لاہور:لاہور کی سڑکیں جو کبھی شہر کی شناخت اور سہولت کی علامت سمجھی جاتی تھیں، آج ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ایل ڈی اے اور ٹیپا کی مبینہ غفلت و کوتاہی نے اربوں روپے سے تعمیر ہونے والی خوبصورت شاہراہوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔شہر کی11مرکزی شاہراہوں پر سینکڑوں پوٹ ہولز ناصرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھا رہے ہیں۔روزنامہ دنیا کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق لاہوراپنی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پرشہریوں کیلئے عذاب بن گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق صرف11مرکزی شاہراہوں پر پانچ سو سے زائد پوٹ ہولز موجود ہیں جو نا صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ہیں بلکہ حادثات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ شہر کی سب سے اہم شاہراہ فیروز پور روڈ جومصطفیٰ آباد سے قرطبہ چوک تک 32.89 کلومیٹر طویل ہے یہ تین سو دس مقامات پر سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ کینال روڈ جو واہگہ سے ٹھوکر نیاز بیگ تک 34.18 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ، ایک سو بیس مقامات پر خستہ حالی کا شکار ہے ۔جی ٹی روڈ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ کوآپ سٹور سے واہگہ تک 21.76 کلومیٹر کے حصے پر ترانوے مقامات پر پوٹ ہولز رپورٹ ہوئے ہیں۔ مال روڈ جو شہر کی تاریخی اور مرکزی شاہراہ ہے ، لوئر مال سے شامی روڈ تک صرف 7.46 کلومیٹر کے حصے پر بھی نو مقامات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔مولانا شوکت علی روڈ کریم بلاک راؤنڈ اباؤٹ سے پیکو موڑ تک 8.43 کلومیٹر طویل ہے ،یہاں تراسی پوٹ ہولز موجود ہیں۔ ملتان روڈ (این-5)کوٹ اسد اللہ خان مانگا منڈی سے چوبرجی تک 41.43 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ، ایک سو تریسٹھ مقامات پر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ راوی روڈ جو بھاٹی چوک سے شاہدرہ تک 8.27 کلومیٹر ہے ، اٹھاون مقامات پر پوٹ ہولز اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔یہ صورتحال شہریوں کیلئے دوہری اذیت بن چکی ہے۔ ایک طرف ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے ، تو دوسری طرف ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے گاڑیوں کو نقصان اور حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ سڑکوں کی خستہ حالی ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کرتی ہے کیونکہ گاڑیوں کو بار بار بریک لگانے اور رکنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس سے دھواں اور شور بڑھ جاتا ہے ۔سڑکوں کی مرمت اور ان کا روڈ لیول ایک سطح پر لانے کیلئے ڈی جی ایل ڈی اے کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو سمری ارسال کر دی گئی ہے۔

Leave a Reply