چین کے علاقے تبت میں 6.8 شدت کا زلزلہ آیا جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ یہ زلزلہ چین کے ٹنگری کاؤنٹی میں واقع تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر بتائی جارہی ہے۔ زلزلے کے بعد اب تک 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جاچکی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ زلزلے نے کئی عمارتوں کو زمین بوس کردیا، جس سے شہریوں کو شدید نقصان پہنچا۔ چینی حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق، یہ زلزلہ پانچ سال کے دوران تبت میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔
زلزلہ تبت کے علاوہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو اور بھارت کے شمالی علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ کھٹمنڈو میں زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی، جس سے شہر میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ نیپال میں بھی کئی علاقوں میں آفٹر شاکس محسوس ہوئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بھارت کے ریاست بہار میں بھی زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی، جہاں عمارتیں کچھ سیکنڈز تک لرزتی رہیں۔
چین، نیپال اور بھارت کے حکام نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور متاثرین کو خوراک، پانی، اور طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ تبت کے علاقے میں موسم کی شدت اور پہاڑی علاقے ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے، تاہم حکام نے کہا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد مدد فراہم کی جا سکے۔

Leave a Reply