لاہور : وزیراعظم شہباز شریف نے پاک سعودی دفاعی معاہدہ کو عالم اسلام اور پاکستان کیلئے نیک فال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات دوطرفہ تعلقات کے حوالہ سے اہم اور خطہ میں ہر طرح کے خطرات و خدشات کے خاتمہ میں معاون ہوں گے۔یہ دور جارحانہ عزائم پر کاربند ہونے کا نہیں حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کر کے آگے بڑھنے کا ہے ۔پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایک دوسرے کی سلامتی اور بقا ہمارا ہدف اور عزم ہے کسی کو ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے ،آنے والا وقت پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالہ سے اہم ہے ،جس میں ہم سعودی عرب اور اپنے دوستوں کو کبھی نہیں بھول سکتے ،ان کی سلامتی بقا ہماری سلامتی بقا ہے اور یہی جذبہ ہماری اصل طاقت ہے ۔ دیرپا اور پائیدار امن کے حوالہ سے پاکستان کا کردار اہم ہے ہم نے نہ پہلے کسی کو کسی دوسرے پر چڑھ دو ڑنے کی اجازت دی اور نہ ہی مستقبل میں کسی کو ایسا طرز عمل اختیار کرنے دیں گے۔امن ہماری ترجیح ہے مگر ہم اسے اپنی کمزوری نہیں بننے دیتے ، اپنی بقا و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے جارحیت کرنے والوں کو جوابدہ بنانا کٹہرے میں لانا لازم ہے اور یہی حکمت عملی نتیجہ خیز بنے گی۔سعودی عرب سے لندن روانگی سے قبل روزنامہ دنیا سے بات چیت کر تے ہوئے شہباز شریف نے سعودی عرب سے پاکستان کے دفاعی معاہدہ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیااورکہا کہ ہم ایک دوسرے کی بقا ،سلامتی اور تحفظ کے ضامن ہیں، سعودی عرب سے ہماری جذباتی وابستگی تھی ،ہے اور ہمیشہ یہ رہے گی، حرمین شریفین کا تحفظ کسی اعزاز سے کم نہیں، سعودی لیڈر شپ کا پاکستان پر اعتماد اور اعتبار ہماری طاقت ہے کہ انہوں نے کسی مشکل صورتحال میں ہمیں کبھی اکیلا چھوڑا اور نہ ہم ایسا کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت اور موثر دفاع کی نئی جہت عالم اسلام کو مضبوط اور توانا بنائے گی، عالم اسلام کی اصل طاقت اتحاد و یکجہتی ہے اور دوحہ کانفرنس میں طے شدہ حکمت عملی ہی خطہ کو ہر طرح کے خدشات سے پاک کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں طاری قیامت صغریٰ ہم سب کیلئے چیلنج ہے ،اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانا ،جوابدہ بنانا اور کٹہرے میں لانا ہمارا فرض ہے ۔ فلسطین ریاست کو تسلیم کرنا ہو گا ،ہم اپنے اصولی موقف پر کاربند ہیں کہ دنیا غزہ میں جنگ بندی یقینی بنائے ، فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے ۔شہباز شریف نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ پر ہمارا ردعمل فطری تھا ہم اپنے عرب دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے ، ہم نے پہلے ہی روز کہا تھا کہ ہم غیر مشروط طور پر ان کے ساتھ ہیں۔دوحہ کانفرنس کتنی نتیجہ خیز تھی یہ وقت بتائے گا ،خلیجی ممالک امن کے خواہاں ہیں یہ کسی کو اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ کوئی جارحانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے امن کو چلتا کرے ، ہم اپنے دوستوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ۔وزیراعظم نے ایک سوال پر کہا کہ ہم خالصتاً اخلاص کی بنا پر سعودی عرب سے معاہدہ پر اﷲ کا شکر ادا کرتے ہیں ،پاکستان اﷲکا انعام اور عالم اسلام کی طاقت ہے ،ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے ۔ ان کا کہناتھاکہ اچھی مضبوط اور پیشہ ورانہ فوج کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ،یہ اعزاز پاکستان کے سپہ سالار اور ہماری فوج کو حاصل ہے کہ اس نے اپنے سے چھ گنا بڑی طاقت کو شکست فاش دیکر ثابت کیا کہ ہم ناقابل تسخیر ہیں اور اپنی سرزمین، اس کا تحفظ ہمیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے ، آج دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی کی وجہ اس کا ذمہ دارانہ کردار اور موثر دفاعی قوت ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے بار بار کہتے رہے کہ اﷲنے پاکستان کو سرخرو کیا ہے ۔قبل ازیں شہبازشریف نے اپنی ایکس پوسٹ میں سعودی عرب میں بے مثال استقبال پرسعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فضا میں رائل سعودی ایئرفورس کے جیٹ طیاروں کا میرے طیارے کوحصار میں لینا اورسعودی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کا گارڈ آف آنر،یہ بے مثال استقبال پاکستان اور سعودی عرب کے مابین محبت اور باہمی احترام کا مظہر ہے ،سعودی ولی عہدکے ساتھ بات چیت میں علاقائی چیلنجوں اور دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کا جائزہ لینے سمیت کئی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سعودی ولی عہدکی طرف سے مسلسل حمایت اور دونوں ممالک کے مابین سعودی سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو فروغ دینے کیلئے ان کی گہری دلچسپی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوستی کے فروغ اور عظمت کی نئی بلندیوں کو چھونے کی دعا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا تاریخی دورہ مکمل کر کے 4روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے ،انہیں سخت سکیورٹی میں سنٹرل لندن پہنچایا گیا ،ان کی آمد سے قبل برطانوی پولیس بھی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی تھی ۔شہباز شریف نے جنیوامیں نوازشریف کی عیادت کیلئے مختصرقیام بھی کیا ،وزیراعظم لندن میں اہم ملاقاتیں کرینگے اور 21ستمبر کو برطانیہ سے امریکا روانہ ہو جائیں گے ۔اسلام آباد ،ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس کو ایک لاکھ 58 ہزار تک لے گیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز کاروبار کا آغاز مثبت ہوا اورکاروبار کے اختتام تک یہ سلسلہ برقرار رہا۔ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلندی ہوئی۔100 انڈیکس ایک ہزار 775 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 57 ہزار 953 پر بند ہوا ہے ۔کاروباری دن میں 100 انڈیکس نے اپنی بلند ترین سطح ایک لاکھ 58 ہزار 82 بنائی ۔بازار میں ایک ارب 95 کروڑ شیئرز کے سودے 56 ارب 93 کروڑ روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 183 ارب روپے بڑھ کر 18 ہزار 541 ارب روپے ہوگئی ۔دوسر ی طرف دفاعی معاہدے کی خبر کو پاکستان اورسعودی عرب سمیت عالمی میڈیامیں بھرپور کوریج دی گئی ۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خطے کیلئے نئی جہت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ بھارت سمیت پورے خطے پر اثر ڈال سکتا ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کہا کہ نئی دفاعی صف بندی سامنے نظر آرہی ہے ، دفاعی معاہدہ امریکا پر خلیجی ریاستوں کے کم ہوتے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے کہا کہ قطر پر اسرائیل کے حملے نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ، خلیجی ریاستوں کا امریکا پر انحصار کم ہوتا محسوس ہورہا ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے پر امریکی تجزیہ مائیکل کوگلمین نے کہا کہ چین، ترکیہ اور اب سعودی عرب کی مکمل حمایت کے ساتھ پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط ہوگئی ہے ۔ دفاعی معاہدے کی خوشی میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو پاکستانی اور سعودی پرچموں سے شاندار انداز میں سجایا گیا ہے ،شہر کی اہم سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں دونوں ممالک کے پرچموں سے مزین کر دی گئیں،جگہ جگہ خیرمقدمی بینر لگائے گئے ہیں جبکہ کنگڈم ٹاور پر پاکستانی اور سعودی پرچم کی پروجیکشن نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ اسلام آباد میں بھی سعودی پرچموں کی بہار دیکھنے میں آئی اور سرکاری عمارتیں برقی قمقموں سے جگمگا اٹھیں اورشہر بھر میں خیر مقدمی بینرز نظر آرہے ہیں ۔عوام کی جانب سے اس شاندار سجاوٹ کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کی خوبصورت علامت قرار دیا جارہا ہے ۔
ملک کا معاشی مستقبل اہم،سعودی عرب کی سلامتی ہماری سلامتی :شہباز شریف

Leave a Reply