اسلام آباد :وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے چینی سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں گوادر فری زونز، فشریز اور آبی ذخائر کی سولرائزیشن سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات میں چینی وفد نے گوادر کی ترقی میں بھرپور سرمایہ کاری اور خاص طور پر فشریز و آبی پارکس کی سولرائزیشن میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کو صاف، توانائی مؤثر اور سرمایہ کار دوست بندرگاہ بنانے کا پختہ عزم ہے، اور حکومت اس ضمن میں ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ فشریز اور آبی ذخیروں کی سولرائزیشن سے نہ صرف توانائی کا مؤثر استعمال ممکن ہوگا بلکہ سمندری معیشت (BLUE ECONOMY) کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان کی بلیو اکانومی نے قومی جی ڈی پی میں 0.4 فیصد کا حصہ ڈالا، جو مستقبل میں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی چین کو سی فوڈ برآمدات 125 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔وفاقی وزیر نے وفد کو آگاہ کیا کہ گوادر ساؤتھ فری زون مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے جہاں 2000 ٹن صلاحیت کا کولڈ اسٹوریج بھی موجود ہے، جبکہ نارتھ فری زون کی ترقی تیزی سے جاری ہے۔جنید انوار نے کہا کہ چین کے ساتھ بندرگاہی شعبے میں تعاون سے نہ صرف علاقائی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ گوادر کی ترقی سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے-
وفاقی وزیر بحری امور سے چینی وفد کی ملا قات ، گوادر فری زونز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

Leave a Reply