تل ابیب: اسرائیلی فوج نے مغربی ایران میں فوجیوں، بیلسٹک میزائل انفرااسٹرکچر، وسطی شہر اراک میں واقع خنداب جوہری ری ایکٹر اور تہران میں واقع نطنز جوہری ری ایکٹر کو نشانہ بنایا ہے، ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیشگی انتظامات کے باعث نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اس تنصیب کے قریب 2 میزائل آ کر گرے، تاہم کسی قسم کی تابکاری کے خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے وقت کیے گئے حملوں کے دوران ایران کے شہر اراک میں ایک غیر فعال جوہری ری ایکٹر کو نشانہ بنایا، جب کہ نطنز میں واقع جوہری تنصیب کو بھی دوبارہ ہدف بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’اراک میں واقع جوہری ری ایکٹر پر حملے میں ری ایکٹر کے کور سیل کی ساخت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو پلوٹونیم کی تیاری کا ایک کلیدی جزو ہے‘۔اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے نطنز کے علاقے میں ایک اور مقام کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں ایسے اجزا اور خصوصی آلات موجود تھے جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ایران نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی تازہ خلاف ورزی کے تحت اس کی جوہری تنصیبات پر حملے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان علاقوں کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا، پیشگی انتظامات کے باعث نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیل کی دھمکیوں اور حملوں کی متعدد بار عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو اطلاع دی گئی، لیکن اقوامِ متحدہ کے اس جوہری نگران ادارے نے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔
اسرائیلی فوج کے ایرانی فوجیوں، میزائل سائٹ، جوہری ری ایکٹر اور اہم تنصیبات پر حملے

Leave a Reply