تجزیہ: قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے صدر ٹرمپ کے بیس نکات پر مبنی ڈرافٹ پر آنے والے اعتراض سے ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ ڈرافٹ وہ نہیں جس کی ہم نے توثیق کی تھی ۔اس صورتحال کی روشنی میں ایک بات واضح نظر آ رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیس نکات پر خود عالم اسلام کے ممالک کے بھی تحفظات ہیں اور اصل سوال یہی ہے کہ کیا اب اس پر پیش رفت ہو گی جنگ بندی ممکن بن پائے گی ۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے وضاحتی بیان کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ یہ وہ دستاویز نہیں جس پر ہم متفق ہوئے تھے اور اب جب 20نکات کاجائزہ لیا جا رہا ہے تو ایک بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ اس میں تو فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر نہیں گویا کہ اس طرح کا دو ریاستی بندوبست ہے جس میں ایک ریاست کا نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطینیوں ،عربوں اور مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے جوتجاویز پیش کی گئی ہیں وہ انہیں خود اسرائیلی لابی کے لئے بھی ہضم کرنا مشکل ہو گا ،یہی وجہ ہے کہ بیس نکات کے اعلان کے فوری بعد خود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی کہا کہ ہم فلسطینی ریاست تسلیم نہیں کریں گے ،دوسری جانب نکات میں دیکھا جائے تو اس میں اصل فریق کا بھی ذکر نہیں، اصل مسئلہ تو حماس، فلسطین اتھارٹی اور عربوں کے درمیان ہے اگر وہ اس معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ،اس طرح سے تو اسرائیلی فلسطینی سرزمین پر ایک ناجائز ریاست کے طور پر موجود ہوگا اور اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ یہ سب کچھ ابراہیمی معاہدے کی ہی ایک شکل ہے ۔دوسری جانب اسرائیل کا طرز عمل دیکھا جائے تو وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے وہ تو بھوکے پیاسے فلسطینیوں کے لئے جانے والے فلوٹیلا پر بھی حملہ کرتا ہے اور امدادی کارکنوں کو اپنا اسیر بنا لیتا ہے سامان پر قبضہ کر لیتا ہے اس پر کوئی دباؤ نہیں وہ تو عالمی قوانین اور ضابطوں کو توڑتا نظر آتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں اور اب جو صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلم ممالک کی مشاورت پر مبنی فارمولہ سامنے آیا تھا وہ بھی کارگر بنتا نظر نہیں آ رہا،غزہ پر ایسا قابل قبول فارمولہ سامنے لانا پڑے گا، جس پر فریقین اتفاق رائے کر سکیں، اس لئے کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اس سے صرف نظر برتنا مجرمانہ طرز عمل کہلائے یہ الزام کوئی اپنے سر پر نہیں لینا چاہتا اس وقت کی بڑی ضرورت جنگ بندی اور غزہ کا محاصرہ توڑتے ہوئے خوراک کی فراہمی ہے تاکہ یہاں سے قحط اور فاقہ کشی کی صورتحال کا تدراک کیا جائے اور اس حوالہ سے دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور اس میں بڑا کردار خود امریکی صدر ٹرمپ ہی ادا کر سکتے ہیں ، انہوں نے اس حوالہ سے کسی حد تک سنجیدگی دکھائی ہے ،جہاں تک ان کی جانب سے آنے والے نکات کا تعلق ہے تو یہ کوئی فائنل ڈرافٹ نہیں وہ خود کہہ ر ہے ہیں کہ یہ ان کے نکات ہیں لہٰذا ان نکات کو قابل عمل بنانے کے لئے انہیں اپنی مشاورت کا سلسلہ وسیع کرنا چاہئے اور اگر امریکی صدر غزہ میں جنگ بندی کے ساتھ فلسطین اور فلسطینیوں کے مستقبل کے حوالہ سے کوئی کردار ادا کرینگے تو ان کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور امن کا نوبل پرائز ان کے نام ہونے کے ساتھ دنیا میں ان کی پہچان ایک امن دوست امریکی صدر کی ہوگی۔
ٹرمپ کے 20 نکات پر مسلم ممالک کے بھی تحفظات ہیں

Leave a Reply