کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مستعفی ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کی اطلاع کینیڈین اخبار “دی گلوب اینڈ میل” نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹروڈو کے مستعفی ہونے کا فیصلہ ابھی تک حتمی نہیں ہے، مگر انہیں پارٹی اور عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ بدھ کے روز ہونے والی کاکس میٹنگ سے قبل اپنے استعفیٰ کا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اپنے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیں گے یا لبرل پارٹی کی قیادت سے۔
جسٹن ٹروڈو 2015 سے کینیڈا کے وزیراعظم ہیں اور 9 سال سے لبرل پارٹی کے رہنما ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے کئی اہم فیصلے کیے اور کینیڈا کو عالمی سطح پر ایک معتدل اور متنوع ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم حالیہ برسوں میں ان کی قیادت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، اور اب پارٹی کے اندر بھی ان کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ ایک اہم وجہ لبرل پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہے، جو حالیہ سروے پولز میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔
مزید برآں، کینیڈا میں اکتوبر کے آخر تک عام انتخابات ہونے والے ہیں، اور سروے پولز کے مطابق لبرل پارٹی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، جس کا اثر ٹروڈو کی قیادت پر پڑ سکتا ہے۔ ان حالات میں ان کے استعفیٰ کا فیصلہ سیاسی طور پر اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ اپنی قیادت سے کن مسائل کو حل کرنے کے لیے مستعفی ہوتے ہیں۔
کینیڈا کی سیاست میں یہ تبدیلی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کا اثر نہ صرف لبرل پارٹی پر بلکہ ملک کے آئندہ انتخابات پر بھی پڑے گا۔

Leave a Reply