Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
نیتن یاہو کا حماس سے شکست تسلیم کرنے والے اسرائیلی سیکیورٹی چیف کو برطرف کرنے کا فیصلہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

نیتن یاہو کا حماس سے شکست تسلیم کرنے والے اسرائیلی سیکیورٹی چیف کو برطرف کرنے کا فیصلہ

تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے ملک کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شِن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سیکیورٹی ادارے کے سربراہ پر مکمل اعتماد ہونا ضروری ہے، اور ان کا رونن بار پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شِن بیٹ نے ایک رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کو روکنے میں ناکامی تسلیم کی تھی، جبکہ اسرائیلی حکومت کو بھی اس سانحے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔بار نے برطرفی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل ایمانداری اور ملک کے مفاد میں کام کر رہے تھے، اور ان کی برطرفی سیاسی عزائم کے تحت کی جا رہی ہے۔یہ تنازع اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب نیتن یاہو کے قریبی مشیروں کے خلاف “قطر گیٹ” اسکینڈل کی تحقیقات شروع ہوئیں۔ اس اسکینڈل میں قطر سے مبینہ مالی ادائیگیاں نیتن یاہو کے دفتر میں پہنچنے کا الزام ہے، جس کے تحت قطر کی اسرائیل میں ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے الزام لگایا کہ نتن یاہو سیکیورٹی چیف کو ہٹا کر قطر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔دوسری جانب، نتن یاہو کے حمایتیوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پہلے ہی کر لینا چاہیے تھا۔یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں مزید کشیدگی پیدا کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق رونن بار کی برطرفی سے سیکیورٹی ایجنسی میں ایک وفادار شخصیت کو تعینات کرنے کا امکان ہے، جو مستقبل کی تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *