Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
قبضے کا طریقہ بدل گیا،ریکارڈ میں جعلسازی کرکے سرکاری زمینیں فروخت : محسن شیخانی – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

قبضے کا طریقہ بدل گیا،ریکارڈ میں جعلسازی کرکے سرکاری زمینیں فروخت : محسن شیخانی

کراچی:ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے سرپرستِ اعلیٰ محسن شیخانی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم زمینی حقائق سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث ناکامی سے دوچار ہونے کا خطرہ رکھتی ہے ۔کراچی میں زمینوں پر قبضے کا طریقہ بدل گیا ہے ،اب ریکارڈ میں جعلسازی کرکے سرکاری زمینیں فروخت کی جارہی ہیں۔دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ کم آمدنی والے افراد کیلئے اسکیم میں رکھی گئی قرض کی حد غیر حقیقی ہے اور ان سے عام شہری کیلئے گھر کا حصول ممکن نہیں ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے آسان گھر اسکیم کو متعارف تو کرادیا مگر اس کے توسط سے ملنے والا قرض صرف 20 سے 35 لاکھ روپے ہے جو کسی شہری کی مدد کرنے کیلئے ناکافی ہے ۔سرپرست اعلیٰ آباد نے بتایاکہ آج ایک گھر یا فلیٹ بنانے کی لاگت 6 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ کچی آبادی میں بھی ایک کمرے کے گھر کی مالیت30لاکھ روپے سے زیادہ ہے ،سونے پر سہاگا شہری پہلے اپنی زمین خرید کر اس اسکیم کے ذریعے مکان کی تعمیر کیسے کرے گا یہ حکومت کیلئے سوالیہ نشان ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسکیم میں قرض کی حد کو بڑھا کر کم از کم ایک کروڑ روپے کیا جائے ۔زمینوں پر قبضے اور جعلسازی کے معاملات پر انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں زمینوں پر قبضے کا طریقہ بدل گیا ہے ،اب ریکارڈ میں جعلسازی کرکے سرکاری زمینیں فروخت کی جارہی ہیں۔انکے مطابق صوبائی حکومت زمینوں پر پابندی کے باوجود من پسند افراد کو کئی کئی ایکٹر زمینیں الاٹ کررہی ہے ، حال ہی میں دس ہزار ایکڑ زمین ایجوکیشن سٹی کیلئے الاٹ کی جارہی ہے ،اسی طرز پر صوبائی حکومت زمینوں کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کرکے خود ساختہ زمینیں الاٹ کرتی رہی تو شہر بھر میں رہائش کا نظام اور قانونی رٹ شدید متاثر ہوگی جبکہ دوسری جانب سرکاری ادارے ملی بھگت سے زمینوں کے ریکارڈ میں خرد برد کرکے کئی کئی ایکڑ زمین فروخت کررہے ہیں جو لینڈ گریبنگ کا منفرد انداز ہے ۔محسن شیخانی نے بتایا کہ زمینوں پر قبضے اور جعلسازی کا سلسلہ جاری رہنے سے شہریوں کا اعتماد مزید مجروح ہورہا ہے ، اسی تناظر میں اوورسیز پاکستانی بھی تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری سے منہ موڑ چکے ہیں اور بلڈرز بھی اپنا سرمایہ سمیٹ رہے ہیں ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *