وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے سلسلے میں ضروری صلاح مشورے مکمل کرلیے ہیں، اور توقع ہے کہ ان فیصلوں پر آئندہ ماہ عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ قابل اعتماد حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف سے مشاورت مکمل کی ہے اور حکومت کی حلیف جماعتوں کی قیادت کو بھی اس بارے میں اعتماد میں لیا ہے۔
کابینہ میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری، ڈاکٹر سید توقیر شاہ کی شمولیت متوقع ہے۔ ڈاکٹر توقیر شاہ اس وقت عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں، اور وزیراعظم نے انہیں وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی، جسے انہوں نے قبول کرلیا ہے۔ ڈاکٹر توقیر شاہ کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا جائے گا اور وہ کابینہ میں مکمل وزیر کے درجے پر فائز ہوں گے۔
فی الحال، وفاقی کابینہ 18 ارکان پر مشتمل ہے، اور حکومت کے قلم دانوں کی مجموعی تعداد 33 ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں اہم قلمدانوں میں زیادہ ردوبدل کی توقع نہیں، لیکن چار سے پانچ وزرائے مملکت کو نئی ذمہ داریاں سونپنے کا امکان ہے۔ ان ارکان میں بیرسٹر عقیل ملک، سینیٹر طلال بدر چوہدری، اقلیتی سینیٹر خلیل طاہر سندھو، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، اور حنیف عباسی شامل ہیں۔
یہ توسیع اور ردوبدل گزشتہ مارچ میں موجودہ مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وفاقی کابینہ میں کی جانے والی پہلی بڑی تبدیلی ہوگی۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کی ہدایت پر وفاقی کابینہ کے ارکان کی کارکردگی اور کابینہ کی مجموعی استعداد کا باقاعدہ جائزہ لینے کا نظام بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ایوان وزیراعظم سہ ماہی بنیادوں پر کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور مختلف حکومتی امور کو مزید مؤثر طریقے سے چلانا ہے۔

Leave a Reply