پاکستان بزنس فورم نے وفاقی حکومت سے ایف بی آر کی تنظیم نو اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت کو ٹیکس فائلنگ کو سادہ اور آسان بنانے کے لیے ایک نیا، سادہ ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نئے ٹیکس قوانین بل پاس کرنے سے قبل ٹیکس فائل کرنے میں آسانی پیدا کرنا ضروری ہے، کیونکہ نان فائلر کیٹگری حکومت کی اپنی تخلیق ہے۔
پاکستان بزنس فورم کے نائب صدر احمد جواد نے کہا کہ فورم نے حکومت کو ٹیکس ریٹرن بھرنے کا آسان ڈرافٹ بھیجا ہے، کیونکہ ٹیکس فائلرز میں کمی کا ایک بڑا سبب پیچیدہ ٹیکس فائلنگ سسٹم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 سالہ “اڑان پاکستان” پروگرام میں ٹیکس اصلاحات اور روپے کی مضبوطی کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس حکام کو مجوزہ نئے ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے وسیع اختیارات دینا عوام میں مزید بے چینی پیدا کرے گا۔
پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے درخواست کی کہ نئے مجوزہ ٹیکس بل کو آئین پاکستان کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے تاکہ اس کے اثرات پر غور کیا جا سکے۔ احمد جواد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر ملک میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنی ہے تو چارٹر آف اکانومی سمیت مختلف اہم شعبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جی ڈی پی کو 8 فیصد تک پہنچانے کے لیے زراعت کے شعبے کا حصہ 5 فیصد تک پہنچانا ضروری ہے۔
یہ تمام مطالبات پاکستان بزنس فورم کی جانب سے ملک میں ٹیکس سسٹم کی بہتری اور معاشی ترقی کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر زور دینے کا حصہ ہیں۔

Leave a Reply