اسلام آ باد- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے26ویں آئینی تر میم کے بل کی منظوری سے پارلیمانی تاریخ کاا یک نیا باب رقم ہوا ہےلوگوں کے ذہن میں اس تر میم کی منظوری کے بارے میں ایک سوال ابھرا ہے کہ ا س سارے عمل میں کس نے کیا کھویاکیا پایا؟ اس کی منظوری سے پارلیمنٹ نے اپنا وہ اختیار اور وقار دو بارہ حاصل کرلیا ہے جو اس نے ماضی کے ایک چیف جسٹس کے دباؤ کے تحت 19ویں تر میم کے تحت کھو دیاتھا۔ یہ میثاق جمہو ریت کے ایجنڈے کی تکمیل ہےگویا یہ تر میم پارلیمنٹ کی بطور ادارہ کا میابی ہےججز کی تقرری میں اب پارلیمنٹ کااختیار پوسٹ آفس کا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہو گا۔ ججز کی تقرری میں اب پارلیمنٹ کااختیار پوسٹ آفس کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہو گا، فضل الرحمان کو قائل کرنے میں بلاول کی کا میاب شٹل ڈپلومیسی، جے یو آئی کی اہمیت اسٹریٹجک بن گئی شہباز شریف نے سیا سی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کیا ، کئی تبدیلیوں کو تسلیم کرلیا، پی ٹی آئی کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت اور تحفظات کے ازالے کےبا وجود ترمیم کی مخا لفت نا قابل فہم ہے
26ویں آئینی ترمیم کی منظوری- کس نے کیا کھویا کیا پایا؟

Leave a Reply