Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
وزیرِ اعظم کی گوادر پورٹ کو تجارتی بنیادوں پر فعال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

وزیرِ اعظم کی گوادر پورٹ کو تجارتی بنیادوں پر فعال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت

اسلام آباد: وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے گوادر پورٹ کو تجارتی بنیادوں پر فعال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں گوادر پورٹ کی فعالیت کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کردی۔ یہ کمیٹی گوادر پورٹ کو جدید اور مکمل فعال بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے گوادر پورٹ کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی بھی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کی مارکیٹنگ اور آگاہی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے اور اس کے حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ وزیرِ اعظم نے گوادر پورٹ کے ذریعے ہونے والی درآمدات و برآمدات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر پورٹ 50,000 ڈیڈ ویٹ ٹن تک وزن رکھنے والے بحری جہازوں کو خلیج فارس اور خلیجی ممالک کے ساتھ منتقلی کے لیے کم لاگت اور بروقت رسائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ گوادر پورٹ معدنیات اور آبی زراعت کے شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ اس سے چین کے مغربی علاقوں اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گوادر فری زون کو تمام وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور اس کے لیے ضوابط بھی مرتب کر لیے گئے ہیں۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ 2018 سے 2022 تک گوادر پورٹ کی کھدائی میں غفلت برتی گئی، جس کی وجہ سے پورٹ کی گہرائی پر منفی اثرات پڑے، تاہم 2022-23 میں اس کی کھدائی مکمل کر لی گئی ہے جس سے پورٹ کی گہرائی بحال ہو گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ گوادر پورٹ پر تمام سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں۔ اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ گوادر میں متعدد عوامی فلاحی منصوبے قائم کیے گئے ہیں جن میں پاک-چین دوستی ہسپتال، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، پاک-چین پرائمری اسکول، گوادر لائیولی ہڈ پروجیکٹ، گوادر فشریز پروسیسنگ اینڈ ایکسپورٹ زون اور گوادر سولر پارک شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم نے گوادر کو پاکستان ریلویز کے مین لائن ایم-4 سے جوڑنے کے لیے ریلوے رابطے پر کام کرنے کی بھی ہدایت دی۔ گوادر-کوئٹہ ہائی وے 2018 میں مکمل ہو چکا ہے جس سے تربت، ہوشاب اور پنجگور سمیت دیگر علاقے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، موٹروے ایم-8 (گوادر-ہوشاب-راٹو ڈیرہ) کے باقی حصے کی تعمیر کا منصوبہ بھی جاری ہے تاکہ گوادر کو سکھر سے جوڑا جا سکے۔ گوادر اور کوئٹہ کے درمیان مزید رابطے کے لیے نوکنڈی سے مشخیل تک سڑک کی تعمیر جاری ہے، جبکہ مشخیل سے پنجگور تک سڑک کی تعمیر بھی جلد شروع ہوگی۔ اس کے علاوہ، گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر بھی تیز رفتاری سے جاری ہے اور اس پر بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے گوادر پورٹ پر مال کی جانچ کے جدید سہولتوں کی فراہمی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تجویز بھی پیش کی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *