اسلام آباد:۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر اور سنیارٹی کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں کی۔ سماعت کے دوران اہم سوالات زیر بحث آئے، جن میں سب سے اہم یہ تھا کہ کیا کسی ہائی کورٹ میں تبادلے پر آنے والا جج نیا حلف اٹھائے گا یا نہیں؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ وکلا کے دلائل میں تضاد ہے، ایک طرف تبادلہ وقتی اور غیر مستقل قرار دیا جا رہا ہے، اور دوسری جانب نیا حلف لینے کی بات کی جا رہی ہے۔ کیا ایک جج ایک ہی وقت میں دو یا تین مرتبہ حلف اٹھا سکتا ہے؟
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر آرٹیکل 200 کے تحت مستقل جج تعینات ہو سکتا ہے، تو جوڈیشل کمیشن کا کردار غیر مؤثر ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر حلف لیے کوئی جج فیصلے نہیں دے سکتا۔
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججز کی ٹرانسفر ٹائم باؤنڈ ہوتی ہے، جیسا کہ فیڈرل شریعت کورٹ میں تین سال کے لیے تعیناتی ہوتی ہے۔ جسٹس مظہر نے سوال اٹھایا کہ اس کا موجودہ کیس سے کیا تعلق ہے؟بینچ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ایک جج تبادلے کے بعد واپس جائے تو اس کی سنیارٹی کس بنیاد پر طے کی جائے گی؟ فیصل صدیقی نے دوہری سنیارٹی لسٹوں کی تجویز دی، جس پر جسٹس مظہر نے کہا کہ اس سے مزید تنازعات جنم لیں گے۔
عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے کراچی بار کے وکیل فیصل صدیقی کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
سپریم کورٹ میں ججز کی ٹرانسفر اور سنیارٹی پر اہم سوالات اٹھا دیے گئے

Leave a Reply