بھارت کی جانب سے 7 اور 8 مئی کو پاکستان پر اسرائیلی ساختہ ڈرونز داغے گئے جن میں سے بیشتر کو پاکستان نے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنادیا۔بھارت کی جانب سے لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، راولپنڈی، اٹک، بہاولپور، میانو چھور اور کراچی کی طرف میزائل داغے گئے جنہیں فورسز نے ناکارہ بنادیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے انہیں فضا میں ہی کیوں نکارہ نہیں بنایا؟
اس موضوع پر دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائر کیے گئے ڈرونز کو ہمارے دفاعی سسٹم اور ریڈار نے پہلے ہی پکڑ لیا تھا اور پھر ان کی کڑی نگرانی کی گئی۔انہوں نے فضا میں ان ڈرونز کو نشانہ نہ بنانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کی جانب سے فائر کیے جانے والے اسرائیلی ساختہ ڈرونز فضا میں 35 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر پرواز کرتے ہیں، جس کے لیے انہیں نشانہ بنانے کیلئے طویل فاصلے طے کرنے والے میزائلز کی ضرورت ہے اور اس کا تخمینہ بہت زیادہ آتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت یہ چاہتا ہے کہ بلندی پر اُس کے ڈرونز کو نشانہ بنایا جائے تاکہ وہ ہمارے میزائل سسٹم کا سراغ لگا سکے مگر پاکستان یہ موقع نہیں دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون جب نیچے کی طرف کم پرواز پر آتے ہیں تو انہیں معمول کے اسلحے سے نشانہ بناکر ناکارہ کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان میں افرتفری ہو مگر وہ اس میں ناکام ہے، ڈرونز کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد خون کے عطیات کیلئے ہسپتال پہنچی اور وطن سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔
پاکستان نے بھارتی ڈرونز کو فضا میں نشانہ کیوں نہیں بنایا؟ دفاعی ماہرین نے بتادیا

Leave a Reply