پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر حکومت نے تمام فریقین کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے نیا آرڈیننس لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایوان صدر، ایوان وزیرِ اعظم اور وزارت قانون میں مشاورت کا عمل جاری ہے، جس میں جے یو آئی ف کے قانونی مشیر سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شریک ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد صدرِ مملکت دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے آرڈیننس جاری کریں گے۔ اس آرڈیننس کی تجویز وزیرِ اعظم کی مولانا فضل الرحمٰن اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقاتوں میں سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آرڈیننس میں جے یو آئی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے تاکہ ایک متفقہ حل تک پہنچا جا سکے۔
نئے آرڈیننس میں مدارس کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ڈائریکٹریٹ جنرل مذہبی تعلیم اور سوسائٹی رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ کے تحت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دینی مدارس کو باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ اور محفوظ کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد دینی مدارس کی فعالیت کو قانون کے دائرے میں لاتے ہوئے ان کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔

Leave a Reply