لاہور، ملتان، بہاولپور: پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، دریائے چناب کے بپھرنے سے ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا کو چاروں جانب سے بڑے سیلابی ریلے نے گھیر لیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری ہے۔تازہ واقعات میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹ گئی ہیں جس سے کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 9 لاپتہ ہو گئے، ملتان سے نوجوان کی لاش برآمد ہو گئی، 21 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ پر فصلوں کا نقصان ہوا ہے۔سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کا کہنا ہے جلال پور پیروالا کو بچانے کیلئے بنائے گئے عارضی بند پر پانی کا دباؤ مسلسل برقرار ہے، شہر سے تیزی سے آبادی کو نکالا جا رہا ہے۔صادق علی ڈوگر کا کہنا ہے کہ جلال پور پیروالا کے چاروں اطراف پانی ہے، تحصیل جلالپور کے 90 فیصد نواحی علاقے زیر آب آچکے ہیں۔جلالپور پیر والا کے 138 موضع جات زیر آب آ چکے ہیں۔ادھر اوچ شریف کے علاقہ بھکری کے قریب پرائیویٹ کشتی سیلابی پانی میں الٹ گئی ، کشتی میں سوار 4 افراد سیلابی پانی میں ڈوب گئے جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے بروقت بچا لیا۔بہاولنگر کی دریائی پٹی میں 145 دیہات زیر آب دریائے ستلج میں بھکاں پتن کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے پانی راجیکا، بہادرکا شرقی اور قاسمکا کے قریب بند ٹوٹنے سے پانی مزید آبادیوں میں داخل ہو گیا۔دریائی پٹی کے 150 کلومیٹر کے علاقے میں 145 موضع جات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ایک لاکھ بیس ہزار ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں ڈوب گئیں، متعدد سڑکیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، کئی دیہات کا بہاولنگر سے زمینی راستہ منقطع ہے، دریائی بیلٹ میں 34 سکول غیر معینہ مدت کیلئے بند ہیں ۔متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویہ اور جانوروں کے لیے چارے کی قلت کا سامنا ہے۔ادھر ملتان کے موضع گردیز پور میں سیلابی پانی سے لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت 25 سالہ محمد جعفر کے نام سے ہوئی ہے، جعفر دو روز قبل جانوروں کو بچاتے ہوئے سیلابی پانی میں ڈوب گیا تھا۔
پنجاب: سیلابی ریلے نے جلالپور پیروالا کو گھیر لیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء

Leave a Reply