ہور :تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے ،ابھی وہاں سے استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں، ہمارے مخالفین کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ سے نکل جائے ،حکومت ہماری لیڈرشپ کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ہمارے ارکان اسمبلی کو 10،10 سال کی سزائیں دلوا دیں،ہم پارلیمنٹ کے اندر رہ کر مقابلہ کریں گے ،قائمہ کمیٹیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ عمران خان کی طرف سے آیا ہے ، پارٹی کی تمام قیادت نے اس کو قبول کیا ،ہم وہ سپیس نہیں دیں گے جو حکومت چاہتی ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں قائمہ کمیٹیوں سے استعفی نہیں دینا چاہئے ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یہ بہت بڑا فورم ہے ،اس کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئے تھا،بعض اوقات پارٹی کے جو فیصلے ہوتے ہیں ، قبول کرنے پڑتے ہیں، تمام عہدے خان صاحب کی امانت ہیں۔علی محمد خان نے دنیانیوزکے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کیساتھ ‘‘میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں مذاکرات کا حامی ہوں،جب یہ بات کر تا ہوں تو مجھ پر تنقید ہوتی ہے ، میرے خلاف لوگ عمران خان کے کان بھرتے ہیں،میں یہ تو نہیں کہتا کہ ڈیل کرو، یہ کہتا ہوں کہ ہم اپنا پرانا اصول چھوڑ دیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سے صرف وکلا ہی ملاقات کررہے ہیں، سیاسی قیادت ملاقات نہیں کررہی،پالیسی تب بہتر ہوتی ہے جب سیاسی قیادت فیصلے کرے ،وکیل سیاسی کام نہیں کرسکتا،فیملی ممبرز کی اپنی اہمیت ہے ،26 نومبر سے پہلے میں نے عمران خان سے بات کی تھی کہ ان عدالتوں سے مجھے کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا،آج وہ میری بات ثابت ہو گئی ،26ویں ترامیم کے بعد عدالتوں کی حالت بدل چکی ہے ۔

Leave a Reply