بولان: دہشتگردوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر دیا جس کے بعد سکیورٹی فورسزکا کلیئرنس آپریشن جاری ہے،155 یرغمال مسافروں کوبازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ 27 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔بازیاب کروائے جانے والوں میں31 عورتیں اور 15 بچے بھی شامل ہیں،سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی مسافروں کی باحفاظت بازیابی کیلئے سیکیورٹی فورسز کوشاں ہیں،دہشتگرد اپنے بیرون ملک ہینڈلرز سے بذریعہ سیٹلائٹ فون رابطے میں ہیں۔چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا،سیکیورٹی فورسزاوردہشتگردوں کےدرمیان شدید فائرنگ کاسلسلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسزکی اضافی نفری علاقےمیں آپریشن میں شریک ہے،زخمی مسافروں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔دہشتگردوں نے بولان پاس کے علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا،دہشتگردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایاہواہے،مسافروں میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی بھی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے بھی رابطے میں ہیں،ان دہشتگردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔دوسری جانب تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جعفرایکسپریس پرحملے کے دہشتگرد افغانستان میں اپنےماسٹرمائنڈ سےرابطےمیں ہیں،دہشت گردوں نےعورتوں اوربچوں کوڈھال بنایاہوا ہے۔سیکیورٹی فورسز نےدہشتگردوں کاگھیراؤکرلیااورفائرنگ کاتبادلہ جاری ہے،عورتوں اوربچوں کوڈھال بنائےجانےکی وجہ سےآپریشن انتہائی احتیاط سےکیاجارہا ہے۔
جعفر ایکسپریس حملہ،کلیئرنس آپریشن میں 27 دہشتگرد ہلاک، 155 مسافر بازیاب

Leave a Reply