تل ابیب: اسرائیلی فوج نے تہران پر تازہ حملے میں ہلال احمر سوسائٹی کے ہیڈکوارٹر کے قریب ایک عمارت کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے، اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ تہران میں ایران کی داخلی سلامتی کے ہیڈکوارٹرز کو تباہ کر دیا ہے۔صہیونی فوج نے جمعہ سے اب تک ایران میں 1100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ تہران پر رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں امام حسین یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا، سینٹری فیوج پروڈکشن سائٹ، متعدد اسلحہ ساز فیکٹریوں پر حملوں اور متعدد ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی مجرمانہ حکومت نے بدھ کے روز تہران میں ایرانی ہلال احمر سوسائٹی (آئی آر سی ایس) کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ایک عمارت پر حملہ کر دیا۔تازہ کارروائی میں صہیونی دشمن میں دارالحکومت میں ہلال احمر سوسائٹی کے صدر دفتر کی قریبی عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ تہران میں ایران کی داخلی سلامتی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ابھی ابھی ایرانی حکومت کی داخلی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا، جو ایرانی آمر کے ظلم و ستم کا مرکزی ذریعہ ہے۔انہوں نے مزید کہا ہم نے وعدہ کیا تھا، ہم ایران کی حکومت کی علامتوں کو نشانہ بناتے رہیں گے اور آیت اللہ کی حکومت پر جہاں بھی ہو، حملہ کرتے رہیں گے۔قبل ازیں ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صہیونی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں فوجی ٹھکانوں پر تازہ حملے کیے ہیں۔ایرانی نیوز ویب سائٹس کے مطابق، اسرائیل نے امام حسین یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو کہ پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک ادارہ ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد جنگی طیاروں نے رات بھر جاری رہنے والی کارروائیوں میں حصہ لیا، جن میں ایران کے ایک سینٹری فیوج پروڈکشن سائٹ سمیت متعدد ہتھیار ساز فیکٹریوں پر حملے شامل تھے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران دارالحکومت تہران میں واقع سینٹری فیوج پروڈکشن سائٹ کا استعمال یورینیم کی افزودگی کی رفتار اور دائرہ کار بڑھانے کے لیے کر رہا تھا، جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ہے۔
اسرائیل کی تہران میں تازہ بمباری، داخلی سلامتی کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ

Leave a Reply