پاکستان کے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024-25 کے دوران اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 10.6 فیصد کے طے شدہ ہدف سے تجاوز کر کے 10.8 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ اس کامیابی کے باوجود ایف بی آر نے پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں 5624 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا، جو کہ 6009 ارب روپے کے ہدف سے 385 ارب روپے کم ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔
اس اضافے کے باوجود، ایف بی آر نے اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کے ہدف کو 0.2 فیصد جی ڈی پی کے معمولی فرق سے عبور کیا، جو ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ بنیاد پر ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.6 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم پہلی ششماہی میں یہ تناسب 31 دسمبر 2024 تک 10.8 فیصد تک بڑھ گیا۔
دی نیوز کو بدھ کے روز شیئر کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر کی مدت میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9.5 فیصد رہا، جو طے شدہ ہدف سے کم تھا۔ اس کے بعد، ایف بی آر نے دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.57 فیصد کے قریب رہنے کی توقع ظاہر کی ہے، جو ٹیکس وصولی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ایف بی آر کی یہ کارکردگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے، حالانکہ مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

Leave a Reply