وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حکم پر شروع ہوئے ہیں اور اس بات کا فیصلہ عمران خان ہی کریں گے کہ یہ مذاکرات کیسے آگے بڑھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تو اس کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، اور وہ خود بیک ڈور مذاکرات کے بجائے کھلی کتاب کی طرح جمہوری طریقے سے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ روز پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، جس کے دوران پی ٹی آئی نے اپنے تحریری مطالبات پر مزید مشاورت کے لیے عمران خان سے وقت مانگا ہے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، اور وہ اس بات کے حامی ہیں کہ معاملات کو جمہوری طریقے سے اور باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے 9 مئی کے ملزمان کی رہائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور حقیقی آزادی کے لیے شہادتیں دی ہیں۔
کرم کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کرم میں ہونے والے واقعات کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ یہ گزشتہ 50 سالوں سے چل رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

Leave a Reply