لندن: بجلی مہنگی ہونے اور ایندھن کے بڑھتے نرخ کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لوگ پریشان ہیں، ان حالات میں سولر پینل کی مارکیٹ چمک اٹھی، اور اس کی درآمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، ان صورتحال میں سولرپینلز درآمد کرنے میں پاکستان دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا۔برطانوی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان نے تمام ممالک سے زیادہ 17 گیگا واٹ کے سولر پینلز درآمد کئے، جو ملک میں اس سسٹم کی ڈیمانڈ ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان کی سولر امپورٹ اِس لیے بھی حیران کن ہیں کہ یہ کسی عالمی سرمایہ کاری، قومی پروگرام یا بڑے پیمانے پر منظم منصوبے کے تحت نہیں بلکہ صارفین کی ذاتی کوششوں کی مرہون منت ہے۔برطانوی ذرائع کے مطابق سولرز پینل کی زیادہ تر مانگ گھریلو صارفین، چھوٹے کاروبار اور تجارتی اداروں کی جانب سے دیکھی گئی ہے، جو مہنگی اور غیر یقینی سرکاری بجلی کے مقابلے میں سستی اور قابلِ اعتماد توانائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے سولرپینلز درآمد کرنے میں پاکستان دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا۔بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، اس وجہ سے سولر پینل کی جانب عوام کی توجہ مبذول ہوتی جا رہی ہے، یہ صرف استعمال کیلئے ہی نہیں بلکہ ملک میں سولر پینل کا کاروبار بھی زوروں سے کیا جانے لگا ہے۔

Leave a Reply