امریکی شہر لاس اینجلس میں حالیہ دنوں میں لگنے والی جنگلات کی آگ نے نہ صرف شہر کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ اس آتشزدگی کو امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آفت قرار دے دیا گیا ہے۔ فائر حکام کے مطابق اس آگ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس سے ہونے والے نقصانات کی مالیت تقریباً 150 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس آتشزدگی کے نتیجے میں 6 ہزار سے زائد گھر اور عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ 4 سے 5 ہزار مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ آگ کے باعث انشورنس انڈسٹری کو بھی تقریباً 8 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ اس وقت آگ 36 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، اور پانچ مختلف مقامات پر لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔
لاس اینجلس میں اس خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو چکی ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ آگ کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر آسٹریلین حکام نے لاس اینجلس کے حکام کو مدد کی پیشکش کی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اس سانحے پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لاس اینجلس میں اس آتشزدگی سے ہونے والے نقصان کے اخراجات کا 100 فیصد حکومت اٹھائے گی اور یہ امداد 6 ماہ تک جاری رہے گی۔
لاس اینجلس کی اس خوفناک آتشزدگی نے نہ صرف علاقے کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ شہر کے رہائشیوں کے لیے بھی یہ ایک شدید اور دل دہلا دینے والا تجربہ بن چکا ہے۔

Leave a Reply