وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لوئر کرم کے علاقے بگن میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی، اور یہ واقعہ کرم میں جاری امن کے عمل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود بگن جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی، جس میں وہ اور تین ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے۔ ندیم اسلم چوہدری نے فریقین سے اپیل کی کہ وہ پُرامن رہیں اور کوہاٹ معاہدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرم میں امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ زخمی ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کرم جانے والے پہلے قافلے کو روک دیا گیا ہے اور صورتحال کا جائزہ لے کر قافلے کی روانگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند روز قبل ہی کرم تنازعہ پر فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا، اور اس کے تحت ٹل پارہ چنار شاہراہ کو تین ماہ بعد کھولا جانا تھا۔ فائرنگ کا یہ واقعہ امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا حصہ نظر آ رہا ہے، جسے حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Leave a Reply