اسلام آباد سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق اہم کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں 11 رکنی آئینی بینچ نے حکومت کی نظرثانی درخواستوں پر غور کیا۔ سماعت کے دوران ججز نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کیا عدالت آئین سے ہٹ کر فیصلے دے سکتی ہے اور کیا جج آئین کو “ری رائٹ” کر سکتے ہیں؟جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں 3 دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کرنا آئین کو دوبارہ تحریر کرنے جیسا ہے، جبکہ وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی آئین ری رائٹ نہیں کیا گیا۔سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اپنایا کہ ان کے امیدوار حامد رضا نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، لیکن جماعت کا نشان “گھوڑا” تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امیدوار اپنی مرضی سے کسی بھی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، کسی کو زبردستی نہیں کی جا سکتی۔جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا جج عوامی امنگوں یا جمہوریت کے نام پر آئینی دائرے سے باہر جا سکتے ہیں؟ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دانستہ طور پر مساوی حقوق سے محروم رکھا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی کہ نظرثانی کی درخواستوں میں جس فیصلے کو چیلنج کیا گیا، وہ پڑھا ہی نہیں گیا۔ دلائل سننے کے بعد بینچ نے کیس کی مزید سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی۔
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کا کیس: ججز کا سوال‘ کیا آئین دوبارہ لکھا جا سکتا ہے؟

Leave a Reply