پشاور میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی با اختیار ہے لیکن اہم فیصلے عمران خان نے کرنے ہیں۔ اسد قیصر نےکہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنا سب سے اہم مطالبہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ملاقات کے لیے ایک ایسا مناسب ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جس میں مشاورت اور بات چیت کی جا سکے۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کسی بھی فیصلے کے حوالے سے مکمل اختیار رکھتی ہے، تاہم حتمی فیصلے عمران خان کے مشورے اور رہنمائی کے مطابق کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کے بغیر کسی بھی نوعیت کی بات چیت بے معنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات کا عمل جاری ہے لیکن تمام فیصلے عمران خان کی رہنمائی کے تحت ہوں گے۔
اسد قیصر نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کا بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق مخصوص نشستوں اور سینیٹ الیکشن کے مطالبات بھی پی ٹی آئی کے اہم ایجنڈے کا حصہ ہیں اور پارٹی اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھائے گی۔
اس کے علاوہ، اسد قیصر نے ملٹری کورٹس کے فیصلے کے خلاف ہر فورم پر اپیل کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مذاکراتی کمیٹی کو مکمل اختیار دیا گیا ہے لیکن تمام فیصلے عمران خان کی مشاورت سے ہی کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہو چکا ہے، اور مذاکرات کی اگلی بیٹھک 2 جنوری 2025 کو متوقع ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بیرسٹر علی ظفر نے یہ بیان دیا تھا کہ پی ٹی آئی کی کمیٹی کو فیصلے کرنے کا اختیار نہیں بلکہ یہ کمیٹی صرف بات چیت کر سکتی ہے اور تمام حتمی فیصلے عمران خان ہی کریں گے۔

Leave a Reply