Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش: حقیقت یا قیاس آرائیاں؟ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش: حقیقت یا قیاس آرائیاں؟

اسلام آباد: عمران خان کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، لیکن ابھی تک اس پیشکش کی حقیقت واضح نہیں ہو سکی۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ پیشکش نہ تو حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رسمی مذاکرات میں ہوئی اور نہ ہی بیک چینل رابطوں میں اس پر بات کی گئی۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ سال نومبر میں بیک چینل مذاکرات کے دوران تحریک انصاف نے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے اسے قبول نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے عمران خان کو راولپنڈی جیل سے خیبرپختونخوا منتقل کرنے کا خواہش ظاہر کی تھی، تاہم اس پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ علی امین گنڈا پور نے اس معاملے پر تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا مطالبہ نہیں کیا۔

حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی کہ عمران خان نے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں ایک ڈیل کی پیشکش کی گئی تھی جس کے تحت انہیں بنی گالہ منتقل کیا جائے گا تاکہ وہ جیل کا بقیہ وقت اپنے گھر میں گزار سکیں۔ عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اس حوالے سے صحافیوں کو بتایا کہ عمران خان نے یہ پیشکش منظور کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ تب تک کہیں نہیں جائیں گے جب تک کہ بغیر مقدمہ گرفتار افراد کو رہا نہیں کیا جاتا۔

اس پیشکش کے بارے میں تحریک انصاف کے کسی رہنما نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک اہم رکن نے بھی اس پیشکش کے دعووں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پیشکش کسی بھی رسمی یا غیر رسمی مذاکرات میں نہیں کی گئی۔

عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقلی کے حوالے سے مختلف رائے ہیں، اور اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کچھ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان 2029 تک موجودہ نظام کے تسلسل کو قبول کرتے ہیں اور اپنی سیاست کو آ گے بڑھانے سے گریز کرتے ہیں، تو پی ٹی آئی کو ایسی پیشکش کی جا سکتی ہے۔ تاہم سینیٹر عرفان صدیقی نے اس بات کو مسترد کیا اور کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اس قسم کے کسی آپشن پر بات نہیں کی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *