واشنگٹن،اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی ،اس دوران دوطرفہ تعلقات، تجارت، علاقائی، عالمی امور، افغانستان، خطے کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون ،، توانائی کے منصوبے ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور خطے کی اقتصادی ترقی پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی ،اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیرداخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے ۔ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ عظیم رہنما وائٹ ہاؤس آ رہے ہیں۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ملاقات کے لیے آرہے ہیں، فیلڈمارشل اوروزیر اعظم عظیم رہنما ہیں،فیلڈ مارشل بہترین شخصیت کے مالک ہیں اور وزیرِاعظم بھی’وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری امریکی صدر کے شیڈول سے پتا چلتا ہے کہ اس ملاقات میں صحافیوں کو مدعو نہیں کیا گیا ہے ، جو ٹرمپ کے معمول کے طریقۂ کار سے ایک انحراف ہے ، کیونکہ وہ عام طور پر اوول آفس میں منتخب صحافیوں کو بلاتے ہیں۔ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات بہت اچھی رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی اور ابھرتی ہوئی معیشت امریکہ کے لئے ایک بڑی تجارتی مارکیٹ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے توانائی، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ ٹرمپ نے پاکستان کے معاشی امکانات کی تعریف کی اور کہا کہ امریکہ پاکستانی معیشت کے استحکام کے لئے مختلف پروگراموں اور شراکت داریوں پر کام کرے گا۔ٹرمپ نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے ۔ اینڈریوز ایئر بیس پہنچنے پر وزیرِاعظم شہبازشریف کا ریڈ کارپٹ پر امریکی ایئر فورس کے اعلیٰ عہدیدار نے استقبال کیا، وزیرِاعظم شہبازشریف کو موٹرکیڈ امریکی سکیورٹی کے حصار میں ایئربیس سے روانہ کیا گیا۔وزیر اعظم کی صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات رات دو بجے اووول آفس میں شروع ہوئی۔یہ اہم ملاقات پاکستان کی طاقت، سٹریٹجک اہمیت اور نئی خارجہ پالیسی کے اعتماد کا اعلان ہے ،وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی واشنگٹن آمد پر جس شاندار اور تاریخی انداز میں استقبال کیا گیا، وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی اہمیت کو کھلے دل سے تسلیم کر رہی ہیں۔ امریکی سکیورٹی کے حصار میں پروٹوکول کے ساتھ موٹرکیڈ کی آمد اور وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے خصوصی استقبالیہ نے پاکستان کو ایک مرکزی عالمی پلیئر کے طور پر دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی اور اعتماد بھرے رویے نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی فوج نہ صرف ملکی سکیورٹی بلکہ عالمی امن اور اقتصادی توازن میں بھی ایک مضبوط اور فیصلہ کن فریق ہے ۔ عاصم منیر کی متوازن اور دور اندیش حکمتِ عملی پاکستان کو امریکا، چین، خلیجی ممالک اور یورپ کے درمیان ایک گلوبل بیلنس ماسٹر کے طور پر پیش کر رہی ہے ، جبکہ ان کی قیادت یہ واضح کر رہی ہے کہ پاکستان خطے کے اہم فیصلوں میں ایک لازمی کردار ادا کر سکتا ہے ۔وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا وائٹ ہاؤس میں مشترکہ طور پر جانا پاکستان کے اندرونی استحکام اور پالیسی تسلسل کا بھی واضح ثبوت ہے ، یہ سول و ملٹری اتحاد عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کیلئے اعتماد کی علامت ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں میں استحکام اور تسلسل موجود ہے ۔ قبل ازیں وزیراعظم نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے واشنگٹن کیلئے روانہ ہوئے تھے ، وزیراعظم شہباز شریف صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد واپس نیویارک آئیں گے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے ۔واشنگٹن آنے سے قبل نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے بھی ملاقات کی۔دونوں رہنماؤں کی خوشگوار ماحول میں گرمجوشی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے اور کثیر الجہتی تعاون بالخصوص تجارت، علاقائی تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے باہمی تعلقات کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔وزیراعظم نے باہمی عزت و رواداری، باہمی اعتماد اور علاقائی تعاون و ترقی جیسے مشترکہ مقاصد پر مبنی پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔اس موقع پر بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر نے باہمی سفارتی تعلقات میں بہتری اور عالمی و علاقائی سطح پرپاکستان کے کردار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے باہمی تجارت اور ثقافتی تعلقات کو بہتر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔دونوں رہنماؤں کے درمیان دوستانہ اور گرم جوش انداز میں ہونے والی یہ ملاقات دونوں ممالک کی برصغیراور خطے کے استحکام اورعوام کی ترقی و خوشحالی کے مشترکہ عزم کے لیے مل کر کام کرنے کی عکاس ہے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے بانی بل گیٹس نے پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی بالخصوص صحت، غذائی معیار و مدافعت میں اضافے ، معاشی شمولیت اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے اقدامات میں مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔وزیراعظم نے بل گیٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے 2022 کے سیلاب کے پیش نظر قابل ذکر امدادی کارروائیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے 2025 کے سیلاب کے بعد دی جانے والی امداد کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں پولیو کے تدارک، قوت مدافعت اور غذائی معیار میں اضافے اور معاشی شمولیت کے لیے حکومتی اقدامات میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
ٹرمپ سے وزیراعظم،فیلڈ مارشل کی ملاقات:تجارت،انسداد دہشتگردی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال

Leave a Reply