اسلام آباد:پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے سہولت کاری کے الزام کو مسترد کرتا ہوں۔وفاقی دارالحکومت میں سابق گورنرسندھ محمد زبیرکی ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن ہونا چاہیے، قدرت نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا ہے۔اُنہوں نے کیا کہ صلح جوئی کا کردار ہمارا فرض ہے، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا نے تو پٹرول کی قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں کیا، حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ڈاکہ ڈالا۔رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتا، نو اپریل کا جلسہ منسوخ کرکے ہم نے بالکل ٹھیک کیا، بانی پی ٹی آئی نے بھی جلسے منسوخی کی تائید کی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نےسیاسی کمیٹی میں بیٹھ کر جلسے کی منسوخی کے لیے غور کیا تھا، حکومت کے لیے سہولت کاری کے الزام کو مسترد کرتا ہوں۔اُن کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی، راجہ ناصرعباس نےبھی جلسہ منسوخ کرنے کے فیصلےکی تائید کی، علیمہ خان کو اپنی رائےکا حق ہے، سلمان صفدر نے جیل سے باہر آکر مجھےفون کیا تھا۔رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ سلمان صفدر نے کہا آپ کو اورسہیل آفریدی کو بانی کا اہم پیغام دینا چاہتا ہوں، اُنہوں نے کہا عمران خان نے ہدایت کی کہ نو اپریل کا جلسہ منسوخ کر دیں۔سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ مجھے محمود خان اچکزئی، راجہ ناصرعباس پر مکمل اعتماد ہے۔
Blog
-

ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط میں پیشرفت، گبد بارڈر ٹرمینل فعال
گوادر: ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط میں اہم سنگ میل حاصل کر لیا گیا جبکہ گبد بارڈر ٹرمینل فعال کر دیا گیا۔پاکستان کے ادارے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن نے گبد بارڈر ٹرمینل کو ٹی آئی آر کیلئے فعال کردیا، اس پیشرفت سے ایران کے ذریعے علاقائی تجارتی روابط کو فروغ حاصل ہوگا۔ایران کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی مختصر، محفوظ اور جدید قرار دی جا رہی ہے، متبادل راہداری سے افغانستان پر انحصار ختم ہوگیا، کراچی سے تاشقند بھیجے گئے گوشت کے کنٹینرز کی ترجیحی ہینڈلنگ اور کلیئرنس کے بعد کھیپ ایران کے راستے ازبکستان روانہ کر دیئے گئے۔این ایل سی کے مطابق چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک متعدد تجارتی راہداریوں کو فعال کیا جاچکا، گبد بارڈر ٹرمینل مارچ 2024 میں تعمیر کیا گیا۔معاشی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے وسطی ایشیا میں برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، نئے روٹ سے فاصلہ کم، لاجسٹکس اخراجات میں کمی اور تجارت میں بہتری آئے گی۔یہ پاکستان کو ریجنل کنیکٹیویٹی ہب بنانے کی جانب اہم قدم ہے، گوادر کے قریب گبد رمدان راہداری مستقبل میں اہم تجارتی گزرگاہ بننے کی توقع ہے۔
-

دشمن ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دیںگے، ایرانی فوج
تہران: ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایسے تیل بردار جہاز یا بحری جہاز جو ایران کے دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی فوجی قیادت نے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اور سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ایرانی فوج کے مطابق ملک کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں نئے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔حکام کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے نئے نظام اور طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس میں ٹول ٹیکس اور ٹرانزٹ چارجز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہوگی، تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے خطے میں ناکہ بندی اور دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث سمندری ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو نہ صرف سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے بلکہ سفارتی اور سیاسی دباؤ کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے، ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ “سب کے لیے سیکیورٹی یا کسی کے لیے نہیں” کا اصول آبنائے ہرمز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
-

سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع
واشنگٹن: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو رواں ماہ بڑی ادائیگیوں کے بعد مالیاتی استحکام بارے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت اور 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ مملکت سعودی عرب نے پاکستان کیلئے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی منظوری دے دی ہے، جن کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کا موجودہ 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اب سالانہ بنیاد پر رول اوور کا پابند نہیں رہے گا بلکہ اسے طویل مدت کیلئے بڑھا دیا جائے گا۔واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے لئے سعودی مالی تعاون اور حکومت کی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی سے متعلق اہم تفصیلات شیئر کیں۔
-

محسن نقوی کی چینی سفارتخانہ آمد، سرمایہ کاری، سکیورٹی امور پر گفتگو
کراچی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں چینی قونصلیٹ کا دورہ کیا، جہاں چین کے قونصل جنرل یانگ یونڈونگ نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے دوران وزیرداخلہ کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات ہوئی، جس میں پاک چین دوطرفہ تعاون، چینی سرمایہ کاروں کو سہولتوں کی فراہمی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ چینی بزنس مینوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے جلد اسلام آباد میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں شرکت کے لیے چینی قونصل جنرل اور کراچی میں موجود چینی بزنس کمیونٹی کو دعوت دی گئی ہے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت ہر سطح پر انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان میں زیادہ سے زیادہ چینی سرمایہ کاری کے فروغ اور بزنس فرینڈلی ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر چینی قونصل جنرل نے پاک چین دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے میں وزیرداخلہ کے کردار کو سراہا اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
-

یو اے ای اور ایرانی حکام کا رابطہ، کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال
ابوظہبی: یو اے ای اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔عرب میڈیا کے مطابق نائب صدر شیخ منصور بن زاید اور ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان گفتگو کی گئی، دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال کیا۔عرب میڈیا کے مطابق جنگ کے دوران اماراتی حکام نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ،ایران کے حملوں کے بعد یو اے ای نے سفیر واپس بلا کر سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔
-
Fildena Extra Power y su Ciclo de Preparados de Insulina
Índice de Contenidos
- Introducción
- ¿Qué es Fildena Extra Power?
- Ciclo de Preparados de Insulina
- Beneficios de Combinarlos
- Conclusiones
Introducción
El manejo de la diabetes y otras condiciones relacionadas con el metabolismo de la insulina ha llevado a la creación de diversas soluciones farmacológicas. Entre ellas, el Fildena Extra Power ha emergido como un tratamiento potencial que, combinado con un ciclo de preparados de insulina, promete ofrecer beneficios significativos a quienes luchan con estas afecciones. En este artículo, exploraremos en profundidad ambos conceptos, así como la sinergia que pueden generar al ser utilizados conjuntamente.
¿Qué es Fildena Extra Power?
Fildena Extra Power es un medicamento conocido principalmente por su uso en el tratamiento de la disfunción eréctil, gracias a su componente activo, el sildenafil citrato. Sin embargo, estudios recientes han indicado que sus propiedades vasodilatadoras podrían hacer que este fármaco sea útil en el contexto del manejo de la insulina y la glucosa. La combinación de Fildena con un ciclo de insulina puede ofrecer un enfoque innovador para mejorar la sensibilidad a la insulina y facilitar el control del azúcar en sangre. Para más información detallada, puedes visitar el siguiente enlace: https://www.cqcinvestigations.co.uk/fildena-extra-power-un-ciclo-de-preparados-de-insulina/
Ciclo de Preparados de Insulina
Los preparados de insulina están diseñados para ayudar a regular los niveles de glucosa en la sangre. Existen diferentes tipos de insulina, que varían en su tiempo de acción y duración. Estos son algunos de los más comunes:
- Insulina de acción rápida: Comienza a actuar entre 15 a 30 minutos y tiene una duración de 3 a 6 horas.
- Insulina de acción corta: Actúa entre 30 minutos a 1 hora y dura de 6 a 8 horas.
- Insulina de acción intermedia: Comienza a actuar entre 1.5 y 4 horas y tiene una duración de 10 a 16 horas.
- Insulina de acción prolongada: Se libera lentamente y proporciona un efecto durante 24 horas o más.
El enfoque correcto en la aplicación de insulina puede ser crucial para quienes padecen diabetes tipo 1 o tipo 2, logrando mantener niveles de glucosa estables y evitando complicaciones a largo plazo.
Beneficios de Combinarlos
La combinación de Fildena Extra Power con un ciclo de insulina puede ofrecer varios beneficios, tales como:
- Mejora de la circulación: Fildena puede aumentar el flujo sanguíneo, lo que, combinado con insulina, podría potenciar la absorción de esta última.
- Reducción de la resistencia a la insulina: Se ha sugerido que los vasodilatadores pueden mejorar la sensibilidad a la insulina.
- Control más efectivo de los niveles de glucosa: Una mayor efectividad en el uso de insulina podría traducirse en mejores niveles de glucosa en sangre.
Conclusiones
La combinación de Fildena Extra Power con un ciclo de preparados de insulina presenta un enfoque prometedor para el manejo de la diabetes y el control del azúcar en sangre. Sin embargo, como con cualquier tratamiento, es fundamental que las personas consulten a un médico antes de iniciar cualquier tipo de terapia. Este artículo ha explorado tanto el potencial de Fildena como su interacción con la insulina, dejando abiertas las puertas para futuras investigaciones y aplicaciones clínicas.
-

امریکی صدر کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ، سیز فائر میں توسیع سے انکار
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کے قریب ہے۔فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کسی بھی طرح معاہدہ کرنا چاہتا ہے، مداخلت نہ کرتا تو اس وقت ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے، انہیں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔بعدازاں امریکی نشریاتی ادارے ’’اے بی سی‘‘ نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے بارے میں نہیں سوچ رہا، اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، آنے والے 2 دن انتہائی اہم اور غیر معمولی ہوں گے، ایران جنگ کا اختتام کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران سے معاہدہ زیادہ بہتر آپشن ہے، معاہدے کی صورت میں ایران کو دوبارہ تعمیر کا موقع ملے گا، ایران میں اب ایک مختلف نظام قائم ہو چکا ہے، انتہا پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہے اور وہ اب موجود نہیں، اگر میں صدر نہ ہوتا تو دنیا تباہی کا شکار ہو چکی ہوتی۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد امریکا کیلئے مؤثر ثابت نہیں ہوا، نیٹو نہ ماضی میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اگلے مذاکرات بھی پاکستان میں ہونے کا واضح اشارہ دے دیا۔نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں کہا کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں آئندہ 2 روز میں ہو سکتا ہے، امریکی میڈیا کو وہاں ہونا چاہیے، پاکستان کے فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں، وہ لاجواب ہیں، اس لئے زیادہ امکان ہے کہ ہم پاکستان چلے جائیں۔
-

ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ، ہر گھنٹے بعد بجلی بندش سے شہری اذیت میں مبتلا
لاہور: گرمی کی شدت بڑھنے سے قبل ہی بجلی بحران شدت اختیار کر گیا، ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ سے شہری بے حال ہوگئے، بجلی بندش سے پانی کا بحران بھی پیدا ہونے لگا۔ذرائع کے مطابق ملک بھر کی تمام ڈسکوز میں بجلی کی صورتحال ابتر ہوگئی، بجلی کا شارٹ فال 4500 میگاواٹ تک جا پہنچا جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔شہروں میں روزانہ 6 سے 8 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش سے شہری بلبلا اٹھے، دن بھر بجلی کی آنکھ مچولی سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا، جبکہ رات کے وقت میں گھنٹوں بندش سے شہری نیند سے بھی محروم ہوگئے۔لیسکو میں شارٹ فال 1 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگیا ہے، رات بھر لیسکو ریجن میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس سے وزارت پاور ڈویژن کا 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا دعویٰ بھی ہوا ہوگیا۔لاہور کے مختلف علاقوں میں ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند ہو رہی، دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔لیسکو ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں سولر کے باعث طلب میں کمی ہوتی ہے، شام ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے، لیسکو کو رات 1000 میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا، رات کے اوقات میں لیسکو کی طلب 2900 میگاواٹ تک پہنچ گئی، شہری علاقوں میں بجلی کے کم وولٹیج کی بھی شکایات موصول ہوئیں۔اس کے علاوہ ملتان اور جھنگ بھی غیر اعلانیہ اور طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ سے شہری پریشان نظر آ رہے ہیں۔ملتان کے شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں بارہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جانے لگی ہے، لائن لاسز والے فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید 2 گھنٹے اضافہ کر دیا گیا، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ملتان حکام کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 500 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ہے، میپکو کو ایک کروڑ 10 لاکھ صارفین کے لئے 2000 میگا واٹ بجلی درکار ہے، شارٹ فال بڑھنے کے باعث حکومت کے دیئے گئے شیڈول پر عملدرآمد کرنا مشکل ہے۔جھنگ میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے تجاوز کر گیا، ہر آدھا گھنٹہ بعد تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے کاروباری اور گھریلو صارفین پریشان ہیں۔دوسری جانب پشاور میں بھی گرمی کے آغاز کے ساتھ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔شہری علاقوں میں 15 سے 18 گھنٹے بجلی غائب ہے جبکہ نواحی علاقوں میں بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک جا پہنچا ہے جس کی وجہ سے شہری پریشان ہیں، بجلی لوڈشیڈنگ سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری بھر کم بل ادا کرنے کے باوجود بھی بجلی کا نام و نشان تک نہیں۔بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث لاہور سمیت دیگر شہروں میں پانی کا بحران بھی پیدا ہوگیا ہے۔دریں اثناء نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ذرائع کے مطابق آر ایل این جی ہائیڈرو اور آئل کی قلت کے باعث زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جان بوجھ کر لوڈشیڈنگ کا شیڈول نہ دینا غیر اعلانیہ بندش کا باعث بن رہا ہے۔ذرائع این ٹی ڈی سی کے مطابق 2 کے بجائے 6،6 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے اور یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
-

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے سرکاری دورہ سعودی عرب کیلئے روانہ
اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے سرکاری دورہ سعودی عرب کیلئے روانہ ہو گئے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سنیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔سعودی عرب و قطر کے دوطرفہ دوروں میں وزیراعظم دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال بھی کیا جائے گا۔وزیر اعظم پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے لیے ترکیہ کا بھی دورہ کریں گے، فورم کے دوران وزیر اعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ فورم میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے “لیڈرز پینل” میں شرکت کریں گے۔علاوہ ازیں، فورم کے موقع پر وزیراعظم کی صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔
