Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
سندھ کو وفاقی اداروں سے پانی کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

سندھ کو وفاقی اداروں سے پانی کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ

سندھ حکومت نے وفاقی اداروں سے پانی کے چارجز کی مد میں 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا اور اس بات کی ہدایت کی کہ سندھ کے واجبات وصول کرنے کے لیے وفاقی اداروں کو خطوط لکھے جائیں۔ سندھ اسمبلی کے اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ وفاقی ادارے سندھ کو پانی فراہم کرنے کے باوجود، ان کے واجبات ادا نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

پی اے سی نے سندھ کے مختلف وفاقی اداروں پر 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلدیات اور واٹر بورڈ کے سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو خط لکھیں اور ان سے واجبات وصول کرنے کی کوشش کریں۔ پی اے سی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ 21 جنوری کو اجلاس بلایا جائے گا جس میں وفاقی اداروں کے متعلقہ حکام کو طلب کیا جائے گا تاکہ وہ سندھ کے پانی کے واجبات کے حوالے سے جوابدہ ہوں۔ اس اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز، سوئی سدرن گیس، پی ایس او، کے پی ٹی، پاکستان ریلوے، پی آئی اے، نیشنل شپنگ کارپوریشن، پورٹ قاسم اتھارٹی، میرین فشریز، کنٹونمنٹ بورڈز، کراچی شپ یارڈ، پاکستان مشین ٹول فیکٹری اور کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن جیسے ادارے شامل ہیں۔

نثار کھوڑو، جو کہ سندھ اسمبلی کے رکن ہیں، نے اس بات کا انکشاف کیا کہ سندھ کے 20 ارب روپے کے واجبات میں سے 10 ارب روپے صرف پاکستان اسٹیل ملز پر واجب الادا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ نے ان وفاقی اداروں کو پانی کی سہولت فراہم کی ہے، لیکن ان اداروں نے سندھ کو اپنے واجبات کی ادائیگی نہیں کی۔ اس صورتحال کو غیر منصفانہ اور سندھ کے ساتھ زیادتی قرار دیتے ہوئے نثار کھوڑو نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور سندھ کو اس کا حق دلوائے۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی ادارے سندھ کے واجبات ادا نہیں کرتے تو اس سے نہ صرف سندھ کی مالی حالت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اس سے وفاقی اداروں کی بددیانتی اور عدم ذمہ داری کا بھی اظہار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ مسئلہ فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ سندھ کی مالی حالت بہتر ہو سکے اور عوام کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ مسئلہ سندھ اور وفاق کے درمیان جاری مالی تعلقات اور صوبے کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم سوال بھی ہے، جس کا حل وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *