جانے والے پر ’نظر‘ بھی رکھا کرتے تھے، بلکہ اکثر کسی نئے مہمان یا رات کو آنے والے مہمان پر اپنے ردعمل کا اظہار ایک مخصوص ’پکار‘ کے ساتھ کیا کرتے، بعضے وقت ایسا ہوتا کہ دائیں سمت کی ڈیوڑھی سے نیا آنے والا مہمان جب بے دھیانی میں آنگنائی کی طرف کو مڑتا، تو ان کے پنجرے سے ٹکرا جاتا، سارا پنجرہ ٹیڑھا سیدھا ہوتا تو اس پر تو وہ اور سخت آواز میں اپنی برہمی کا اظہار کرتے۔۔۔

    کبھی ایسا بھی ہوتا کہ چھٹیوں کی دوپہر کو جب ہم سب آرام کر رہے ہوتے تھے، تو یہ بھی پنجرے کی مرکزی سلاخ پر ایک طرف ہو کر بیٹھ جاتے، کبھی ایک پاؤں اندر کر لیتے اور اپنے سارے پَر نسبتاً بھربھرے سے کرلیتے۔۔۔ اور پھر نیم وا آنکھوں کے ساتھ دھیمے دھیمے نہ جانے کون سی بولی بڑبڑاتے۔۔۔ یہ ان کی ایک اور مخصوص قسم کی آواز ہوتی تھی۔

    جو وہ کبھی سہ پہر کو گھر میں سناٹا دیکھ کر تنہائی کے عالم میں بولا کرتے تھے۔۔۔ کبھی یہ بھی ہوتا تھا کہ شام کے وقت وہ اکثر اپنی چونچ ترچھی کر کے آسمان کی جانب اڑتے ہوئے پنچھیوں کی جانب بھی بہ غور دیکھتے، اور اپنے بند چھوٹے سے پنجرے میں ادھر ادھر دوڑ لگاتے، گویا باہر نکلنے کو بے قرار ہو رہے ہوں۔

    بس ایسی ہی کچھ بات رہی ہوگی، جس کے باعث ایک دن ہمارے بڑوں نے ہمیں راضی کر لیا کہ اب ’مٹھو میاں‘ کو اڑا دیا جانا چاہیے۔۔۔ کیوں کہ پرندے آزاد فضا میں ہی اچھے لگتے ہیں، یہ بھی اپنے گھر والوں میں جا کر بہت خوش ہوں گے۔۔۔!

    سو، ہم نے دل پر بہت جبر کر کے ایک چُھٹی والے روز اس کا باقاعدہ اہتمام کیا۔۔۔ گھر کی انگنائی کے درمیان ان کا پنجرہ رکھ کر اس کا دروازہ کھول دیا گیا۔۔۔ اور ہم خود انگنائی سے متصل کمرے میں جا کر لگے انتظار کرنے۔۔۔ دل میں عجیب سا احساس تھا کہ جسے ہم خوشی تو نہیں کہہ سکتے، البتہ ہلکا سا درد ضرور کہا جا سکتا ہے، کہ کئی برس کے ساتھی کو ہمیشہ کے لیے خود سے جدا جو کر رہے تھے۔۔۔ ہم سب اندر بیٹھے دیکھ رہے تھے، لیکن جناب بہت دیر گزر گئی، لیکن مٹھو میاں نے کھلے ہوئے پنجرے کی طرف کسی قسم کی دل چسپی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا؎

    اتنے مانوس صیاد سے ہوگئے

    اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے!

    بہت دیر انتظار کے بعد بالآخر پنجرہ بند کر کے دوبارہ اپنی جگہ پر ٹانگ دیا گیا اور اس روز ہم پر یہ اچھی طرح آشکار ہوگیا کہ وجہ جو بھی ہو اب ’مٹھو میاں‘ ہمارے ساتھ ہی رہنے میں مطمئن ہیں۔۔۔ تبھی ہمیں یاد آیا کہ شروع میں ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک دوپہر کو صفائی کرتے ہوئے ہماری امی سے پنجرے کا دروازہ کھل گیا، تو مٹھو میاں پُھدک کر باہر نکل آئے تھے، لیکن آنگنائی سے باہر جانے کے بہ جائے یہ سیدھے ہمارے گھر کے اندر کی طرف اڑے تھے، ورنہ پرانا گھر تو اتنا کھلا ہوا تھا کہ وہاں سے انھیں اڑ جانے میں کوئی رکاوٹ ہی نہ تھی، کیا خبر یہ اَمر انھوں نے جان بوجھ کر کیا ہو، تاکہ انھیں پکڑ کر دوبارہ پنجرے میں ڈال دیا جائے، اور پھر بہ آسانی ایسا ہی کر دیا گیا تھا۔

    ہمارے ’مٹھو میاں‘ کو ایک عادت کاٹنے کی بھی پڑ گئی تھی، اور یہ ’کاٹنا‘ کیا تھا، بس پنجرے کے پاس ہاتھ لائیے، تو وہ برا مان کر چونچ کھول کر لپکتے اور جیسے ایک ٹھونگ سی مارنے کو ہوتے ہوں، تاہم کچھ عرصے بعد یہ بھی آشکار ہوگیا کہ کم از کم ہمارے لیے ان کا یہ ’کاٹنا‘ صرف دکھاوا تھا، کیوں کہ ہم پنجرے میں ہاتھ ڈال کر بھی ان کی کسی بھی گزند سے ہمیشہ محفوظ رہے۔ ہمارے لیے بس یہ تھا کہ وہ ہمارے ہاتھ پر خفیف سی چونچ کھولتے اور بس۔۔۔ یہ شاید ان کی انسیت کا کوئی اظہار ہو، کیوں کہ ہمارا پورا بچپن انھی کے سامنے گزرا تھا۔۔۔ البتہ نہ کاٹنے کی یہ ’رعایت‘ گھر کے کسی اور فرد کے لیے بالکل بھی نہیں تھی۔

    جب ہم اسکول کی ذرا بڑی کلاسوں میں آئے، تو اپنے ایک ہم جماعت کے کہنے پر ان کے پَر کٹوانے کے لیے انھیں ان کے گھر لے گئے۔۔۔ ان صاحب نے ہمیں بڑا یقین دلایا تھا کہ انھوں نے اپنے ہاں بھی توتے کے پِر کاٹے ہوئے ہیں، اور وہ آرام سے پنجرے سے باہر گھر میں گھومتا گھامتا رہتا ہے۔ تو ہم بھی اسی شوق میں آگئے، لیکن مٹھو میاں کو پنجرے سے نکال کر اور سختی سے پکڑ کر ان کے پر کاٹنا بہت ہی زیادہ ناگوار گزرا تھا۔۔۔ کیوں کہ ہم نے اتنے عرصے میں آج تک ایسا نہیں کیا تھا۔

    بہرحال پَر کٹوانے کے بعد کچھ دن تو ہم یہ کرتے کہ انھیں کچھ دیر کو پکڑ کر پنجرے سے باہر نکال لیتے تھے، شاید ایک بار اور اسی طرح پر کٹوائے، لیکن پھر مٹھو میاں کو ناخوش دیکھ کر یہ امر مناسب خیال نہیں کیا، کیوں کہ انھیں چھوا جانا اور پھر سختی سے دبوچنا بہت زیادہ برا لگتا تھا۔۔۔ ہمیں بس اتنا حق حاصل تھا کہ ان کی چونچ پر ہاتھ لگا لیا یا کھی سر کے اوپر۔ اس کے علاوہ بازوؤں کو چھونے سے بھی وہ برہم ہو جاتے۔۔۔ وقت گزرتا گیا۔۔۔ ہم بھی اسکول سے بڑھ کر اب کالج میں آچکے تھے۔۔۔ بس پھر ہمارے ’مٹھو میاں‘ بھی دھیرے دھیرے کمزور ہوتے چلے گئے اور پھر یہ ہوا کہ ایک دن صبح کو وہ اپنے پنجرے میں مردہ پائے گئے۔۔۔!

    یوں ہمارے بچپن کا ایک اہم باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔۔۔ دل میں درد کی ایک گہری لہر اٹھ کر رہ گئی، کہنے کو انگنائی کے ایک کونے میں رکھا ہوا پنجرہ ہی خالی ہوا، لیکن اصل میں ہمارے گھر کا آنگن ہی سُونا ہوگیا، ان کی چہچہاٹ کے بغیر اترنے والی شاموں میں ایک غیر محسوس سا ’سناٹا‘ ٹھیر گیا۔۔۔ آج جب بھی ہم کسی کنٹھی والے سبز توتے کو دیکھتے ہیں، ہمیں فوراً اپنے ’مٹھو میاں‘ کی یاد آ جاتی ہے، واقعی وہ ہمارے بچپنے کے ایک ایسے خاموش ساتھی تھے، جو گئے تو اپنے ساتھ گویا سارا بچپن اور بے فکری بھی لے گئے۔

  • درخت ہیں، تو ہم ہیں

    درخت ہیں، تو ہم ہیں

    بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور کلائمیٹ چینج کے نہایت واضح خطرات کے تحت، پاکستان میں اس وقت شجرکاری کی شدید ضرورت ہے تاکہ سبزے کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔ دوسری جانب غیرسرکاری تنظیمیں حسبِ استطاعت اپنا اپنا کردار ادا کررہی ہیں، تاہم اس میں بعض افراد ایسے ہیں جنہوں نے کسی ستائش و صلے سے بے نیاز ہوکر نہ صرف شجرکاری کو اپنا مشن بنایا ہے بلکہ وطن کو سبز پیرہن دینے میں اپنی ہر ممکن جستجو کررہے ہیں۔

    ان میں سے ایک شخصیت خضرولی چشتی کی ہے، جنہوں نے اپنی جسمانی مشکلات اور حدود کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود کو ’سبز ہیرو‘ ثابت کیا ہے۔

    خضرولی چشتی کی عمر مشکل سے دو تین برس تھی کہ ان میں پولیو کا انکشاف ہوا اوران کی نقل وحرکت محدود ہوکر رہ گئی۔ انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم ایم ایس سی تک مکمل کی۔ یہاں تک کہ شجرکاری کے لیے اپنا لیپ ٹاپ تک فروخت کردیا تھا۔

    خضر ولی کا ابتدائی بچپن یا تو ایک جگہ بیٹھے گزرا یا وہ دوڑتے بھاگتے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے کی سعی کرتے رہے اور یہ سلسلہ دس برس کی عمر تک جاری رہا۔ اس دوران ان کے آنگن میں نیم کے درخت سے ان کی دوستی ہوئی کیونکہ دونوں ہی ایک جگہ رہنے پر مجبور تھے۔ ضلع پاک پتن کے گاؤں چشتیاں میں پیدا ہونے والے خضر ولی نے دیہات کے ماحول میں پودوں، پھولوں، تتلیوں اور پرندوں کو دیکھا اور انہیں محسوس کیا۔ یہاں انہیں اشجار سے خاص لگاؤ ہوگیا۔ پھر وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگے اور تدریس مکمل کی، یہاں تک کہ خواجہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کیا۔

    جغرافیہ میں درختوں کی اہمیت، ماحولیات اور کلائمیٹ چینج سے تعارف پر انہوں نے 2014 میں پیڑ پودے لگانے شروع کیے۔ اپنے پیسوں سے خرید کر شجرکاری کے دوران بھی اس کی ابتدائی معلومات نہ تھیں اور تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس طرح رقم، محنت اور وقت بھی ضائع ہوا کیونکہ زیادہ تر پودے مرجھا جاتے تھے۔

    2017 میں خضرولی چشتی نے پاکستان میں ذاتی ملکیت میں پودوں کی فری نرسری قائم کی جو آج بھی لوگوں میں بیج، قلمیں اور نمویافتہ پودے تقسیم کرتی ہے۔ اس طرح ایک ٹرے میں مورینگا کے چھ پودوں سے شروع ہونے والے سفر پھلتا پھولتا رہا اور اب اس نرسری میں سالانہ 50 ہزار پودے تیار ہوسکتے ہیں۔ پودوں میں معیاری اور مقامی پودوں اور درختوں کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

    2020 میں خضرولی چشتی کی سالگرہ پر آسٹریلیا میں مقیم ان کے دوستوں نے ان کے نام پر میاواکی فاریسٹ لگایا جو ان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے۔ اس کے بعد مزید ایوارڈز اور اعزازات ملے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

    2021 کے ماہِ اکتوبر میں خضرولی چشتی نے میلہ اشجار (ٹری فیسٹول) کا انعقاد کیا جس میں بچوں اور بڑوں کو باغبانی، کچن گارڈننگ، ماحولیات شعور، پودوں کی تقسیم اور دیگر امور سے آگاہی دی گئی۔ اگرچہ وہ اب تک ایک لاکھ سے زائد درخت لگا چکے ہیں لیکن ان کا ہدف ہے کہ جب تک زندگی وفا کرے وہ ایک کروڑ اشجار کا ہدف پورا کرسکیں۔

    ’میرا مشن ہے کہ 2023 میں 50 ہزار پودوں کی شجرکاری کروں۔ اس سال میں پاکستان کے 100 شہروں کا وزٹ کرکے پودے لگانے کا خواہشمند ہوں۔ اس میں لوگوں کو ماحولیاتی شعور دینے کے ساتھ ساتھ مزید 50 ہزار پودے لگانے کا بھی ارادرہ رکھتا ہوں‘ انہوں نے بتایا۔

    خضرولی کو حوصلہ شکن رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، انہیں برے ناموں سے پکارا گیا اور کہا گیا کہ وہ زندگی میں کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی نے ان کے والدین سے کہا کہ یہ تو اسپیشل بچہ ہے جسے درزی وغیرہ کا کام سکھانا ہی مفید ہوگا۔ لیکن بیساکھیوں پر ہونے کے باوجود اب تک وہ لاکھ سے زائد درخت اپنے پیروں پر کھڑے کرچکے ہیں۔ یہاں تک کہ دیگرنووارد رضاکار اب ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔

    حال ہی میں انہوں نے اپنا پہلا میاواکی فاریسٹ بنایا ہے اور جلد ہی ایک ایکڑ پر میاواکی فاریسٹ اگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔