Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Uncategorized – Page 934 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: Uncategorized

  • درخت ہیں، تو ہم ہیں

    درخت ہیں، تو ہم ہیں

    بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور کلائمیٹ چینج کے نہایت واضح خطرات کے تحت، پاکستان میں اس وقت شجرکاری کی شدید ضرورت ہے تاکہ سبزے کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔ دوسری جانب غیرسرکاری تنظیمیں حسبِ استطاعت اپنا اپنا کردار ادا کررہی ہیں، تاہم اس میں بعض افراد ایسے ہیں جنہوں نے کسی ستائش و صلے سے بے نیاز ہوکر نہ صرف شجرکاری کو اپنا مشن بنایا ہے بلکہ وطن کو سبز پیرہن دینے میں اپنی ہر ممکن جستجو کررہے ہیں۔

    ان میں سے ایک شخصیت خضرولی چشتی کی ہے، جنہوں نے اپنی جسمانی مشکلات اور حدود کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود کو ’سبز ہیرو‘ ثابت کیا ہے۔

    خضرولی چشتی کی عمر مشکل سے دو تین برس تھی کہ ان میں پولیو کا انکشاف ہوا اوران کی نقل وحرکت محدود ہوکر رہ گئی۔ انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم ایم ایس سی تک مکمل کی۔ یہاں تک کہ شجرکاری کے لیے اپنا لیپ ٹاپ تک فروخت کردیا تھا۔

    خضر ولی کا ابتدائی بچپن یا تو ایک جگہ بیٹھے گزرا یا وہ دوڑتے بھاگتے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے کی سعی کرتے رہے اور یہ سلسلہ دس برس کی عمر تک جاری رہا۔ اس دوران ان کے آنگن میں نیم کے درخت سے ان کی دوستی ہوئی کیونکہ دونوں ہی ایک جگہ رہنے پر مجبور تھے۔ ضلع پاک پتن کے گاؤں چشتیاں میں پیدا ہونے والے خضر ولی نے دیہات کے ماحول میں پودوں، پھولوں، تتلیوں اور پرندوں کو دیکھا اور انہیں محسوس کیا۔ یہاں انہیں اشجار سے خاص لگاؤ ہوگیا۔ پھر وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگے اور تدریس مکمل کی، یہاں تک کہ خواجہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کیا۔

    جغرافیہ میں درختوں کی اہمیت، ماحولیات اور کلائمیٹ چینج سے تعارف پر انہوں نے 2014 میں پیڑ پودے لگانے شروع کیے۔ اپنے پیسوں سے خرید کر شجرکاری کے دوران بھی اس کی ابتدائی معلومات نہ تھیں اور تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس طرح رقم، محنت اور وقت بھی ضائع ہوا کیونکہ زیادہ تر پودے مرجھا جاتے تھے۔

    2017 میں خضرولی چشتی نے پاکستان میں ذاتی ملکیت میں پودوں کی فری نرسری قائم کی جو آج بھی لوگوں میں بیج، قلمیں اور نمویافتہ پودے تقسیم کرتی ہے۔ اس طرح ایک ٹرے میں مورینگا کے چھ پودوں سے شروع ہونے والے سفر پھلتا پھولتا رہا اور اب اس نرسری میں سالانہ 50 ہزار پودے تیار ہوسکتے ہیں۔ پودوں میں معیاری اور مقامی پودوں اور درختوں کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

    2020 میں خضرولی چشتی کی سالگرہ پر آسٹریلیا میں مقیم ان کے دوستوں نے ان کے نام پر میاواکی فاریسٹ لگایا جو ان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے۔ اس کے بعد مزید ایوارڈز اور اعزازات ملے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

    2021 کے ماہِ اکتوبر میں خضرولی چشتی نے میلہ اشجار (ٹری فیسٹول) کا انعقاد کیا جس میں بچوں اور بڑوں کو باغبانی، کچن گارڈننگ، ماحولیات شعور، پودوں کی تقسیم اور دیگر امور سے آگاہی دی گئی۔ اگرچہ وہ اب تک ایک لاکھ سے زائد درخت لگا چکے ہیں لیکن ان کا ہدف ہے کہ جب تک زندگی وفا کرے وہ ایک کروڑ اشجار کا ہدف پورا کرسکیں۔

    ’میرا مشن ہے کہ 2023 میں 50 ہزار پودوں کی شجرکاری کروں۔ اس سال میں پاکستان کے 100 شہروں کا وزٹ کرکے پودے لگانے کا خواہشمند ہوں۔ اس میں لوگوں کو ماحولیاتی شعور دینے کے ساتھ ساتھ مزید 50 ہزار پودے لگانے کا بھی ارادرہ رکھتا ہوں‘ انہوں نے بتایا۔

    خضرولی کو حوصلہ شکن رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، انہیں برے ناموں سے پکارا گیا اور کہا گیا کہ وہ زندگی میں کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی نے ان کے والدین سے کہا کہ یہ تو اسپیشل بچہ ہے جسے درزی وغیرہ کا کام سکھانا ہی مفید ہوگا۔ لیکن بیساکھیوں پر ہونے کے باوجود اب تک وہ لاکھ سے زائد درخت اپنے پیروں پر کھڑے کرچکے ہیں۔ یہاں تک کہ دیگرنووارد رضاکار اب ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔

    حال ہی میں انہوں نے اپنا پہلا میاواکی فاریسٹ بنایا ہے اور جلد ہی ایک ایکڑ پر میاواکی فاریسٹ اگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • عوام کے کندھوں پر سیاسی بساط

    عوام کے کندھوں پر سیاسی بساط

    ’بال بلوڑے شے گِھدی ونجو‘‘ (بال بچوں چیز لے جاؤ)۔

    بچپن میں یہ آواز سنتے تھے تو اسی جانب دوڑ لگا لیتے تھے جہاں سے یہ آواز آرہی ہوتی تھی۔ روایت تھی کہ مغرب ہونے سے پہلے محلے میں کوئی چینی والی روٹی تو کوئی ٹافیاں بانٹتا تھا، اسے باعث برکت سمجھا جاتا تھا۔

    بڑے ہوئے تو آہستہ آہستہ یہ آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں لیکن بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا، انہوں نے یہ روایت تاحال قائم رکھی ہوئی۔ اب بھی صدائیں آتی ہیں، کہیں ’نیا پاکستان‘ بنانے کی ٹافی بٹتی ہے تو کہیں بہترین انتظامی امور کے دعویدار چوپڑیاں بانٹتے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے بتاشے بانٹ رہے ہیں۔ عوام میٹھا کھانے کے شوق میں ہجوم بنے اسی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں جہاں سے مٹھائی کھلائے جانے کا بلاوا آتا ہے۔

    75 سال سے اقتدار کےلیے لڑتے مرتے عوامی نمائندوں کا ٹافیوں، بتاشوں کے لالچ میں عوام کو کچل کر ذاتی مفادات کی رسہ کشی کا کھیل جاری ہے۔ اس لالچ کو عوامی مفاد کا ٹیگ لگا کر بڑی ہوشیاری سے بیچا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان پچھہتر برسوں میں شطرنج کی بازی چاہے کوئی بھی جیتا ہو، کیا اس سے عوام کے مسائل کم ہوئے؟ بنیادی ضروریات، جس میں عزت سے دو وقت کی روٹی، سستی اور معیاری تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتیں عوام تک پہنچائی گئیں؟ یقیناً جواب ہوگا نہیں۔ اور اس کی وجہ بھی مجبوری کے ریپر میں بوندی بنا کر اپنے اپنے ہجوم میں بانٹ دی جاتی ہے۔ کسی کو مدت پوری نہیں کرنے دی تو کسی کے دور حکومت میں پچھلی حکومتوں کی بری کارکردگی کے رونے دھونے ہی تمام نہ ہوئے اور کسی نے سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دیا، حالانکہ لانے پر اسی اسٹیبلشمنٹ کے چرن بھی چومنے والے یہی تھے۔

    عوام کے کندھوں پر شطرنج کی بساط سجانے والے اپنے اپنے کھیل میں مگن ہیں، نہ کسی کو احساس ہے کہ زرعی ملک میں آٹا نایاب ہوچکا ہے اور نہ کسی کو فکر ہے کہ آٹے دال کا بھاؤ کیا ہے۔ عوام کےلیے ہر گزرتا دن مشکل تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ کھیل اتنا مزیدار ہے کہ اس کے نشے میں مدہوش و مشغول کھلاڑی میرپورخاص کے گلشی کولہی کو بھی بھول گئے۔ وہی گلشی جو بچوں کی بھوک مٹانے سستا آٹا لینے گیا، جسے پانچ کلو آٹا تو مل گیا لیکن بدلے میں سانسیں چھین لی گئیں۔ بچے یتیم ہوگئے، لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ کھیل تو ابھی بھی جاری ہے۔ انا اور ضد کی آگ ہے جس میں آئے روز کوئی نہ کوئی اپنے حصے کا ایندھن جھونک رہا ہے۔

    دو بڑے صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل ہوگئیں، مرکز میں بغیر اپوزیشن کے ڈمی سیٹ اپ لگا دیا گیا ہے جہاں آئے روز وزیروں مشیروں کی بھرتیاں جاری ہیں۔ ایک طرف پی ڈی ایم دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر سیاسی بحران کو حل کرنا چاہتی ہے مگر پاکستان تحریک انصاف تیار نہیں۔ اب جب پی ٹی آئی نے حامی بھری تو دس مہینوں سے اسپیکر کی دراز میں رکھے استعفے اچانک منظور کرلیے گئے اور ممبران کو فوری طور پر ڈی نوٹیفائی بھی کروا دیا گیا۔ نہ لفظوں کا مان رہا، نہ اپنے پارلیمانی عہدوں سے ایمانداری جیسا کوئی اصول دکھائی دیتا ہے۔

    ایک طرف دوست ممالک سے امداد مانگی جارہی ہے اور دوسری طرف تحلیل کی گئی اسمبلیوں میں دوبارہ انتخابات کی بازگشت ہے۔ جبکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ انتخابات کےلیے وسائل ناگزیر ہوتے ہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب معاشی حالات سازگار نہیں تو تین چار سو حلقوں میں انتخابات کرانے کےلیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ لیکن عوام کے سامنے خالی خزانے کا ماتم جاری ہے۔ اس غیر یقینی کی صورتحال نے معاشی ڈھانچے کی گلی سڑی ہڈیاں بھی توڑنی مروڑنی شروع کردی ہیں۔

    اسٹاک ایکسچینج میں مندی ہی مندی ہے، ڈالر ہاتھ نہیں آرہا، سرمایہ دار بھاگنے پر تلا بیٹھا ہے، اسٹیٹ بینک میں پڑا پیسہ صفر گھٹا رہا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر پردیس میں نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں، برآمدات میں خسارہ ہی خسارہ ہے لیکن سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرنے والے ٹس سے مس ہی نہیں ہورہے۔

    دوسری جانب اسمبلیوں سے محروم صوبوں میں نگران سیٹ اپ کےلیے بھی ’’تو تو، میں میں‘‘ شروع ہے۔ سب کو اپنا بندہ لانا ہے، یہ دیکھے بنا کہ وہ وزرات اعلیٰ کےلیے اہل بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ دونوں جانب سے دیے گئے ناموں میں سے کوئی قانوناً، تو کوئی اخلاقاً ملزم ہے۔ جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جماعت اقتدار میں ہوتی ہے وہ اداروں کو استعمال کرکے من پسند فیصلہ کروا ہی لیتی ہے اور اس معاملے میں بھی بال پارلیمانی کمیٹیوں کو پار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی ڈی میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان نے پہلے سے ہی الیکشن کمشن پر کرپٹ ادارے کا ٹیگ لگا رکھا ہے۔ یہاں بھی حالات بہتری کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دے رہے بلکہ تعیناتی کے بعد ایک بار پھر سے رولا رپا تیار۔

    ہر طرف دھند ہی دھند ہے، کہیں سے کوئی ایسا راستہ نہیں دکھائی دے رہا جہاں چل کر اس بحران کو ختم کیا جائے۔ عام انتخابات کی طرف پی ڈی ایم جانے کو تیار نہیں حالانکہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج دیکھنے کے بعد اب یہ فیصلہ کسی حد تک بڑے اتحادی پیپلز پارٹی کےلیے قابل قبول بھی ہوسکتا ہے لیکن وہاں بھی رویہ سرد ہی ہے۔ کوئی ایک زیرک سیاستدان آگے بڑھ کر ان معاملات کو سلجھانے کو تیار نہیں، ہاں الجھانے میں سبھی اپنا اپنا حصہ ڈالنے کو بے تاب ہیں۔ ان تمام تنازعات میں ملک کس جانب جارہا ہے، عوام کی بدحالی کی کیا صورتحال ہے، ایک ایٹمی طاقت کا امیج کس حد تک منفی ہوئے جارہا ہے، اس کی نہ پروا ہے نہ احساس۔ مجبوراً ملک کی بقا اور عوام کی بہتری کے نعرے لگ رہے ہیں۔

    ان نعروں پر عملدرآمد دیوانے کا خواب سہی مگر عوام پھر بھی اپنے اپنے اکابرین کے پیچھے آنکھیں موندے چل رہے ہیں۔ اپنے ووٹ کی طاقت کو سیاستدانوں کے بیانیوں پر نچھاور کرکے انہیں بدمست ہاتھی بنانے میں ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ تبھی تو چال چلنے والے اپنی اپنی بازیاں لپیٹ اور باریاں سمیٹ رہے ہیں۔ قوم کے خادم قوم کے حاکم بنے بیٹھے ہیں اور ہم تماش بین جی حضوری میں مگن۔ لیکن ہم ہوتے کون ہیں اپنی مرضی سے اپنے خادم چننے والے؟ کہنے کو یہاں جمہوریت ہے لیکن درحقیقت یہ لڈو بھی حکومتیں بنانے اور گرانے والوں کے ’’مقدس سنہری ورق‘‘ میں مقید ہے جس کے قریب بھی ہمیں پھٹکنے کی اجازت نہیں۔

    کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں کھلی دھاندلیوں کے مناظر نے بھی رہی سہی خوش فہمی دور کردی کہ نمائندے کے نام پر ٹھپہ عوام لگاتے ہیں۔ یہاں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ والا قانون ہی نافذ ہے۔ پھر یہ تماشا کیسا؟ یہ بحران کیونکر؟ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر یہ وطن حاصل کیا اور ہمیں اس یقین پر سونپا تھا کہ ہم اس کی رکھوالی کریں گے، اسے عزت و استحکام بخشیں گے۔ مگر یہ کیا، ہم تو خود سہولت کار بنے اسے کمزور کرنے والوں کے بیانیوں پر لبیک کہتے شعور کو شکست اور جنون کو جیت کا معیار بنا رہے ہیں۔

    عوام کے جذبات، جنون اور لاشعور پر سجی بساط پر شطرنج کا کھیل جاری ہے۔ یہ کھیل دماغ کا ہے اور کھیلنے والے بادشاہ کو شہ مات دینے کےلیے گھیریں گے، لپیٹیں گے اور خوب دھکیلیں گے۔ ہار بھی گئے تو جیت کھلاڑی کی اور نقصان صرف اور صرف اس اناڑی کا مقدر ہوگا جس نے اقتدار کا یہ کھیل کھیلنے کےلیے شاطر کھلاڑیوں کےلیے اپنا کندھا جھکایا۔ پھر نہ ٹافیاں ملیں گی اور نہ ہی میٹھے بتاشے، جن کی حرص پچھہتر سال سے زندہ باد کے نعرے لگوا رہی ہے۔

  • مساجد میں چوری کی وارداتیں؛ وجہ کیا ہے؟

    مساجد میں چوری کی وارداتیں؛ وجہ کیا ہے؟

    ہمارے گھر کے قریب تین جامع مساجد ہیں۔ سوئی گیس آفس کے پاس طلحہ مسجد، منگل مارکیٹ میں غوثیہ مسجد اور جاوا چوک میں علی المرتضیٰ مسجد ہے۔ تینوں مساجد میں چپل چوری کی وارداتوں کے علاوہ دیگر انتہائی سطح کی وارداتوں کی اطلاع بھی گاہے بگاہے ملتی رہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے دو بار چپل چوری کی کارروائی بذات خود ہمارے ساتھ ہوئی۔

    کل ظہر کے بعد جب باہر نکلا تو مسجد کے خادم صاحب کسی سے انتہائی سنجیدہ لہجے میں گفتگو فرما رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ رات کو مسجد کا ہیٹر چوری ہوگیا۔ خادم مسجد انتہائی لاچاری میں کہنے لگے دیکھیں اب ہم کیا کریں، ہمارا کام نمازیوں کےلیے سہولیات کا خیال رکھنا، رات کو بروقت مسجد کے دروازوں کو لاک کرنا ہے، لیکن پھر بھی کسی نے کارروائی کر ڈالی۔ چونکہ بات مساجد سے متعلق ہے تو انہوں نے مزید ایک خبر سنائی کہ یہاں تو رات کو کارروائی کی گئی لیکن غوثیہ مسجد میں دن دیہاڑے ساؤنڈ سسٹم غائب ہوگیا۔ طلحہ مسجد نہ صرف ایک جامع مسجد ہے بلکہ یہاں ملک کے دور دراز علاقوں سے علم کے پیاسوں کو سیراب کیے جانے کی شب و روز سعی کی جاتی ہے، وہاں مسجد کے اندر سے چوری ہونا (جوتوں کے علاوہ) ممکن نہیں، کیوں کہ ہر لمحہ طلبا و علما کی آمدورفت رہتی ہے، لیکن مسجد سے باہر چیزیں پھر بھی خطرے سے دوچار ہیں، خاص کر چندے کے ڈبے، جو کئی مرتبہ وارداتوں کا سامنا کرچکے ہیں۔

    اس ساری صورت حال کو جب انسان دیکھتا ہے تو لامحالہ ایک سوال دماغ کے گوشوں سے انگڑائی لیتا ہے، مجھے قوی امید ہے کہ عوامی حلقوں میں بھی ایسے واقعات کے بعد اس قسم کے سوالات کی گونج ہوگی کہ ان لوگوں کو خدا کا خوف بھی نہیں آتا کہ وہ اللہ کے گھر سے چوری کرتے ہیں؟ یعنی چوری کی وجہ صرف خدا کے خوف کے نہ ہونے کو قرار دیا جاتا ہے۔

    یہ ایک بنیادی سوال ہے، اور یقیناً اگر ہمیں سردی کے موسم میں گرم بستر مہیا ہو، ہمارے بچوں کو موسم کے لحاظ سے تمام سہولیات میسر ہوں، تین یا کم از کم دو وقت کا کھانا بڑی آسانی سے مل رہا ہے، ہمارے بچوں کےلیے روزمرہ کی ضروریات پوری ہورہی ہوں، ہمارے چولہے گرم ہوں، ہماری رہائش اچھی ہو، ہمیں کل کی فکر نہ ہو کہ آنے والے کل کا کہاں سے، کیسے بندوبست ہوگا؟ تو ہم بیٹھ کر آرام سے دیگر مقامات کے علاوہ خاص کر مساجد میں چوری کی وارداتوں سے متعلق یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا خوف ختم ہوگیا ہے۔

    لیکن اس سے پہلے کہ ہم بات کو اس کی آخری حد یعنی خوف خدا کی کمی سے شروع کریں، ایک لمحہ رکیے، اور سوچیے کہ ایک شخص اگر اس انتہائی قدم تک گیا ہے تو آخر کس وجہ سے گیا ہوگا؟ کیا واقعی وہ اس قدر بے خوف اور جرّی ہوگیا ہے کہ اس کا دل مہر زدہ ہوگیا ہے، اس سے خدا کا خوف نکل گیا، اور نتیجتاً وہ مساجد کی اشیا چوری کر رہا ہے یا معاملہ کوئی اور ہے؟

    چوری کرنا یقیناً ایک جرم ہے۔ چوری کی مخصوص حد جس کی سزا ہاتھ کاٹنا تھی، ملکی صورت حال کے پیش نظر اس کی سزا کیا ہوگی، یہ علمائے وقت ہی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جب قحط آیا تھا تو یہ سزا منسوخ کردی گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہی تھی کہ سزائیں تب لاگو ہوتی ہیں جب رعایا کی تمام بنیادی ضروریات پوری ہورہی ہوں، اور پھر کوئی فساد کےلیے کرنا شروع کردے۔ لیکن اگر بنیادی ضروریات ہی تعطل کا شکار ہوجائیں، اور پھر خاص کر اگر عوام بھی ایسے ہوں جن کا کوئی پرسان حال نہ ہو، ان کے حکمرانوں کو ان کی فکر نہ ہو تو شاید وہاں سزائیں کیا، اخلاقی قواعد و ضوابط بھی منسوخ ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ پروا نہیں ہوتی کہ گھر خدا کا ہے یا اس کے بندے کا۔ وہاں صرف ایک فکر کارفرما ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ان حالات کا سامنا کرسکتا ہے۔ وہ اپنے بیوی بچوں کےلیے ایک وقت کی روٹی کہاں سے لائے گا اور جب کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی چارہ نہیں ہوتا، کوئی سہارا نہیں رہتا تو انسان شاید کانپتے ہاتھوں، بہتی آنکھوں سے کوئی انتہائی قدم اٹھا بیٹھتا ہے۔

    اس لیے ہمیں سوچنا ہوگا کہ بات صرف خوف خدا کی کمی نہیں، بلکہ مخلوق کی بے چارگی بھی ہوسکتی ہے، جس سے اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

  • Vavada



    Промокод Вавада сегодня для больших выигрышей


    Промокод Вавада на сегодня для больших выигрышей

    Воспользуйтесь промокодом Вавада сегодня и увеличьте свои шансы на выигрыш! Примените код на этапе регистрации или внесения депозита, чтобы получить привлекательный бонус. Это не просто халява, а реальный способ повысить свои ставки и получить больше радости от игры.

    Каждый игрок заслуживает наилучшего опыта. Благодаря промокоду вы открываете доступ к уникальным предложениям, позволяющим выигрывать ещё больше. Не упустите момент! Бонусы варьируются от увеличения суммы депозита до бесплатных вращений. Каждый шаг приближает вас к крупному выигрышу!

    Следите за обновлениями, чтобы быть в курсе новых промокодов и акций. С Вавадой каждый день становится полнее азартом и шансом на радость. Проверьте, какие возможности ждут вас!

    Как получить и активировать промокод Вавада

    Для получения промокода Вавада достаточно перейти по специальной ссылке, где вы найдете актуальные предложения. Например, воспользуйтесь промокод вавада на сегодня, чтобы получить доступ к выгодным условиям.

    После того, как вы получили код, следующий шаг – его активация. Зайдите на сайт Вавада и создайте аккаунт, если у вас его еще нет. В меню вашего профиля найдите раздел «Промокоды» или «Бонусы».

    Введите ваш промокод в соответствующее поле и подтвердите действие. Обратите внимание на правила использования кодов, так как некоторые из них могут требовать внесения депозита или соблюдения определенных условий.

    После активации промокода наслаждайтесь всеми преимуществами, которые он предоставляет, включая бонусы на следующие ставки или более высокие выигрыши! Не забудьте проверить срок действия кода, чтобы не упустить шанс получить дополнительные преимущества.

    Топ игры с повышенными выигрышами при использовании промокода

    Мерлин и волшебство – игра с мистической тематикой, где при активации промокода увеличиваются шансы на получение бонусных символов. Это позволяет значительно увеличить ваши максимально возможные выигрыши во время бонусных раундов.

    Гонка по Млечному Пути – футуристический автомат с захватывающей графикой и механикой. Использование промокода здесь дает право на дополнительный множитель к выигрышам, что позволяет получить крупные денежные призы на каждом уровне игры!

    Тайны Египта – замечательный слот, посвященный древним цивилизациям. Применение промокода открывает доступ к специальным раундам с уникальными возможностями выигрыша, что увеличивает шансы на получение крупного джекпота.

    Остров сокровищ – приключенческий слот, который не оставит равнодушным. При вводе промокода игрок получает дополнительные бонусы в виде жетонов и бесплатных спинов, что значительно повышает шансы на нахождение сокровищ.

    Использование промокодов в этих играх совершенно изменяет опыт игры, делая его более захватывающим и прибыльным. Выберите свою любимую игру и получайте максимальную выгоду от каждого спина!

    Частые ошибки при использовании промокодов Вавада и как их избежать

    Проверяйте срок действия промокода. Многие пользователи пропускают эту информацию, в результате чего теряют возможность воспользоваться скидкой. Убедитесь, что код не просрочен, прежде чем вводить его.

    Обратите внимание на условия использования. Каждый промокод может иметь свои ограничения, такие как минимальная сумма ставки или определенные игры. Перед введением кода обязательно ознакомьтесь с его условиями.

    Не забывайте вводить код правильно. Пропуск знаков или неправильная расстановка букв могут привести к ошибке. Всегда проверяйте код на наличие ошибок перед его отправкой.

    Избегайте использования нескольких промокодов одновременно, если это не предусмотрено правилами. Некоторые предложения могут не складываться между собой, что также приведет к недействительности одного из них.

    Контроль за аккаунтом поможет избежать неожиданностей. Убедитесь, что у вас достаточно средств на балансе, чтобы воспользоваться промокодом в полной мере и получить максимальную выгоду.

    Регулярно проверяйте почту и настройки аккаунта на сайте Вавада. Вы можете пропустить уникальные предложения, которые могут прийти в виде новых промокодов.

    Обратитесь в службу поддержки в случае возникновения проблем. Если ваш промокод не сработал, не стесняйтесь задавать вопросы. Специалисты помогут вам разобраться с проблемой и предложат пути её решения.


  • سینئر لیگی رہنما پیر امین الحسنات تحریک انصاف میں شامل

    سینئر لیگی رہنما پیر امین الحسنات تحریک انصاف میں شامل

    سرگودھا: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما پیر امین الحسنات نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیر امین الحسنات میں پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیر حسنات کی شمولیت سے سرگودھا میں پی ٹی آئی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی۔ان کے ساتھ مل کر پاکستان کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا کہ اس وقت ملک میں تاریخ ساز تحریک چل رہی ہے۔ ہم ملکی بہتری کے لیے مل کر کام کریں گے۔ پاکستان میں اس وقت کوئی سیاسی لیڈر ہے تو وہ عمران خان ہے۔
    سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیر امین الحسنات کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے ن لیگ سرگودھا میں ختم ہوگئی ہے۔ جب ہم اپنے استعفے لے کر اسپیکر کے پاس جاتے ہیں تو وہ سرنگ میں چلے جاتے ہیں۔ ملک میں جوحالات ہیں، اس کا واحد حل انتخابات ہی ہے۔جب تک سیاسی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے، معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے پیر امین الحسنات سابق وزیر مملکت برائے مذہبی امور اور مسلم لیگ ن کے رہنما رہے رہیں۔ وہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کا حصہ بھی رہے۔ پیر امین الحسنات حلقہ این اے 64 سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

  • مسلم لیگ (ن) کے پیر امین الحسنات نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی

    مسلم لیگ (ن) کے پیر امین الحسنات نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی

    سرگودھا: مسلم لیگ (ن) کے پیر محمد امین الحسنات نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔
    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیر امین الحسنات نے کہا کہ میرے پاس محترم لوگ تشریف لائے ہیں، میرا جس بھی پارٹی سے تعلق رہا اچھا وقت گزرا ہے، اسد عمر کے ساتھ 5 سال اسمبلی میں گزارے ہیں، جب بھی انہوں نے گفتگو کی تو دلائل کے ساتھ کی، ہم اپنا دل آپ کے راستے میں بچھاتے ہیں، وقت گزرتا ہے تو اسباب پیدا ہوتے رہتے ہیں، اپنے دائیں بائیں بیٹھے تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں۔
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پیر امین الحسنات کو خوش آمدید کہتے ہیں، اس علاقے اور پورے پاکستان کی بہتری کیلئے ہم ساتھ مل کر سفر جاری رکھیں گے، ہم وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس کا خواب ہمارے آباؤ اجداد نے دیکھا۔
    شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پیر حسنات شاہ کو خوش آمدید کہنے آیا ہوں، پیر امین الحسنات کی پارٹی میں شمولیت سےتحریک انصاف کو تقویت ملے گی، فواد چودھری کا کہنا تھا کہ پیر امین الحسنات اور ان کی تمام فیملی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    سابق وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن سرگودھا سے عملی طور پر ختم ہو گئی، آج رہی سہی کسر پوری ہو گئی، یقین سے کہہ سکتا ہوں عمران خان کی رگ رگ میں عشق رسولؐ کا فلسفہ ہے، جس طرح عمران خان نے دین کیلئے خدمات سرانجام دیں سب کے سامنے ہیں۔

  • وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کو دل کا دورہ، انجیوپلاسٹی کر دی گئی

    وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کو دل کا دورہ، انجیوپلاسٹی کر دی گئی

    حیدرآباد: وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کو سینے میں تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کو سینے میں تکلیف کے باعث نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) حیدرآباد منتقل کیا گیا۔
    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شرجیل انعام میمن کے دل کی 2 شریانیں بند تھیں، انجیو گرافی کے بعد انجیو پلاسٹی کر دی گئی ہے، 2 اسٹنٹ ڈالے گئے ہیں۔
    شرجیل میمن کی حالت اب پہلے سے بہتر ہے، انہیں 24 گھنٹوں بعد گھر منتقل کر دیا جائے گا۔

  • اعظم خان نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تعینات، نوٹیفکیشن جاری

    پشاور: اعظم خان کی بطور نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    گورنر خیبر پختونخوا غلام علی کی جانب سے وزیراعلیٰ کیلئے اعظم خان کے نام کی منظوری دے دی گئی

    واضح رہے کہ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کی جانب سے گزشتہ روز گورنر کے پی کو نگراں وزیراعلیٰ کے نام کے حوالے سے مراسلہ ارسال کیا گیا تھا، دونوں رہنماؤں نے اعظم خان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات گزشتہ روز پشاور میں ہوئی، ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اکرم درانی کا کہنا تھا کہ دو، تین نام ان کے تھے، دو نام ہمارے پاس تھے، ہم نے مشورہ کیا کہ عوام کو مزید مشکلات میں نہیں ڈالیں گے، تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن اور وزیراعلیٰ نے بیٹھ کراہم فیصلہ کیا۔
    انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر محمود خان، پرویز خٹک اور سپیکر کا مشکور ہوں
    نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے نامزد اعظم خان چیف سیکرٹری سمیت دیگر اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں، وہ سابق نگراں وفاقی وزیر بھی رہے، اعظم خان پٹرولیم اور مذہبی امور کی وزارتوں کے وفاقی سیکرٹری بھی رہے۔

  • پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ؟ فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا

    لاہور: پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کے لئے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی، نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کا فیصلہ اب الیکشن کمیشن کرے گا۔
    لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کے زیر صدارت اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا، پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے عہدے پر تقرری کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کسی بھی نام پر متفق نہ ہو سکی۔
    حکومتی اتحاد کی جانب سے احمد نواز سکھیرا اور نوید اکرم چیمہ کے نام تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ اپوزیشن نے محسن رضا نقوی اور احد چیمہ کو نامزد کررکھا ہے۔