Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
لیبیا میں ایک اور تارکین وطن کی کشتی حادثے کا شکار، 4 پاکستانیوں سمیت 11 لاشیں مل گئیں – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

لیبیا میں ایک اور تارکین وطن کی کشتی حادثے کا شکار، 4 پاکستانیوں سمیت 11 لاشیں مل گئیں

تریپولی:لیبیا کے مشرقی ساحل کے قریب تارکین وطن کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہوگئی جس میں 11 افراد ہلاک ہوگئے، مرنے والوں میں 4 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کشتی کو حادثہ 12 اور 13 اپریل کی درمیانی شب لیبیا کے شہر سرت کے نزدیک حراوہ کے ساحل کے قریب پیش آیا۔ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق کشتی لیبیا سے تارکین وطن کو لے کر یونان جا رہی تھی، حادثے میں ہلاک ہونے والے 11 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں 4 پاکستانی بھی شامل ہیں، جن میں سے 3 منڈی بہاؤالدین کے رہائشی ہیں اور ایک کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانے کی ایک ٹیم نے لیبیا کے شہر سرت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہلاک ہونے والوں میں سے 4 پاکستانیوں کی شناخت کی تصدیق کی۔حادثے سے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی حکام لیبیا میں مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔لیبیا کے حکام کے مطابق باقی افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جس میں مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں میں زاہد محمود، ولد لیاقت علی (گوجرانوالہ)‘سمیر علی، ولد راجا عبد القدیر (منڈی بہاالدین)‘سید علی حسین، ولد شفقت الحسینین (منڈی بہاالدین) اورآصف علی، ولد نظر محمد (منڈی بہاالدین) شامل ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یونان کے کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرے پر ہونے والی اموات کی وجوہات فی الحال واضح نہیں ہیں، البتہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *