یونان میں ہونے والے کشتی حادثے میں ملوث اہم ملزم سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر کے مطابق، ان ملزمان میں وزارت داخلہ کی ریڈ بک میں شامل انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر عمران عرف مانی بھی شامل ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، انسانی اسمگلر عمران عرف مانی نے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کو لیبیا بھجوایا تھا، جن سے اس نے فی کس 24 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ حادثے کے بعد مانی روپوش ہو گیا تھا لیکن اب اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ عمران عرف مانی سمیت 4 ملزمان کو گجرات اور گوجرانوالہ سے، اور 6 دیگر ملزمان کو سرگودھا، فیصل آباد اور اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان 2023 میں ہونے والے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ہیں اور انہوں نے اس حادثے کے 9 متاثرین سے 5 کروڑ 16 لاکھ روپے ہتھائے تھے۔
واضح رہے کہ 13 اور 14 دسمبر 2024 کی درمیانی شب یونان کے جزیرے کریٹ پر ہونے والے کشتی کے حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا۔ کشتی لیبیا کے علاقے تبروک سے یونان جا رہی تھی۔ اس حادثے میں 9 پاکستانیوں کی لاشیں اب تک مل چکی ہیں جبکہ دیگر لاپتہ افراد کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔

Leave a Reply