مقبوضہ بیت المقدس: غزہ کی پٹی ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے جہاں صرف دو دن میں درجنوں فلسطینی شہید جبکہ درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے شیخ رضوان مارکیٹ میں واقع ایک رہائشی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جب کہ امداد کے حصول کے لیے جمع فلسطینی شہریوں پر بھی فضائی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 54 فلسطینی شہید ہو گئے۔ فلسطینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ میں 70 سے زائد رہائشی عمارتیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنی ہیں۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں شہری آبادی پر مشتمل تھیں، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ افراد شامل تھے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر (OHCHR) نے اسرائیل کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کو ایک “فوجی حکمت عملی” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ یہ اقدام نسل کشی جیسے بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ OHCHR کے مطابق، جان بوجھ کر انسانی جان بچانے والی سہولتوں تک رسائی روکنا بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور عالمی برادری کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اس ظلم کے نتیجے میں غزہ کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے، جہاں نہ خوراک ہے، نہ دوا، اور نہ ہی پناہ کی کوئی محفوظ جگہ۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری جنگ بندی اور مستقل حل کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری، 2 روز میں 54 فلسطینی شہید، 70 عمارتیں تباہ

Leave a Reply