علی پور، جلالپور پیر والا، قصور، نوشہرو فیروز:پاسکو حکام کی مبینہ غفلت،مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں پاسکو کے دو بڑے سنٹرز سیلاب میں ڈوب گئے،کروڑوں روپے مالیت کی گندم ضائع ہوگئی۔ پی ڈی ایم اے کی وارننگ کے باوجودسیت پور کے دونوں سنٹرزکو بچانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے ،ادھر ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا میں دریائے ستلج کے سیلابی پانی کی تباہ کاریاں جاری ہیں، مشرقی علاقے سے 11 روز بعد بھی سیلابی پانی کا اخراج نہ ہوسکا ،مزید 2افراد ٖڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔دوسری طرف دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی سطح بلند ہو گئی ،نوشہرو فیروز کے مقام پر بڑے سیلابی ریلے سے مزید کئی دیہات زیرِ آب آگئے ۔ تفصیلات کے مطابق علی پور کے نواحی علاقے سیت پور میں پاسکو کے دو بڑے سنٹرز شدید سیلابی ریلے کی زد میں آ گئے ، جس کے باعث کروڑوں روپے مالیت کی ہزاروں بوریاں گندم ضائع ہوگئیں ۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے قبل از وقت جاری کردہ وارننگ کے باوجود پاسکو حکام نے خاموشی اختیار کئے رکھی اور گندم کو محفوظ مقامات پر منتقل نہ کیا ،سیلاب کا پانی داخل ہونے سے گندم کی ہزاروں بوریاں خراب ہو گئیں۔ مقامی زرعی اور سماجی حلقوں نے اس نقصان کو شدید غفلت اور بدانتظامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسکو حکام کی لاپروائی کے باعث قومی خزانے پر بھاری بوجھ آن پڑا ہے ،اس نقصان کی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ دوسری طرف دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں مزید اضا فہ سے پانی کی سطح بلند ہو گئی،وہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے مگر بہا ؤبڑھ کر 3 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہو گیا،دریا میں شدید طغیانی سے جامشورو ڈائون سٹریم میں بند کے علاقے متاثر ہوگئے ،ٹھٹھہ میں دریا ئی کٹاؤ کئی ایکڑ زمین نگل گیا ،کپاس سمیت دیگر تیار فصلیں تبا ہ ہونے کا خطرہ ہے ، دادو مورو میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور ریلے سے 10 گا ؤ ں ،سکول متاثر ہوئے ہیں ۔علاوہ ازیں دریائے سندھ میں نوشہرو فیروز کے مقام پر بڑا ریلا گزرنے سے کنڈیارو کے قریب سیلابی پانی بکھری شہر میں داخل ہوگیا ، ریلے سے ضلع کی 16 یو سیز کے 445 دیہات متاثر ہوئے ہیں، 15 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج پر بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور یہاں نچلے درجے کے سیلاب ہیں، گڈو بیراج پر بہا ؤ2 لاکھ 68 ہزارجبکہ سکھر بیراج پر پانی کا بہا ؤ3 لاکھ 10 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ادھر قصور میں دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی ہوئی ہے ، گزشتہ روز گنڈاسنگھ والا تلوار پوسٹ کے مقام پر پانی کا بہاؤ89ہزار 60کیوسک ، سطح 6اعشاریہ 20فٹ ، فتح محمد پوسٹ پر پانی کی سطح 11اعشاریہ 70 جبکہ کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح19اعشاریہ 90فٹ ریکارڈ کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈی پی ایس گورنمنٹ ہائی سکول گنڈا سنگھ والا اور شیخ پورہ نو میں قائم فلڈ ریلیف کیمپس میں سیلاب زدگان کو تین وقت کا کھانا، بچوں کو دو وقت دودھ اور مویشیوں کو چارے کی فراہمی جاری ہے جبکہ سیلاب متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ متاثرہ علاقوں کی ازسرنو بحالی کیلئے سروے شروع کیا جا چکا ہے ۔دریں اثناء ضلع ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا کے مشرقی علاقے 11 روز سے 40 ہزار کیوسک سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور پانی کا اخراج نہ ہوسکا، ریلے کے باعث موٹروے ایم 5 سے جلالپور کے مشرقی علاقوں میں ایک ہی لیول پر کھڑا پانی ڈیم کا منظر پیش کررہا ہے ، کھڑے پانی کے باعث مکانات مسلسل گر رہے ہیں ۔ سیلابی پانی میں موہانہ سندیلہ کا 17 سالہ نوجوان محمد سانول اور اوباڑہ جنوبی میں 25 سالہ رمضان ارائیں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ۔ ملتان تا جھانگڑو ایم 5 موٹر وے بدستور بند ہے ،کمالیہ میں سیلاب متاثرین کی گھروں کو واپسی شروع ہو چکی۔
علی پور: پاسکو کے 2بڑے سنٹرز سیلاب میں ڈوب گئے، کروڑوں کی گندم ضائع

Leave a Reply