ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے تمام قبائل کے مشران پر مشتمل جرگہ بلانے کی تجویز دی ہے۔قبائلی مشران سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی مسائل کو حل کرنے کے لیے رمضان المبارک سے پہلے دوسرا جرگہ بلایا جائے، جس میں تمام قبائل اور مکاتب فکر کے لوگ شامل ہوں۔ انہوں نے اسلحے کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کا اتفاق ہے کہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی مشران اور عوام کی رائے لے کر امن کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا گیا تو وہ حکومت سمیت تمام متعلقہ حلقوں سے بات کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے قبائلی نوجوانوں کے بدلتے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے قبائل میں ہتھیار اٹھانے کا رجحان نہیں تھا، مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ قبائلی مشران سے ملاقاتیں کریں اور مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کریں۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ 2012ء سے ایک مستقل قبائلی جرگہ موجود ہے جس میں تمام مذاہب، مسالک، اور سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں، اور یہ جرگہ مقامی مسائل کے حل کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ مولانا نے یقین دہانی کرائی کہ وہ قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی خیبرپختونخوا میں قیامِ امن کیلئے کردار کی پیشکش

Leave a Reply