گوجرانوالہ:پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کی مبینہ غفلت سے دورانِ زچگی نومولودبچی اورماں دونوں جاں بحق ہوگئے۔اہل خانہ کے مطابق وفا محبوب کو زچگی کے لیے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال لایا گیا، معمول کا چیک اپ کروا رہے تھے، ڈاکٹروں نے خون کی کمی کا کہہ کر دو بوتلیں خون بھی لیا لیکن لگایا ہی نہیں۔اہل خانہ سے الزام عائد کیا کہ زچگی کے تھوڑی دیر بعد نولومود بچی جاں بحق ہو گئے جب کہ تھوڑی دیر بعد ماں بھی چل بسی جب کے حالت بگڑنے پر سینئر ڈاکٹرز غائب تھے۔دوسری جانب وفا محبوب گرجاکھ کی رہائشی تھی جس کے اہل خانہ نے سول ہسپتال میں احتجاج کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر امتیاز رانا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے مریضہ کے متعلق پیچیدگیاں بتائیں تھیں اورخون کی کمی بارے آگاہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ چارڈاکٹرز پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنا دی گئی جس کی غفلت ہو گی اِس کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
Blog
-

اسرائیل میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، مظاہرین کا امن کا مطالبہ
تل ابیب: اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی۔ مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے۔احتجاج میں شریک افراد نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ جنوبی لبنان پر قبضہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا اور جب تک امن قائم نہیں ہوتا، اسرائیل میں حقیقی سلامتی ممکن نہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری طور پر جنگی پالیسی ختم کرنے اور سفارتی حل اپنانے کا مطالبہ کیا۔رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس بار احتجاج ملک کے دیگر شہروں جیسے یروشلم، حیفہ اور بئر سبع تک بھی پھیل گیا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، اس لیے حکومت کو فوری طور پر امن مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔
-

رینجرز اور سی سی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کا مطلوب دہشتگرد گرفتار
کراچی: کراچی کے سائٹ ایریا میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سےتعلق رکھنےوالے مطلوب دہشتگرد نورعالم عرف وفادار کوگرفتار کر لیا۔ترجمان رینجرز کے مطابق دہشتگرد کے قبضے سے اسلحہ، ایمونیشن اور بارودی مواد برآمد کر لیا گیا، گرفتاردہشتگرد 2014 میں مفتی نور ولی گروہ میں شامل ہوا تھا جبکہ دہشتگرد جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی ملوث رہا۔انہون نے بتایا کہ ملزمان پر 2021 میں لیویز چیک پوسٹ مکین پر حملے میں ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے، حملے میں دہشتگرد کے دو ساتھی ہلاک جبکہ 6 اہلکار اغواء کیے گئے تھے، دہشتگرد آئی ای ڈیز نصب کرنے، دھماکوں میں بھی ملوث رہا علاوہ ازیں آپریشن کے بعد افغانستان فرار ہو گیا جس کے بعد دہشتگردی نیٹ ورک سے بھی منسلک رہا۔ترجمان رینجرز کے مطابق ملزم کمانڈر بلال عرف طوفان کی ہدایات پر دہشتگردی سرگرمیوں میں شامل رہا، دہشتگرد کراچی میں روپوش ہو کر نیٹ ورک منظم کر رہا تھا تاہم ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشتگرد سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے۔
-

ایران کے خلاف اسرائیل کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی: نیتن یاہو
تل ابیب: اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کی ’منظوری‘ دی ہے تاہم اسی پیغام میں انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ابھی ختم نہیں ہوئی اور کہا کہ ہم اب بھی ان سے لڑ رہے ہیں۔بنیامین نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب امریکا اور ایران پاکستان کی ثالثی کے تحت امن مذاکرات میں مصروف ہیں۔نیتن یاہو نے اسرائیل کی فوجی مہم میں حاصل کی گئی متعدد کامیابیوں کی فہرست بھی پیش کی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں، ایران میں اب بھی جوہری پروگرام کے لیے افزودہ مواد موجود ہے، اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، اسے ہٹانا ضروری ہے، یا تو یہ معاہدے کے ذریعے ہٹایا جائے گا یا پھر کسی اور طریقے سے ہٹایا جائے گا۔
-

جوہری معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وفد کی اسلام آباد میں ایرانی وفد کیساتھ ملاقات اچھی رہی، بیشترنکات پراتفاق ہوگیا مگر جوہری معاملے پراتفاق نہ ہوسکا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اسلام آباد مذاکرات کے حوالے جاری پیغام میں کہا کہ امریکی نمائندے مذاکرات میں ایرانی قیادت سے خوشگوار اور باوقار تعلقات قائم کر چکے تھے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ سب سے اہم مسئلے پر سخت مؤقف پر قائم رہے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے ، ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، کئی حوالوں سے طے پانے والے نکات فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں برسوں سے کہہ رہا ہوں ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر غیر مستحکم اور غیر متوقع افرادکے پاس جوہری طاقت آجائے تو مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں،سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکی نیوی فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی، جو بھی ہمارے جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کریں گے، ہم آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کریں گے، ناکہ بندی ہوگی اور دوسرے ممالک بھی اس میں شامل ہونگے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اپنی نیوی کو کہا ہے ایران کوٹول دینے والے جہازوں کو تلاش کریں، جو بھی ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں ملے گا، ہمیں لگا تھا آبنائے ہرمز پر جہازوں کو آزادانہ آنے جانے کی اجازت ہوگی مگر ایران نے ایسا ہونے نہیں دیا۔امریکی صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف غیر معمولی شخصیات ہیں ، فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی پر بارہا میرا شکریہ ادا کیا، میں یہ سن کر ہمیشہ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی قدر کرتا ہوں، انسانیت کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں وہ ناقابلِ بیان ہیں۔
-

ایرانی وفد اسلام آباد مذاکرات کے بعد تہران روانہ، اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل نے الوداع کیا
اسلام آباد: ایران کا وفد اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے بعد تہران واپس روانہ ہو گیا۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ،فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کو الوداع کہا۔ایرانی وفد میں مجلس شوری کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔واضح رہے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی۔واضح رہے مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے لیکن کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد نے بھی بغیر ڈیل کے واپس امریکہ کا رخ کیا، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔
-

ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں کرنی چاہئے، متعدد نکات پر اتفاق ہوا: ایران
اسلام آباد: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔ایکس پر جاری پیغام میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی توقع نہیں تھی، ایک اور نکتہ مسائل اور حالات کی پیچیدگی تھی، کچھ نئے موضوعات بھی ان مذاکرات میں شامل کیے گئے، ہم سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن اسلام آباد میں ایران کے وفد کیلئے مصروف اور طویل رہا، صبح سے پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور ثالثی کے تحت شروع ہونے والے سخت مذاکرات اب تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں، اس دوران فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور تحریری مسودوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری معاملات، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم معاملات پر اخلتاف رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا، ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی نشست میں مذاکرات کی کامیابی کی توقع نہیں کی جانی چاہئے، اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دار و مدار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور اس کے گرم جوش اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں۔
-

امید ہے امریکا، ایران امن کیلئے بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات ہوئے، امید ہے دونوں فریق بات چیت کا عمل اور جنگ بندی جاری رکھیں گے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے، دونوں ملکوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ضروری ہے دونوں ملک جنگ بندی جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہیں، مذاکراتی عمل میں شریک ایران اور امریکا کے وفود کا شکر گزار ہوں، پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں پاکستان آیا، سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے مذاکرات میں شرکت کی، دونوں فریقوں کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، میں نے بطور نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں، امید ہے کہ امریکہ اور ایران امن کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے۔
-

ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے: جے ڈی وینس، امریکی وفد واپس روانہ
اسلام آباد: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے، لیکن کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے، بغیر کسی ڈیل کے امریکا جا رہے ہیں۔نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری ہیں، جن میں مختلف امور پر بات چیت ہو رہی ہے، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں، ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔جے ڈی وینس نے کہا کہ کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں، ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا، بعدازاں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہوگئے۔قبل ازیں ایرانی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات 14 گھنٹے بعد مکمل ہوگئے، فریقین کے تکنیکی ماہرین اس وقت تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہے ہیں، بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ایران نے مذاکرات آج بھی جاری رکھنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی تجویز اور مذاکراتی ٹیموں کے اتفاق کرنے پر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات وقفے کے بعد اتوار کو بھی جاری رہیں گے۔
-

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا: ایران
تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے نظام کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی مفادات کے تحت اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول اور مؤثر مینجمنٹ قائم کرے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہو جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جس سے تیل کی پیداوار میں بتدریج بہتری آنے کی امید ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی نئی پالیسی یا پابندی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
