خیبر پختونخوا میں رواں سال دہشت گردی کے 670 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ واقعات ڈی آئی خان، بنوں اور خیبر میں پیش آئے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق، ڈی آئی خان میں 121، بنوں میں 116 اور خیبر میں 80 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے۔ ان کارروائیوں کے دوران 212 شدت پسند مارے گئے، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ڈی آئی خان میں ہوئیں جہاں 80 شدت پسندوں کا خاتمہ کیا گیا۔ بنوں میں 41 اور خیبر میں 23 شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی نے شمالی وزیرستان میں 19 شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔ تاہم، ان کارروائیوں کے دوران 204 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید جبکہ 383 اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، دہشت گردوں کے حملوں میں 174 عام شہری بھی شہید اور 275 زخمی ہوئے۔ اس رپورٹ سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال کی شدت اور اس کے اثرات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، جو کہ مقامی عوام اور سکیورٹی فورسز کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

Leave a Reply