روس نے یوکرین کے راستے یورپ کو قدرتی گیس کی سپلائی معطل کر دی ہے، جس کی وجہ یوکرین کا 5 سالہ ٹرانزٹ معاہدے کی تجدید سے انکار ہے۔ اس معاہدے کی مدت یکم جنوری 2025 کو ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد یوکرین نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ اس معاہدے کو دوبارہ نہیں کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی تنازعہ کے باعث اس فیصلے کو مناسب سمجھا گیا۔
یوکرین کے وزیر توانائی، جرمن گالوشچینکو نے اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس کی گیس کی ترسیل روک دی گئی ہے، اور یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کیونکہ روس اپنی گیس کی منڈیاں کھو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے نتیجے میں روس کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ یورپ پہلے ہی روسی گیس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
روس کی توانائی کمپنی Gazprom نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین کے ساتھ معاہدے کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے وہ یورپ کو گیس فراہم کرنے سے قاصر ہو چکا ہے۔ روس کی گیس کے ذریعے مختلف یورپی ممالک جیسے سلواکیا، ہنگری اور مالدووا کو قدرتی گیس فراہم کی جاتی تھی۔
سلواکیا کے وزیرِاعظم رابرٹ فیکو نے کہا کہ اگر گیس کی سپلائی روک دی جاتی ہے تو ان کی حکومت یوکرین کے خلاف جوابی اقدامات کرے گی، جیسے کہ بجلی کی سپلائی روکنا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ممالک اس فیصلے سے متاثر ہوں گے، لیکن روس پر اس کا کم اثر پڑے گا۔
مالدووا میں صورتحال زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ ملک یوکرین سے متصل ہے اور گیس کی سپلائی معطل ہونے سے پہلے ہی اس نے 60 دنوں کی ایمرجنسی حالت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، روس ابھی بھی بحیرہ اسود کے راستے گیس کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر ہنگری کو جو زیادہ تر گیس بحیرہ اسود کی پائپ لائن کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔
اس معاہدے کے خاتمے کے بعد، یورپ کو روسی گیس کی فراہمی میں مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپ نے روس کی گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یوکرین کے فیصلے نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عالمی توانائی کی سیاست میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور روس کی گیس کی مارکیٹ میں کمی کا سامنا ہو رہا ہے۔

Leave a Reply