پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شام میں وحدت اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے نمائندہ طرز حکمرانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ شام اس وقت اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے اور حالیہ سیاسی پیشرفتوں نے استحکام اور امن کے لیے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ شام میں ایک نئے حکومتی ڈھانچے کی پرامن منتقلی کو کس طرح یقینی بنایا جاتا ہے۔
منیراکرم نے مزید کہا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی شام کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے شام میں عبوری حکومت کے رہنماؤں اور نمائندوں کے مثبت بیانات اور یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا، لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان بیانات کو عملی طور پر نافذ کرنا اور پالیسیوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ، منیراکرم نے یہ بھی واضح کیا کہ شام میں نئی حکومت کو اقوام متحدہ کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہاں کی سیاسی صورتحال مستحکم ہو سکے۔ گزشتہ ماہ شام میں اپوزیشن فورسز نے بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے نتیجے میں سابق صدر بشار الاسد اپنے خاندان کے ساتھ روس فرار ہو گئے تھے اور انہوں نے وہاں سیاسی پناہ لے لی تھی۔ اس کے بعد شام کے عبوری رہنما احمد الشرع نے کہا تھا کہ ملک میں انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ شام کی صورتحال میں پرامن تبدیلی کے لیے عالمی سطح پر مکمل تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply