پاکستان کے سہیل عدنان نے برٹش جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس سے نہ صرف انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ اس ایونٹ میں 18 برس کے بعد پاکستان کا علم بلند کیا۔ سہیل عدنان نے انڈر 13 کیٹیگری کے فائنل میں مصر کے ٹاپ سیڈ پلیئر معیز تعمیر المغازی کو 5 گیمز میں شاندار مقابلہ کر کے شکست دی۔
اس مقابلے میں سہیل عدنان ایک موقع پر 2-1 کے خسارے میں تھے، مگر انہوں نے مضبوط اعصاب اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت کی راہ اختیار کی۔ فائنل کا اسکور 5-11، 11-5، 11-6، 7-11 اور 5-11 رہا، جس کے بعد وہ چیمپئن بن گئے۔
سہیل عدنان کی یہ جیت پاکستان کے اسکواش کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی ہے کیونکہ یہ 18 برس بعد پہلی بار تھا کہ کسی پاکستانی کھلاڑی نے برٹش جونیئر اوپن انڈر 13 کا ٹائٹل جیتا۔ اس سے پہلے 2007 میں ناصر اقبال نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے سہیل عدنان کی اس شاندار کامیابی پر انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے چیمپئن شپ جیت کر پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ سہیل کی جیت پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس نے سبز ہلالی پرچم کو فخر سے بلند کیا ہے۔
یہ کامیابی پاکستانی کھیلوں کے لیے نہایت اہم ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک تحریک کا باعث بنے گی۔ سہیل عدنان کی محنت اور عزم نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی اسکواش کی دنیا میں ایک نئی شناخت قائم کی ہے۔

Leave a Reply